بینک الفلاح کو 1.704ارب روپے منافع

بینک الفلاح کو 1.704ارب روپے منافع

  



کراچی (اکنامک رپورٹر)بینک الفلاح نے 31 مارچ 2014ءپر اختتام پذیر ہونے والی پہلی سہ ماہی میں 1.704 بلین روپے منافع قبل از ٹیکس حاصل کیا ہے جو سالِ گزشتہ کی پہلی سہ ماہی میں ہونے والے منافع سے 11.6% زیادہ ہے۔ سالِ رواں کی مذکورہ پہلی سہ ماہی کے لئے منافع بعد از ٹیکس 1.128 بلین روپے حاصل کیا گیا جبکہ 2013 ءکی تقابلی سہ ماہی میں ہونے والامنافع 1.011 بلین روپے تھا۔ نتیجتًا مارچ 2014 ءمیں مذکورہ سہ ماہی کے لئے آمدنی فی شیئر بھی سالِ گزشتہ کی تقابلی سہ ماہی کے لئے حاصل کی گئی آمدنی 0.75 روپے سے بڑھ کر 0.84 روپے ہو گئی۔بینک کی منافعیت میں بہتری اس کی اس حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہے کہ اثاثوںکو منصفانہ انداز میں بڑھایا جائے۔

 اورfee پر مبنی آمدنی میں اضافے کی اپنی کوششوں کو جاری رکھا جائے۔ بینک کے اثاثہ جات دسمبر 2013 ءپر اختتام پذیر ہونے والے سال تک 610.614 بلین روپے تھے جو 31 مارچ 2014 ءتک مستحکم ہوکر 615.886 بلین روپے ہوگئے۔ Net سرمایہ کاریاں دسمبر 2013 ء کے مقابلے میں 4.5% بڑھ کر مارچ 2014 ءتک 229.600 بلین روپے ہوگئیں۔ بینک کا کیپٹل مارچ 2014ءکو خاطر خواہ تھا۔31 مارچ 2014 ءپر اختتام پذیر ہونے والی سہ ماہی میںبینک کی net مارک اپ آمدنی بھی سالِ گزشتہ کی پہلی سہ ماہی میں ہونے والی آمدنی 3.824 بلین روپے سے بڑھ کر 4.288 بلین روپے ہو گئی۔ Non مارک اپ آمدنی 2.055 بلین روپے ہے جو سالِ گزشتہ کی تقابلی مدّت کی آمدنی سے 10% زیادہ ہے۔ 31 مارچ 2014 ءپر اختتام پذیر ہونے والی سہ ماہی کے لئے سرمایہ کاریوں اور قرضہ جات کے بِالمقابل Net چارج برائے پرویژن سالِ گزشتہ کی پہلی سہ ماہی کے Net چارج 0.132 بلین روپے کے مقابلے میں 0.129 بلین روپے ہے ۔علاوہ ازیں بینک اپنی شاخوں کے نیٹ ورک میں توسیع کے باوجود ایڈمنسٹریٹِو costs میں کم سے کم اضافہ کرنے اور افراطِ زر کا شکار اس مارکیٹ میں ایکسپنس کنٹرول ڈسپلن کو برقرار رکھنے میں گامزن ہے۔31 مارچ 2014 ءکو بینک کے نان پرفارمنگ قرضہ جات (این پی ایل) کا پورٹ فولیو 18.275 بلین روپے ہے ۔ مارچ 2014 ءکے اختتام پر این پی ایل کے بِالمقابل بینک کے قرضہ جات کا تناسب 6.8% ہے جو صنعت کے اوسط سے بہتر ہے اور بینک کے قوی risk architecture کا مظہر ہے۔

مزید : کامرس