نیب افسران کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات، عدالت نے انکوائری کمیشن کو کارروائی سے روک دیا

نیب افسران کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات، عدالت نے انکوائری کمیشن کو ...
نیب افسران کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات، عدالت نے انکوائری کمیشن کو کارروائی سے روک دیا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو(نیب) لاہور کے سابق ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم اور دیگر کے خلاف جنسی ہراسگی کے الزام کی تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیشن کو کارروائی سے روک دیا۔ ڈیلی ڈان کے مطابق شہزاد سلیم اور دیگر عہدیداروں کے خلاف جنسی ہراسگی کا یہ مقدمہ طیبہ گل نامی خاتون کی طرف سے درج کرایا گیا تھا۔ چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے شہزاد سلیم کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد حکم امتناع جاری کیا۔

وکیل نے استدلال کیا کہ انکوائری کمیشن نے درخواست گزار کو 27ستمبر کو نوٹس جاری کیا تھا، جس میں انہیں 28ستمبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کو کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن کی طرف سے جاری کردہ نوٹس اور اس پر سماعت غیرقانونی اور دائرہ اختیار سے باہر ہے۔قومی احتساب آرڈیننس 1999ءکے سیکشن 36کے تحت نیب حکام کی حیثیت سے نیک نیتی سے کی گئی تمام کارروائیوں کو قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

ان دلائل کے بعد چیف جسٹس نے انکوائری کمیشن کی موجودہ کارروائی پر حکم امتناع جاری کر دیا اور فریقین کو 18اکتوبر تک جوابات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ قبل ازیں عدالت انکوائری کمیشن کو تحقیقات کا سامنا کرنے والے نیب کے چار عہدیداروں کے خلاف جبری اقدامات کرنے سے بھی روک چکی ہے۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -