سرکاری سکول کےٹرانسفارمر چوری کی خبر کیوں لگائی ؟ تعلیم دشمن عناصر نے صحافی کی انگلیاں توڑ ڈالیں

سرکاری سکول کےٹرانسفارمر چوری کی خبر کیوں لگائی ؟ تعلیم دشمن عناصر نے صحافی ...
سرکاری سکول کےٹرانسفارمر چوری کی خبر کیوں لگائی ؟ تعلیم دشمن عناصر نے صحافی کی انگلیاں توڑ ڈالیں

  

لاہور( ڈیلی پاکستان آن لائن )صوبائی دارالحکومت پنجاب کے مقامی صحافی کو تعلیم دشمن عناصر کیخلاف  خبر لگانا مہنگا پڑ گیا، بااثر افراد نے تشدد کر کے ہاتھ کی انگلیاں توڑ ڈالیں، صحافتی تنظیموں اور مختلف شخصیات نے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس افسوسناک واقعہ کا ذاتی طور پر نوٹس لیں اور صحافی فائز چغتائی پر حملہ کرنے والے درندوں کو فی الفور گرفتارکر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق فیروزوالہ کے علاقہ رانا ٹاؤن درگئی گل میں بچیوں کے سکول سے ٹرانسفارمر چوری ہونے کے بعدمقامی صحافی فائز چغتائی نے سکول کی حالت زار سے متعلق کوریج کی جس پر تعلیم دشمن عناصر کی جانب سے پہلے تو میڈیا کے نمائندوں کو دھمکیاں دی گئیں اور پھر مقامی صحافی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہاتھ کی انگلیاں توڑ دی گئیں۔

جرائم پیشہ عناصر نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول رانا ٹاؤن کے کمروں سے پنکھے، پانی کی موٹر، مین گیٹ، بجلی کی تاریں اور سوئچ بورڈ تک چرا لئے تھے،ان بااثر تعلیم دشمن عناصرکو بے نقاب کرنے پر جرائم پیشہ عناصر مشتعل ہو گئے اورصحافی فائز چغتائی پر اسلحہ کے زور پر بدترین تشدد کیا گیا۔

تشدد کرنے والے شرپسند عناصرکے خلاف تھانہ فیروز والا میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکااور پولیس کی غفلت و نااہلی کی وجہ سے ملزمان نے ضمانتیں کروا لی ہیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ صحافی فائز چغتائی نے علاقے کے بااثرمافیا کی مجرمانہ سرگرمیوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے خبر شائع کی تھی جس کے بعدجرائم پیشہ مافیا کے4سرکردہ افراد جن میں محمد تنویر ، محمد راحیل ، عمران عرف ایمو جٹ اورعتیق الرحمن ولد امین ساکن کوٹ عبدالمالک شامل ہیں، انہوں نے 2 نامعلوم افرادکے ہمراہ سائل کوایک موٹرسائیکل پرزبردستی بٹھایااور پھرایک دکان پرلے گئے جہاں مزاحمت کرنے پر بدترین تشددکا نشانہ بنایا گیااور نہ صرف موبائل اور دیگرقیمتی چیزیں چھین لیں بلکہ تشددکرتے ہوئے  ہاتھ کی انگلیاں بھی توڑ ڈالیں۔

مزید :

قومی -