ترقیاتی رقم کی آڈٹ رپورٹ اورتین لاپتہ افراد کو دومئی تک عدالت پیش کرنے کا حکم،عوامی نمائندے بھی ذمہ داری نبھائیں، مشرقی پاکستان کو ابھی رورہے ہیں: سپریم کورٹ

ترقیاتی رقم کی آڈٹ رپورٹ اورتین لاپتہ افراد کو دومئی تک عدالت پیش کرنے کا ...
ترقیاتی رقم کی آڈٹ رپورٹ اورتین لاپتہ افراد کو دومئی تک عدالت پیش کرنے کا حکم،عوامی نمائندے بھی ذمہ داری نبھائیں، مشرقی پاکستان کو ابھی رورہے ہیں: سپریم کورٹ

 

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے کوئٹہ کے چھ ممبران صوبائی اسمبلی کو ملنے والی ترقیاتی رقم کی فرانزک آڈٹ رپورٹ اورشالکوٹ ، جناح ٹاﺅن سے اغواءہونے والے تین افراد کو دومئی تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ عوامی نمائندوں کو بھی بلوچستان میں اپنی ذمہ داریاں اداکرنی چاہیں۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ اللہ نے اتنی توفیق دی کہ انصاف دے سکیں، لاپتہ افراد کے بچوں کو دیکھ کر آنسو نکل آتے ہیں ،رات کو نیند نہیں آتی۔چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ کی غلط بیانی پر اُن کی سرزنش کی اور آئی جی بلوچستان سے کہاکہ لاپتہ افراد پرسوں تک بازیاب نہ ہوئے تو سب جیل میں ہوں گے۔سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ بلوچستان امن وامان کیس کی سماعت کررہاہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال کہاں بہترہوئی،این جی او کے ڈاکٹر کی لاش ملی ،ایک وکیل اغواءہوا۔ڈاکٹر کی لاش جنیوا جائے گی تو کیاپیغام ملے گا؟ عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ چھ اپریل کے بعد کتنے لوگ اغواءہوئے اور اُن میں سے کتنے لوگ واپس ملے ؟کلی اسماعیل سے لاپتہ ہونے والے چار افراد کو عدالت میں پیش کیاگیااوراٹارنی جنرل بلوچستان نے بتایاکہ گیارہ اپریل کو شالکوٹ اور جناح تاﺅن سے تین افراد اغواءہوئے ،لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بہت کوشش کی ۔چیف جسٹس نے اِن افراد کو دومئی تک بازیاب کراکرعدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس میں کہاکہ کمزور ہیں ، اللہ نے ہمیں اتنی توفیق دی کہ لوگوں کو انصاف دیں۔اُنہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد کے بچوں کو دیکھ کر ہماری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں ۔عدالت نے آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ لاپتہ افراد پرسوں تک بازیاب نہ ہوئے تو سب اندر ہوں گے۔چیف جسٹس نے کہاکہ لاپتہ افراد کیس کے علاوہ کسی دوسرے کیس سے دلچسپی نہیں ،پہلے کوئٹہ میں دوتھانے تھے تو امن تھالیکن اب اتنے تھانوں کے باوجود شہرپرامن نہیں۔جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ بڑی کرسیوں پر بیٹھے افراد کو احساس نہیں کہ ملک کا ایک حصہ جل رہاہے ،ہم آج بھی مشرقی پاکستان کو رورہے ہیں ،لاپتہ افراد کیس سنتے ہیں تو رات کو نیند نہیں آتی۔چیف جسٹس نے کہاکہ آئی جی اور ڈی آئی جی آپریشن نے چاہاتو لاپتہ افراد بازیاب ہوگئے ۔جسٹس خلجی نے کہاکہ حکومت کو بھی احساس دلائیں تاکہ وہ بھی کچھ کرے۔عدالت نے آئی جی بلوچستان سے کہاکہ اُنہیں حالات ٹھیک کرنے کا اختیارہے ،کرسکتے ہیں ،ایف سی اور پولیس کو بٹھائیں اوراُن سے بات کریں۔زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ،جائیں اور کارکردگی دکھائیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ مسخ شدہ لاشوں سے نفرتیں پھیلتی ہیں ،اِن لاشوںذمہ دار کون ہے؟سیکرٹری داخلہ نے بتایاکہ جتنی لاشیں مل رہی ہیں ،اُن کے مقدمات درج ہورہے ہیں ۔عدالت نے کہاکہ اگرانسانی حقو ق پرہی عمل کرلیاجاتاتوورثاءعدالتوں میں نہ آتے ۔جسٹس طارق پرویزنے کہاکہ خواتین کا ردعمل دیکھا،مردآئیں گے تووہ کیاکریں گے ؟چیف جسٹس نے کہاکہ بلوچستان میں غربت اورلاچاری ہے ،خاتمے کے لیے لوگوں تک پہنچناہوگا۔چیف جسٹس نے کہاکہ نے سیکرٹری داخلہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچسان کا سیاسی حل ہوناچاہیے اور عوامی نمائندوں پر بھی ذمہ داری ڈالیں،چھ ایم پی اے ہیں لیکن کوئی کام نہیں ہورہا۔جسٹس خلجی عارف ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات کو مخاطب کرتے ہوئے استفسارکیاکہ ایم پی ایز کو کتنے پیسے ملے ہیں ؟ اُن میں سے آدھی رقم بھی خرچ ہوئی ؟ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بتایاکہ چارسال میں چھ ممبران صوبائی اسمبلی کو دوارب چالیس کروڑ روپے ملے اور خرچ ہوئے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ گاڑی لے کر جائیں اور ساراشہرگھومیں ،دیکھ کر آئیں کہ رقم کہاں خرچ ہوئی ؟ عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ اتنے بڑے پر فائزہونے کے باوجود غلط بیانی کررہے ہیں ۔عدالت نے اُنہیں دو مئی تک ممبران صوبائی اسمبلی کو ملنے والی رقم کی فرانزک آڈٹ کراکررپورٹ پیش کرنے کاحکم دے دیا۔سیکرٹری داخلہ نے بتایاکہ کوئٹہ کے لیے تین سیکیورٹی پلان ترتیب دیے گئے ہیں ،جرائم ہورہے ہیں لیکن اُن میں کمی وقع ہوئی ہے ۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کوئٹہ کے علاوہ مستونگ اور قلات میں بھی حالات خراب ہیں لیکن سیکیورٹی پلان صرف کوئٹہ کے لیے ہی کیوں بنائے جاتے ہیں ،اغواءکا سلسلہ مکمل ختم کب ہوگا؟

مزید : علاقائی /Headlines

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...