انسان کامل ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(حصہ دوئم) 

    انسان کامل ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(حصہ دوئم) 
    انسان کامل ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(حصہ دوئم) 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 عظمت انسانی کے جتنے ماڈل، جتنے نمونے، جتنے کردار اس کائنات میں جنم پذیر ہوئے، جتنے مظاہر خلق خدا نے ملاحظہ کیے، کسی ایک کا بھی تاجدار ختم نبوت، سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی تقابل کوئی موازنہ یا کوئی مقابلہ ممکن ہی نہ ہے۔ ازل سے ابد تک جتنے بھی انسان اس دنیا میں پیدا ہوئے یا ہوں گے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا دوسرا نہ کوئی پیدا ہوا ہے نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اربوں کھربوں انسان پیدا کیے،مگر انسان اکمل جنہیں اخلاق کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کیا وہ تو صرف  ہمارے آقا کریم ہی تھے۔ اللہ تعالیٰ خود جن کے لئے قرآن کریم میں فرما رہے ہیں، کہ اے نبی میں نے آپ کو خلق عظیم پر پیدا کیا ہے۔ آپ کا اسوہ حسنہ سب سے بہتر اور سب کے لئے لائق تقلید بھی ہے۔ جب اللہ تعالٰی خود فرما دیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری انسانیت کے لئے رحمتہ اللعالمین ہیں اور آپ کی پیروی اور اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے۔ تو اس انسان کامل کی سیرت پر تو مہر خدا وندی ثبت ہو جاتی ہے۔

یہ اعلیٰ و ارفع مقام سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچانک نہیں ملا۔ اعلانِ نبوت سے پہلے کے چالیس سال بھی تو انہی کفار مکہ میں گزرے تھے۔ اگر وہ آپ کے کردار میں کوئی جھول یا کمی دیکھتے تو اعلان نبوت پر ہی وہ سارے راز فاش کر دیتے یا آپ کی ذات پر تنقید کرتے، مگر یہاں تو معاملہ الٹ تھا، مشرکین اور کفار مکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے تو انکار کر رہے تھے، انہیں پیغام توحید پر تو بہت سے اعتراضات تھے، وہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر طرح کی ذہنی اور جسمانی اذیتیں تو دے رہے تھے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایک بھی الزام آپ کی ذات پر، آپ کے کردار پر، آپ کے گزرے ماضی پر نہ لگا سکے۔ لگاتے بھی کس طرح کہ اس پاکباز و عفیف، حیا دار اور ہمدرد نوجوان کی عین اس بہکنے والی عمر میں بھی کوئی ایک ایسا واقعہ، کوئی ایسا معاملہ، کوئی ایسی حرکت قابل گرفت نہ تھی۔ نوجوانی بھی بے داغ تھی، نوجوانی کا عرصہ بھی عام نوجوانوں سے مختلف گزرا، نہ کوئی پشیمانی نہ پچھتاوا۔ آپ نے تو اس نوجوانی میں بھی حلف الفضول جیسی اصلاح پسند تحریک کا آغاز کرکے غریبوں اور مظلوموں کے خلاف ہونے والی چیرہ دستیوں اور استحصال کو روکنے کی شعوری کوشش کی۔

آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوانی میں ہی بصیرت ملاحظہ کریں کہ جب تعمیر کعبہ کے موقع پر حجر اسود کو دوبارہ نصب کرنے کا موقع آتا ہے اور قریش میں یہ سعادت حاصل کرنے کے لئے تلواریں میانوں سے باہر آجاتی ہیں تو اسی نوجوان کی بصیرت اور فہم و فراست کام دکھاتی ہے اور اتنا بڑا تنازعہ نہایت خوش اسلوبی سے طے پا جاتا ہے۔      

اسی  پاکیزہ اور بے داغ نوجوانی میں جب وہ تجارت کرتے ہیں تو ایمان و صداقت اور دیانت و راست بازی کا پیکر بن کر ابھرتے ہیں کہ اس عظمت کردار سے متاثر ہو کر مکہ کی سب سے متمول اور باوقار خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نوجوان کو نکاح کا پیغام بھیجتی ہیں۔ کردار کی پختگی ملاحظہ فرمائیے کہ یہ رشتہ مناکحت مکہ کی ایک باوقار اور حیادار بیوہ سے جوڑا جا رہا ہے۔ نکاح کا پیغام جن کی طرف سے جا رہا ہے وہ مکہ کے ایک معزز خاندان سے اور امیر ترین عورت ہیں اور وہ اس نوجوان کے حسن کردار اور دیانت و امانت کی گرویدہ ہیں۔ یہ ہے وہ سیرت النبیؐ جس پر آج غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، جس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ آج ہمارا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ ہمارے قول و فعل میں تضادات ہیں۔ ہم کہتے کچھ ہیں عمل اسکے برعکس کرتے ہیں۔ تنگ نظری، منافقت،جھوٹ،ریاکاری،دھوکا بازی،عدم برداشت،منافرت اور نہ جانے کیا کیا اخلاقی بیماریاں ہم میں سرایت کر چکی ہیں۔ ہمارے سامنے تو اس نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہئ حسنہ تھا، جن کو لوگوں نے جم غفیر میں بھی دیکھا اور کنج عزلت میں بھی، رزم میں بھی دیکھا اور بزم میں بھی، میدان جنگ میں دیکھا اور مسجد نبوی کی چار دیواری میں بھی، جنہیں لوگوں نے تجارت کرتے ہوئے بھی دیکھا اور معاملات زندگی میں بھی، وہ ہر آن اور شان میں نرالا اور منفرد نکلا۔ کوئی انگلی شان اقدس میں کسی خامی یا کمی کی طرف نہ اٹھ سکی،بلکہ جو بھی ملا وہ گرویدہ ہو کر رہ گیا۔ دشمن بھی اس حسن کردار سے دوست بنتے چلے گئے۔ ہر ملنے والا چشم دل تازہ، تسکین و طمانیت اور مشام روح کا سامان لے کر اُٹھا اور پھر اس در اقدس سے واپس نہیں لوٹا۔         

کرادر کی عظمت اور پختگی کی اَن گنت  ناقابل فراموش داستانیں ہیں جو آقا کریم کے شب و روز کے افکار و کردار سے جھلکتی ہیں جو قابل فخر بھی ہیں اور قابل تقلید بھی۔ وہ سارے اعلیٰ حسن اخلاق کی مثالیں اور اسوہ حسنہ ہمارے سامنے تو ہے کہ کس طرح دشمنوں کے بھی دل جیتے جاتے تھے مگر ہم تو اس راہ سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن اخلاق سے ایک یہودی بچہ اتنا متاثر ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو مرتبہ اسکے گھر جاتے ہیں، مگر اس بچے کا یہودی باپ آپکے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے گھر میں داخل نہیں ہونے دیتا۔ وہ بچہ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملتا ہے اور گھر نہ آنے کا گلہ کرتا ہے، آپ اس بچے کا دِل رکھنے کے لئے اسے یہ نہیں بتاتے کہ تمہارے باپ نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور پھر تیسری مرتبہ بھی اس کے گھر تشریف لے جاتے ہیں، تو وہ یہودی جب آپ کو اپنے دروازہ پر پھر دیکھتا ہے تو پکار اٹھتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم ہی نبوت کے حقدار ہو، یہ تاج نبوت تجھ پر ہی سجتا ہے، اتنی بردباری، اتنا حوصلہ، اتنا تحمل، اتنی برداشت، کسی نبی میں ہی ہو سکتی ہے۔ سبحان اللہ۔

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عالی ظرفی، بلند حوصلگی، بیگانوں کے لئے جذبہ خیر خواہی، بے مثل تواضع اور انکساری، مصائب و مشکلات کے ہجوم  میں صبر اور صبر میں بردباری اور اخلاق عالیہ اور اعمال صالحہ کی ایسی خوش گوار رعنائیاں کہ عقل و فہم ششدر نظر آتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معا شرہ سے ہر قسم کے ظلم و ستم کا خاتمہ کیا، زندگی کے ہر شعبے میں ایسا نظام نافذ کیا کہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، تبلیغ اسلام میں بھی اور تنفیذ احکام میں بھی،امیر و غریب میں بھی اور شاہ و گدا میں بھی اور  رومی و عجمی میں بھی سب فرق ختم کر دیے۔ تاریخ انہیں  ہی ریاست مدینہ کا والی اور تاجدار سمجھتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -