انتہائی مذہبی گھرانوں میں پیدا ہونے والی فحش اداکارائیں

انتہائی مذہبی گھرانوں میں پیدا ہونے والی فحش اداکارائیں
انتہائی مذہبی گھرانوں میں پیدا ہونے والی فحش اداکارائیں
سورس: Instagram/scarlettjonesofficial

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) فحش فلم انڈسٹری سے کچھ ایسی خواتین بھی وابستہ ہیں، جن کی پرورش انتہائی مذہبی ماحول میں ہوئی۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار نے ایک رپورٹ میں ایسی ہی خواتین کی ایک فہرست بیان کی ہے اور ان میں افغانستان سے نقل مکانی کرکے برطانیہ جانے والی یاسمینہ علی بھی شامل ہے۔ اس رپورٹ کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:۔

یاسمینہ علی

27سالہ یاسمینہ علی اس وقت بچپن میں تھی جب 1990ءکی دہائی میں طالبان اقتدار میں آئے۔ اس کی پرورش انتہائی مذہبی ماحول میں ہوئی۔ بعد ازاں وہ اس ماحول سے فرار ہو کر مغربی دنیا میں گئی اور وہاں نہ صرف اس شرمناک پیشے سے وابستہ ہو گئی بلکہ اسلام چھوڑ کر یہودی مذہب بھی قبول کر لیا تھا۔ 

پوڈ کاسٹ ’آئی ہیٹ پورن‘ (I Hate Porn)کے میزبان ٹومی مکڈونلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمینہ کا کہنا تھا کہ ”میں ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئی جہاں اس وقت ماحول انتہائی سفاکانہ تھا۔ میرے خیال میں میں افغانستان کی واحد لڑکی ہوں جو اس انڈسٹری میں آئی۔ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی نہیں ملا کیونکہ اس دورے کے افغانستان میں خواتین کے لیے تعلیم ممنوع تھی۔ میں نے مردوں اور خواتین کے حقوق میں ایک وسیع فرق دیکھا ہے۔ “

یاسمینہ کا کہنا تھا کہ ”میرے اندر شروع سے ہی باغیانہ خیالات پنپنے شروع ہو گئے تھے۔ یہ اس سفاکانہ ماحول اور مردوخواتین کے درمیان فرق ہی کا شاخسانہ تھا کہ میں اسلام چھوڑ کر ملحد ہوگئی اور یہودیت قبول کر لی۔ میری زندگی اس وقت تبدیل ہوئی جب میری فیملی افغانستان سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچی۔ اس وقت میری عمر9سال تھی۔ برطانیہ میں میں سکول گئی اور وہاں مجھے سیکس ایجوکیشن دی گئی۔“

اس نے بتایا کہ ” زندگی میں پہلی بار جنسی تعلق قائم کرنے کے بعد ہی مجھے جنسیت کی لت پڑ گئی اور میں بتدریج فحش فلم انڈسٹری کی طرف راغب ہوتی چلی گئی اور بالآخر 2016ءمیں اس انڈسٹری سے وابستہ ہو گئی۔طالبان کی طرف سے دھمکیوں کے باوجودمیں فحش فلموں میں حجاب پہنتی ہوں، جس طرح ماضی میں میا خلیفہ پہنتی تھی۔ “ واضح رہے کہ یاسمینہ علی کو اس وقت عالمی سطح پر شہرت ملی تھی جب اس کے باپ اور ایک کزن نے فحش فلم انڈسٹری جوائن کرنے پر قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ 

شارلٹ جونز

25سالہ شارلٹ جونز نامی لڑکی نے کٹڑ کیتھولک مسیحی گھرانے میں پرورش پائی۔ وہ ہر اتوار کو چرچ جاتی اور شادی تک اپنا کنوار پن محفوظ رکھنے پر بھی بخوشی رضامند تھی۔ تاہم جب وہ یونیورسٹی آف شیفیلڈ میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے گئی، اس کے خیالات تبدیل ہونا شروع ہو گئے اور اب وہ فحش فلم انڈسٹری کا حصہ بن چکی ہے اور بالغوں کی ویب سائٹ ’اونلی فینز‘ پر بھی اس نے اکاﺅنٹ بنا رکھا ہے ، جہاں وہ اپنی فحش تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرتی رہتی ہے۔

نیتا میری

46سالہ نیتا میری بھی مسیحی مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی۔ وہ اپنے مذہبی عقائد پر اب بھی عمل پیرا ہے تاہم ساتھ ہی فحش فلم انڈسٹری اور اونلی فینز سے بھی وابستہ ہے۔ اس نے مذہب اور جنسی تعلق کے متعلق متنازعہ بیانات سے زیادہ شہرت حاصل کی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اونلی فینز سے ماہانہ ایک لاکھ پاﺅنڈ سے زائد کما رہی ہے۔

لیکسی لکس

لیکسی لک بھی ایک ’نن‘ ہوا کرتی تھی مگر پھر اس نے مذہب کو چھوڑ کر فحش فلم انڈسٹری میں کام شروع کر دیا۔ اس مقصد کے لیے وہ برطانیہ سے امریکہ کے شہر لاس اینجلس منتقل ہو گئی۔ لیکسی لکس کا کہنا ہے کہ 20سال کی عمر تک میں ہر ہفتے 4گھنٹے مذہبی کتاب پڑھتی تھی اور اپنا کنوار پن بھی سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ تاہم پھر میں نے فحش فلم انڈسٹری میں کیریئر شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور میں اپنے اس پیشے پر بھی فخر کرتی ہوں۔

لنزے کیپوانو

23سالہ لنزے کیپوانو مسیحی مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئی اور کیتھولک پرائیویٹ سکول میں تعلیم حاصل کی۔ ہر بدھ کو وہ اپنی کلاس کے ساتھ اور اتوار کو اپنی فیملی کے ساتھ چرچ جاتی اور عبادت کرتی تھی۔ تاہم اب وہ اونلی فینز پر فحش ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم سے ماہانہ 1لاکھ 46ہزار پاﺅنڈ کما رہی ہے۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -