سترہویں ترمیم نواز شریف کے لیے لائی، ایوان چلانا اپوزیشن لیڈر نہیں سپیکرکا کام ہے ، صبر سے کام لیں، پیپلزپارٹی اپنے منشور پر 80فیصدعمل کرچکی : وزیراعظم گیلانی

سترہویں ترمیم نواز شریف کے لیے لائی، ایوان چلانا اپوزیشن لیڈر نہیں سپیکرکا ...
سترہویں ترمیم نواز شریف کے لیے لائی، ایوان چلانا اپوزیشن لیڈر نہیں سپیکرکا کام ہے ، صبر سے کام لیں، پیپلزپارٹی اپنے منشور پر 80فیصدعمل کرچکی : وزیراعظم گیلانی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم گیلانی نے کہاہے کہ سترہویں ترمیم صرف ایک شخصیت کی خاطر کی گئی ، عمران خان کے ڈر سے ن لیگ نے جلد بازی کی لیکن اب شارٹ مارچ بھی نہیں ہوسکتا۔میاں نواز شریف نوسال مجرم رہے لیکن آج ایک منٹ بھی دینے کو تیارنہیں ،ایوان چلانا چوہدری نثار کا نہیں بلکہ سپیکر کاکام ہے ۔ پیپلزپارٹی کے منشور پر 80فیصدعمل ہوچکااور وہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے ۔زیڈاے بخاری آڈیٹوریم میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کاکہناتھاکہ پیپلزپارٹی کے منشور پر 80فیصد عمل ہوچکاہے اور ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی اور اتحادیوں نے 80فیصدسیٹیں جیتیں اورخوشی ہے کہ پارٹی منشور کے مطابق عمل درآمد کررہے ہیں ۔اُنہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی آئین کی پاسداری کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی ۔وزیراعظم نے کہاکہ اُن کے دورمیں بھرتی کیے گئے لوگوں کو نواز شریف نے نکالاتھالیکن اب وہ نواز دور میں بھرتے کیے گئے ملازمین کو مستقل کیاجارہاہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں کو بلدیاتی انتخابات کی ہدایت کی جس پر صوبوں نے عمل نہیں کیالیکن وہ عمل کرکے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے ۔وزیراعظم نے کہاکہ وہ چوہدری کاکام آسان کردیں گے لیکن ایوان کو چلاناسپیکرکاکام ہے،اپوزیشن لیڈریاوزیراعظم کانہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ تھرٹی سیکنڈ کی سزا گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آئے گی اور اُس کا نااہلی سے کوئی تعلق نہیں ،کوئی ایسا قانون نہیں جس کے تحت عدلیہ نااہل قراردے دے ۔وزیراعظم نے شعرپڑھتے ہوئے ”بے خودی بے سبب نہیں ،،کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“ ،کہاکہ قیدی کو سز اکی کاپی بھی نہیں دی گئی اور فیصلہ آنے سے پہلے وہ کیسے جاسکتے ہیں ،وہ ن لیگ کے نہیں بلکہ عوام کا نمائندہ ہیں ۔ایک طرف عدالتیں اور دوسری طرف شریف کورٹس موجود ہیں ،دونوں طرف نہ گھسیٹیں جبکہ میاں صاحب خود نوسال تک مجرم رہے اور بعدازاں کہنے لگے کہ سزاکامعاہدہ تو پانچ سال کا ہواتھا لیکن اب ایک منٹ بھی دینے کو تیار نہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ تین مرتبہ سپریم کورٹ چل کرجانا اُن کا عدالتوں کا احترام کا ثبوت ہے اور وہ پھر بھی عدالتوں کا احترام کرہیں گے لیکن اپوزیشن صبر سے کام لے ،پیپلزپارٹی کے کارکنان سے زیادہ بڑی تحریک کوئی نہیں چلاسکتا۔اُنہوں نے کہاکہ سب سے پہلے تو نواز شریف نے جدہ جانے کے لیے این آر او پر دستخط کیے اور میموکیس میں جا کر کیاکیا؟وزیراعظم نے کہاکہ اُنہوں نے دس سال جیل کاٹی اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں اُن کے پانچ سال اور مشقتی کے دس سال ایک ہی دن مکمل ہوئے جب کہ اُن کے مشقتی نے قتل اور ڈکیتیاں کی تھیں لیکن اُنہوں نے پاکستانیوںکونوکریاں دی تھیں لیکن وہ پوچھناچاہتے ہیں کہ اڈیالہ جیل سے جدہ تک کا سفر کس عدلیہ کے فیصلے کے تحت ہواتھا۔اُنہیں بھی معاہدے کرنے کو کہاگیاتھالیکن ’انا کی بات تھی ورنہ پلٹ گئے ہوتے ‘۔اُنہوں نے کہاکہ اپیل اُن کاک حق ہے ،اُس کے بعد وہ سپیکر کو بھیجیں گے جن کاکہناماناجائے گااور نہ ہی یوسف رضاگیلانی کوئی نوکری پیشہ ہے ، پی پی بھٹو کے بعد بھی زندہ ہے ۔یہ اختتام نہیں بلکہ آغا ز ہوا۔وزیراعظم نے ایک پی پی کے سابق لیڈر کے بیان کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اخلاقی بنیاد کونسی ہے،وہ کسی اخلاقی جرم میں مجرم نہیں بنے ،نہ ہی چوری کی ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا گناہ ۔وزیراعظم نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم کے وقت میاں نوازشریف نے کہاکہ سترہوں ختم کردیں ،اٹھارہویں کی منظوری مشکل ہے لیکن سب کو ساتھ لے کر اُنہوں نے منظورکروائیں ۔ سترہویں ترمیم کسی صوبے کے لیے نہیں بلکہ میاں نواز شریف کی ذات کے لیے تھی ۔ میںسب کوساتھ لے کر چلناچاہتاہوں ۔انہوں نے کہاکہ اُن پر لگائی گئی فرد جرم کی سزا نہیں دی گئی اور اب قوم فیصلہ کرے گی کہ کون درست ہے ،دنیا بھی سزا پر حیران ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ اُن کا کیس فوراً نمٹادیاگیالیکن مہران گیٹ وغیرہ کے کیس کا فیصلہ بھی ہوناچاہیے ۔ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہاکہ اپوزیشن سے عمران خان اچھاہے کیونکہ اُس نے کہاکہ تفصیلی فیصلہ آنے پر لائحہ عمل طے کریں گے جبکہ ہاشمی صاحب نے بھی کہاکہ کوئی جلدی نہیں ۔اصل میں مسلم لیگ ن کو عمران کاڈر تھا ،جس پر لانگ مارچ کا اعلان کردیااور اب شارٹ مارچ بھی نہیں ہوسکتا۔اُنہوں نے کہاکہ بری امام صاحب کے مقبرے میں ہونے والی بے حرمتی کی وہ مذمت کرتے ہیں اور اگر کوئی بے حرمتی ہوئی تو ایکشن لیں گے ۔ڈرون حملوں سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہاکہ پارلیمنٹ کی قرارداد میں ایک لائحہ عمل دیاگیاہے کہ اِن سفارشات کی روشنی میں بات کی جائے لیکن ابھی مشاورت ابتدائی مراحل میں ہے ۔موسی گیلانی کیس سے متعلق اُنہوں نے کہاکہ وہ جنوبی افریقہ سے واپس آچکے ہیں ،اے این ایف کے سامنے پیش بھی ہوئے اور اب عدالت ہی فیصلہ کرے گی ۔

مزید : سیاست /اہم خبریں