جنرل باجوہ وزیراعظم ہاؤس میں زیادہ گفتگو کرنے سے دراصل کیوں گریزاں ہیں؟ فواد چودھری کے بیان کے بعد مبینہ ہیکر کا نیا پیغام آگیا

جنرل باجوہ وزیراعظم ہاؤس میں زیادہ گفتگو کرنے سے دراصل کیوں گریزاں ہیں؟ ...
جنرل باجوہ وزیراعظم ہاؤس میں زیادہ گفتگو کرنے سے دراصل کیوں گریزاں ہیں؟ فواد چودھری کے بیان کے بعد مبینہ ہیکر کا نیا پیغام آگیا

  

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنمافوادچودھری نے انکشاف کیا تھا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ نے عمران خان سے ایک بار نہیں کئی بار کہا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں بات کرنا محفوظ نہیں آرمی چیف نے عمران خان کو کہا تھا کہ وزیراعظم ہاو ٔس کوڈی بگ کرنا چاہیے۔ ان کے اس دعوے کے بعد اب حلقۂ اقتدار تک رسائی رکھنے والے لوگوں کی آڈیوز لیک کرنے والے مبینہ ہیکر نے بھی نیا پیغام جاری کردیا۔

مبینہ طورپر آڈیو لیک کرنیوالے ہیکر کے اکاﺅنٹ سے کہاگیا ہے کہ 2 اسلامی ممالک جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے، ان میں سے چھوٹے ملک نے بڑے ملک کو یہودی ریاست سے کنٹرولڈسافٹ ویئر حاصل کرنے میں سہولت فراہم کی، چھوٹے ملک کی سربراہی ایک خاتون کرتی ہے۔

اس نے دعویٰ کیا ہے کہ سٹریٹیجک پلانز ڈویژن، سگنل کور،آئی ایس ایس آر اے، آئی ایس آئی ، اورپی ایس ٹو سی او اے ایس کے افسران پر مشتمل ایک وفدنے خریداری کے لیے باضابطہ طورپر چھوٹی ریاست کا خفیہ دورہ کیا، آلات اور تربیت دونوں معاہدے کا حصہ تھے۔

سلسلہ وار ٹوئیٹس میں ہیکر نے مزید بتایا کہ اہم بات یہ ہے کہ فوجی اعلیٰ کمان نے آئی ایس آئی کو اس منصوبے میں واحد آپریٹنگ باڈی ہونے پر بھروسہ نہیں کیاجو شاید فوج کے ایک طاقتور انٹیلی جنس برانچ کے بارے میں طویل خوف کی طرف اشارہ ہے، وزیراعظم ہاﺅس میں اس طرح کے معاملات کبھی نہیں ہوئے لیکن چند برسوں میں پاکستان میں دلچسپی کے حامل شخص کے زیراستعمال فون میں اسرائیلی کمپنی کا تیارکردہ سافٹ ویئرپیگاسس کردیاگیا، سیاسی سربراہان، ایگزیکٹوز، صوبائی ووفاقی قانون سازوں، سینیٹرز، عدالتی عملہ، صحافیوں، سیکرٹریز، حتیٰ کہ اعلیٰ ودرمیانی شخصیات کی بھی نگرانی کی گئی۔

متعلقہ شخصیات کے موبائل فونز میں ایک ایسا سبسٹریٹ کیاگیا جسے اپنی مرضی کی نگرانی کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ جنرل باجوہ اپنی گفتگو کے حوالے سے وزرائے اعظم کے دفتر میں عجیب طرح سے شک میں ہیں۔

مبینہ ہیکر کا مزید کہنا تھاکہ پیگاسس کا ڈی سنٹرلائزڈ آپریشن فوج کے کسی بھی طبقہ کو دوسرے کو باہر کرنے کی اجازت نہیں دیتاتاہم اس عمل کی وجہ سے بداعتمادی کی فضا ءپیدا ہوگئی اور اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا تاہم فوج میں مختلف سیاسی وفاداریاں رکھنے والے مختلف دھڑوں نے اپنے فائدے کے لیے مختلف آڈیو کے ٹکڑے جاری کرنے شروع کردیئے ۔

ہیکر نے مزید لکھا کہ ایک اہم ذمہ داری نبھانے والے ایک جنرل نے جب موجودہ حکومت کی حمایت میں جارحانہ مہم شروع کی تو اس کا تبادلہ کردیاگیا، اس اقدام سے ایسا خلاءپیداہوا جو آج تک پورا نہ ہوسکا۔

انہوں نے آخر میں یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا جی ایچ کیو میں کوئی الیکٹرانک ڈیوائس یا فون لے جانے کی اجازت ہے؟ کیا وزیراعظم یا وزیر دفاع موبائل فون لے جاسکتے ہیں؟فوج کو ہمیشہ سویلینز پر معلومات کی برتری حاصل ہوتی ہے لیکن اب حالات بدل گئے ہیں، میرے پاس بھی اسی طرح کا آڈیوز اور میٹیریل ڈیٹا موجود ہے ، ہر چیز ہے ، پھر کھیل شروع کریں۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -