بھارتی انتخابات اور انڈین آرمی کی بِپتا (2)

بھارتی انتخابات اور انڈین آرمی کی بِپتا (2)
بھارتی انتخابات اور انڈین آرمی کی بِپتا (2)

  



اگر کوئی سابق وائس چیف آف آرمی سٹاف اپنی ہی فوج کے بارے میں یہ کہے کہ اس کی حالت ِ زار کسی شرمناک شکست سے مختلف نہیں اور دوسرے بہت سے ریٹائرڈ جرنیل بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائیں تو ان کے استدلال میں کچھ نہ کچھ حقیقت تو ہوگی۔ اس تناظر میں انڈین آرمی کے جنرل وجے (Vijay) کا یہ جملہ دیکھئے: ” آج انڈین آرمی کا یہ حال ہے کہ وہ1962ءکی شکست کی حدوں تک پہنچ چکی ہے اور اس کی وجوہات بھی وہی ہیں جو1962ءکی شکست کی تھیں“۔

کانگریس کے گزشتہ دس سالہ دور کو جنرل وجے نے بالخصوص ہدفِ تنقید بنایا ہے اور لکھا ہے: ”پچھلے دس برسوں میں ملٹری (یعنی اس کی تینوں شاخیںآرمی، نیوی اور ائر فورس) کو بہت کم فنڈز دیئے گئے اور اس کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ یہ سارے فنڈ، سیاسی لوگوں کو خوش کرنے کے لئے عوامی بہبود کے نام پر ایسے منصوبوں پر خرچ کئے گئے جن میں کرپشن کے زیادہ سے زیادہ مواقع نکل سکتے تھے۔ ملٹری کو ماڈرنائز کرنے کے لئے کچھ بھی نہ کیا گیا، قومی سلامتی کی پالیسی کے منصوبوں کو شروع کرنے کا نام ہی نہ لیا گیا اور سیاسی قوت کے بل بوتے پر مسلح افواج کی پروفیشنل تمناﺅں کا خون کر دیا گیا۔“

یہاں پہنچ کر یہ بھارتی جرنیل جو جملہ لکھتا ہے اس کا لبِ لباب بالکل وہی ہے جس کی حساسیت کے بارے میں پاکستانی ملٹری حالیہ ایام میں پاکستانی عوام اور حکومت کو خبردار کرتی رہی ہے۔ اس نے لکھا ہے: ”مسلح افواج کا مورال پست ترین حدوں کو چھو رہا ہے اور بھارت اپنے دشمنوں کی طرف سے خوفناک خطرات میں گِھر چکا ہے۔“

جنرل وجے نے اگرچہ دشمنوں کا نام نہیں لیا، لیکن کون نہیں جانتا کہ بھارت کا دشمن نمبر ایک کون ہے؟ یہ وہی ”مَیں اس کا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں“ والی بات ہے۔ پاکستان اور چین دونوں بھارت کے لئے اس کے دشمن ہیں۔ لیکن اس کا اصل دشمن چین نہیں کہ چین کے ہاتھوں تو وہ ایک شکست کھا چکا ہے۔ لیکن پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ اسے ایک بار شکست دے چکا ہے اور تین ایسی جنگیں لڑ چکا ہے جن کا کچھ نتیجہ نہیں نکلا۔ انڈین ملٹری کے بہت سے سینئر آفیسرز یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ چین کی شکست کا بدلہ، پاکستان کو ”صرف“ ایک شکست دے کر نہیں لیا جا سکتا!

مندرجہ بالا موضوعات پر نقد و نظر کرنے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل(ر) وجے ابرو نے بڑی تفصیل سے انڈین ملٹری کے ایک ایک شعبے میں پائی جانے والی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ سپیس کی تنگی کی وجہ سے ہم صرف انڈین آرمی کی بات کریں گے۔ نیوی اور ائر فورس کا ذکر طولِ کلام کا باعث بنے گا۔ جنرل صاحب لکھتے ہیں:

”مائی ڈیئر فیوچر وزیراعظم!

جہاں تک کسی عسکری شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا سوال ہے تو انڈین آرمی اس کے فقدان سے شدید ترین طور پر متاثر ہوئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کا بجٹ سال بہ سال کم کیا جاتا رہا ہے۔ آج جو کچھ آرمی (Army)کو دیا جا رہا ہے، اس سے تو اس کا ”ریونیو خرچہ“ بھی پورا نہیں ہوتا، جدید ہتھیار اور عسکری سازو سامان کہاں سے خریدا جائے گا؟ کسی بھی آرمی (Army) کے دو شعبے ایسے ہوتے ہیں جن کو لڑاکا (Fighting)شعبے کہا جاتا ہے یہ شعبے انفنٹری اور آرمر کہلاتے ہیں۔ ان دونوں کی حالت ِ زار دیدنی ہے۔ .... کاغذوں پر تو آج انڈین آرمی کے پاس 3274 ٹینک ہیں۔ لیکن اس تعداد سے دھوکہ نہ کھایئے کیونکہ ان میں سے صرف485 ٹی۔90 اور 124ارجن ٹینک ایسے ہیں جن کو ایک حد تک ماڈرن کہا جا سکتا ہے کہ ان کا بھی حال یہ ہے کہ ان میں مختلف قسم کی قلّتیں اور کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً رات کے وقت جنگ لڑنے کی ان کی صلاحیت برائے نام ہے، ان میں استعمال ہونے والا ایمونیشن (گولہ بارود) ہمارے پاس ناکافی ہے اور فاضل پرزہ جات کی شدید کمی ہے۔ ان ٹینکوں کے ہمراہ جو میکانائزڈ گاڑیاں میدان جنگ میں جاتی ہیں، ان کے سازو سامان کا حال بھی ابتر ہے۔ جو ٹریک دار گاڑیاں برسوں پہلے تبدیل کر دینی چاہئے تھیں، تبدیل نہیں کی گئیں۔ یہ بوڑھی بکتر بند گاڑیاں اور بوڑھے ٹینک کب تک بھاگ سکیں گے؟“

”ہماری انفنٹری کا حال ان سے بھی بُرا ہے۔ انفنٹری کے شعبے کو کسی بھی آرمی (Army)کی ریڑھ کی ہڈی شمار کیا جاتا ہے۔ ہماری پیادہ یونٹوں کے افراد کے پاس جو رائفل ہے اس کا نام انساس (INSAS) ہے۔ لیکن یہ رائفل جدید افواج میں عرصہ ہوا، متروک ہو چکی ہے۔ ہم نے بڑے عرصے تک شور مچائے رکھا کہ ہم اپنے انفنٹری سولجر کو ”سٹیٹ آف دی آرٹ“ اسلحہ سے لیس کر دیں گے مگر یہ سب کہنے کی باتیں تھیں۔ آج ہماری انفنٹری کے پاس کار بائن رائفلوں، مشین گنوں، ٹینک شکن رائفلوں، بارودی سرنگوں سے بچنے والی گاڑیوں، رات کے اندھیرے میں دیکھنے والے آلات، بُلٹ پروف جیکٹوں اور اسی قسم کے دیگر سازو سامان کی شدید قلت ہے۔ ہماری سپیشل فورسز اور ائر بورن فورسز گراﺅنڈ پر تو موجود ہیں لیکن نہ تو ان کے پاس مطلوبہ اسلحہ جات ہیں اور نہ ہی وہ سازو سامان ہے جو دنیا بھر کی افواج میں کمانڈو یونٹوں اور ائر بورن رجمنٹوں کے پاس ہوتا ہے۔“

ہمارا پاکستانی میڈیا بات بات پر بھارت کی مثالیں دینے میں پیش پیش رہتا ہے۔ لیکن مَیں حیران ہوں کہ ہماری سوسائٹی میں جس کرپشن اور اقربا پروری کا نقارہ پیٹا جاتا ہے بالکل یہی حال بھارت کا بھی ہے بلکہ وہاں تو ہم سے بھی زیادہ بُرا حال ہے۔ وہاں بھی اب تک نیشنل سیکیورٹی کی کوئی واضح پالیسی وضع نہیں کی جا سکی۔

ہمارا میڈیا اکثر و بیشتر یہ راگ بھی الاپتا ہے کہ پاکستانی فوج ہماری خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی پالیسی کو تشکیل دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ ہمارے دانشور بھی پاکستان آرمی پر الزام لگاتے رہتے ہیں کہ ان پالیسیوں (خارجہ اور قومی سلامتی) کو فوج کے حوالے نہیں کرنا چاہئے۔ ان کو عوامی نمائندوں اور سویلین بیورو کریٹوں کے حوالے کرنا چاہئے جیسا کہ ہمارے ہمسائے بھارت میں ہو رہا ہے۔ لیکن اس ہمسائے بھارت ہی کا ایک وائس آرمی چیف دیکھئے کیا لکھتا ہے:

”ہم آج تک کوئی نیشنل سیکیورٹی سٹرٹیجی مرتب نہیں کر سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ نے میرٹ کو اقربا نوازی پر قربان کیا ہوا ہے اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر (NSA) کے آفس میں ایسے ایسے ”یس مین“ اور ”وفا دار“ لوگ بٹھائے ہوئے ہیں جن کو معلوم ہی نہیں کہ قومی سلامتی کس چیز کا نام ہے اور سٹرٹیجی کس چڑیا کو کہتے ہیں۔ جب سے ”نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر“ (NSA) کا یہ ادارہ معرض وجود میں آیا ہے تب سے اس میں سفارت کار اور پولیس آفیسرز ہی بھرتی کئے گئے ہیں اور وہ لوگ کہ جن کو ملٹری سٹرٹیجی اور گرینڈ سٹرٹیجی کا شعور ہوتا ہے، ان کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔“

”بڑا شور مچایا جاتا ہے کہ ہم دفاعی پیداوار میں خود کفالت کی منزل کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ لیکن ہماری اسلحہ ساز فیکٹریاں، ڈیفنس ریسرچ کے ادارے اور اس طرح کے دیگر خانہ ساز دفاعی پیداوار کے کارخانے ایسے لوگوں کی کثرت سے ہمہما رہے ہیں جو نااہل اور کرپٹ ہیں۔ نہ ہی ان کو دفاعی اسلحہ جات اور سازو سامان کی باریکیوں کا کچھ پتہ ہے اور نہ ان پر کسی ایسے ادارے کا کنٹرول ہے جو یہ دفاعی سازو سامان استعمال کرتا ہے۔“

”مائی ڈیئر فیوچر پرائم منسٹر!

سر، مَیں آپ سے اپیل کر رہا ہوں کہ اس صورتِ حال کا جلد سے جلد نوٹس لیا جائے اور وزارتِ عظمیٰ کا قلم دان سنبھالتے ہی ان امور پر فوری توجہ دی جائے، موجودہ ڈیفنس مشینری کو اوور ہال کیا جائے تاکہ ملٹری اور قوم کی ضروریات پوری ہو سکیں۔.... وہ پروگرام جو آپ کی عاجلانہ توجہ کے طلب گار کھڑے ہیں وہ یہ ہیں:

(1) آرمی ہیڈ کوارٹرز، نیول ہیڈ کوارٹرز اور ائر ہیڈ کوارٹرز (تینوں سروسز ہیڈ کوارٹرز) کو وزارت دفاع کے ساتھ مربوط و منسلک کرنے کی تفصیلات پر نظرثانی کی جائے۔

(2) مالی اخراجات کی چیکنگ کے طریقہ ہائے کار کو آسان بنایا جائے۔

(3) بڑے بڑے دفاعی سودوں کی خریداری کے لئے ارتکازِ اختیارات کی بجائے انتشارِ اختیارات کا طریقہ رائج کیا جائے۔

(4) جو ادارے عسکری سازو سامان خریدنے کے ذمہ دار ہیں، ان کی حالیہ گنجائش (Capacity) میں اضافہ کیا جائے۔

(5) مشترکہ کاوشوں اور کوششوں کی طرف سفر کا آغاز کیا جائے۔ یعنی فوج کے مختلف شعبوں کے ہتھیاروں اور ساز و سامان کی پیداوار میں باہم اشتراک کی ابتدا کی جائے۔

(6) تمام اہم عہدوں پر پروفیشنل لوگوں کو تعینات کیا جائے۔

(7) آرڈننس فیکٹریوں کی تنظیم ِ نو کی جائے۔

(8) دفاعی پیداوار کے شعبے کو نجی تحویل میں دینے کے اقدامات کئے جائیں۔

(9) سفارت کاروں، بیورو کریٹوں اور دیگر سویلین اہلکاروں کے ساتھ ربط و ضبط کا از کار رفتہ اور فرسودہ طریقہ ¿ کار ختم کیا جائے اور دفاعی پیداوار کو تجارتی بنیادوں پر استوار کرنے کی شروعات کی جائیں“۔

قارئین گرامی! یہ تمام تفصیلات بتانے کے بعد مصنف نے آخر میں جو مختصر اپیل کی ہے وہ گویا سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:” انڈین ملٹری نے ملک و قوم سے اپنی وفادای کا حق ادا کر دیا ہے اور اپنے غیر سیاسی مزاج اور کردار کو سب کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر اعتبار کیا جائے!.... سر، آخر میں ”جے ہند“ ....اور آپ کی پانچ سالہ ٹرم کے لئے نیک خواہشات!“ (ختم شد)

مزید : کالم