بات کا بتنگڑ نہ بنایئے

بات کا بتنگڑ نہ بنایئے
بات کا بتنگڑ نہ بنایئے

  



حامد میر پر قاتلانہ حملہ بے حد افسوسناک ہے، لیکن یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔کئی صحافی اس صورت حال سے گزر چکے ہیں۔حامد میر کی خوش قسمتی اور ہماری بھی خوش نصیبی کہ حامد میر بچ گیا اور ہم ایک سچے، کھرے پاکستانی صحافی سے محروم نہیں ہوئے۔ اس واقعے یا سانحے کے ساتھ تین چار چیزیں جڑی ہوئی ہیں، جنہیں خواہ مخوا الجھایا جا رہا ہے۔ مَیں یہاں اس سانحے کے تمام پہلوﺅںکا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔حامد میر انسانی حقوق، بلوچستان کے عوام کے حقوق، گم کردہ لوگوں کی بازیابی کا پرجوش حامی ہے۔اس کے کئی کالم ان گہرے پانیوں میں بھنور پیدا کرنے کا باعث بنتے رہے،جن سے ہمارے بہت سے اصحاب بچ کر یا پہلو بچا کر نکل جاتے ہیں۔ماما قدیر کے بارے میں طرح طرح کے سوال اٹھائے گئے ،اہمیت نہیں دی گئی تو صرف اس بات کو کہ اس کی ساری ملک دشمنی کی کہانی صرف اس قدر ہے کہ وہ اپنے گم کردہ بیٹے کی بازیابی چاہتا ہے اور اس مطالبے میں کون سی وطن دشمنی ہے۔حامد میر نے ماما قدیر کے بارے میں کالم لکھے۔حامد میر ایک عرصے سے اپنے کالموں میں اپنی گفتگو میں اور دوستوں سے یہ کہہ رہا ہے کہ اسے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔حامد میر مشرف کو فوج کی عزت ماننے کو تیار نہیں ، اس لئے مشرف کو فوج کی عزت قرار دینے والے بھی اسے برداشت کرنے کو تیار نہیں۔حامد میر نے اپنے کالموں میں واضح طور پر ان حلقوں کی طرف اشارے کئے جو خود کو آئین، پاکستان اور ہر چیز سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

اگر الزام اتنا بڑا جرم ہے تو حامد میر سچ لکھنے کے جرم کے ساتھ ساتھ یہ جرم بھی ایک عرصے سے مسلسل کررہا تھا۔اس جرم میں وہ تنہا بھی نہیں تھا۔اس سے پہلے عمر چیمہ سے بھی یہ جرم سرزد ہو چکا ہے۔سلیم شہزاد البتہ اس جرم کی سزا بھی پا گیا۔حامد میر پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو اس کے بھائی عامر میر نے یہی جرم کیا کہ حامد میر جو خدشات ظاہر کرتا رہا، انہیں دہرا دیا، لیکن عامر میر کا بھائی ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔شاید بھائی کی محبت میں اور جذبات میں وہ وہی باتیں کچھ زیادہ واشگاف لفظوں میں کہہ گیا۔حیات اللہ سے لے کر سلیم شہزاد تک خاموش رہنے والے اور حامد میر کے کالموں پر خاموشی کی چادر اوڑھے رکھنے والے اچانک بہت جذباتی ہوگئے۔کہا گیا کہ بغیر ثبوت کے الزام لگائے گئے ہیں۔افسوس کہ اتنے بڑے ادارے کو اتنا بھی علم نہیں کہ الزام بغیر ثبوت کے ہی ہوتے ہیں، اگر ثبوت مہیا ہوں تو الزام، الزام نہیں رہتا۔ثبوت جرم کہلاتا ہے۔دنیا کا کوئی قانون متاثرہ پارٹی کو کسی پر بھی الزام لگانے سے نہیں روکتا۔آج بھی امریکہ میں بائیں بازو کے صحافی یو کرائن کے مسئلے میں سی آئی اے کو الزام دے رہے ہیں۔نواب محمد احمد خان کے قتل کے وقت ذوالفقار علی بھٹو وہاں موجود نہیں تھا۔احمد رضا قصوری نے ملک کے وزیراعظم پر الزام لگایا اور باقاعدہ اس کی ایف آئی آر درج کرائی اور یہی ایف آئی آر ذوالفقار علی بھٹو کے لئے پھانسی کا پھندا بن گئی۔حامد میر کے معاملے میں الزامات پر ردعمل کہیں چور کی داڑھی میں تنکا کا معاملہ تو نہیں؟

الزامات اور فوج کی عزت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔فوج کی عزت اور وقار کی نہایت غلط تعبیر و تشریح کی جارہی ہے۔ہر پاکستانی حامد میر سمیت پاک فوج کی بطور پاک فوج بے حد عزت کرتا ہے، ہاں اس عزت اور وقار کے معیار مختلف ہیں۔محب وطن پاکستانیوں کے نزدیک پاک فوج اور آئی ایس آئی بطور ادارہ تو حد سے زیادہ عزت اور احترام کے حامل ہیں، لیکن ان کے غلط کام اور ان کا ذکر عزت اور احترام نہ کرنے کے مترادف نہیں ہے۔کوئی بھی فوجی آمر فوج کی عزت اور احترام کا معیار نہیں ہے، لیکن ان میں سے بھی آدھا ملک گنوانے والے یحییٰ خان، اے اے کے نیازی، ٹکا خان اور مشرف کیا کسی عزت اور احترام کا باعث بن سکتے ہیں۔فوج کی عزت اور احترام کا معیار تو میجر طفیل شہید، میجر عزیز بھٹی شہید، لانس نائیک محفوظ شہید اور راشد منہاس شہیدہیں یا پھر وہ جو یہ سمجھتے تھے کہ آئین اور قانون کیا کہتا ہے اور جب فوج کا ڈسپلن اور آئین آپس میں ٹکرائے تو انہوں نے پاکستان اور آئین پاکستان کے حق میں فیصلہ کیا۔ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان اور جنرل راﺅ فرمان علی خان اس عزت اور احترام کی زندہ مثالیں ہیں۔جنرل مشرف کی یہ دلیل کہ اس نے جنگیں لڑی ہیں ایسی ہی دلیل ہے جو ہر چور دے سکتا ہے۔کوئی بھی چور کہہ سکتا ہے کہ جب مجھے چوری کرتا ہوا گرفتار کیا گیا، اس سے پانچ منٹ پہلے میں تہجد پڑھ کر فارغ ہوا تھا اور گزشتہ روز نفلی روزہ بھی رکھا تھا۔اگر یہ دلیل تسلیم کی جا سکتی ہے تو پھر مشرف کے خلاف تمام الزامات واپس لے لئے جائیں اور فوج انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد فوج کا کوئی اعلیٰ ترین اعزاز بھی دے دے اور فوجی جوانوں کو تمام فوجی اکیڈمیوں میں یحییٰ خان ، نیازی اور مشرف کے بارے میں پڑھایا جائے اور انہیں امن کے نقش قدم پر چل کر عزت و احترام کے حصول کا سبق دیا جائے۔افسوس کہ فوج کو بطور فوج نشانہ تنقید بنانے والے آج فوج کی عزت اور وقار کی دہائی دے رہے ہیں۔ان بے ننگ و نام بے دین اور بے نسب لوگوں کے فوج کے حق میں قصائد فوج کی عزت ہرگز بڑھا نہیں رہے ہیں۔معلوم نہیں فوج کی عزت کی بحالی کا کام ان عزت ناآشنا لوگوں کو کس نے سونپا ہے؟

جہاں تک جنگ اور جیو کا تعلق ہے۔ہو سکتا ہے جنگ اور جیو نے اس معاملے میں حدود سے تجاوز کیا ہو۔جنگ اور جیو سیدھے سبھاﺅ ایک صنعتی ادارہ ہے اور صنعتی ضروریات کے تحت اکثر صنعتی ادارے اخلاقی اقدار کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہ صورت حال اخلاقی اعتبار سے کوئی اچھی صورت حال نہیں، لیکن اب جنگ اور جیو کے خلاف جوگرد اڑائی جا رہی ہے ، اس کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔حامد میر کو غدار ثابت کرنے والے اب ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو جنگ اور جیو کے صنعتی رقیب ہیں۔اس صنعتی رقابت کے تحت جنگ اور جیو کو مقابلے کے میدان سے خارج کرنے کی بھونڈی کوشش ہو رہی ہے۔میرا ذاتی خیال ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ اور جیو کے کچھ دشمن جنگ اور جیو کے اندر بھی گھسے ہوئے ہیں،جنہوں نے شعلوں کو بھانبھڑ بنانے کی کوشش کی۔ایسے معاملات پر کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور قانون کے تحت کوئی سزا بھی دی جا سکتی ہے، لیکن قانون سے ماورا کوئی سزا نہیں اور جنگ اور جیو کی بندش جیسی سزا بھی نہیں۔مجھے جنگ سے کئی اختلافات بھی ہیں، لیکن اختلافات کی وجہ سے کسی بھی شخص کی آواز کو دبا دینا یا کسی میڈیاکے ادارے کا گلا گھونٹ دینا، اس سے زیادہ بڑی جگ ہنسائی کا باعث بن جائے گا،جس کا فوج کے ایک ادارے پر الزام لگنے کے حوالے سے چرچا کیا جا رہا ہے۔گم کردہ لوگوں کا مسئلہ پہلے ہی کئی بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی جگ ہنسائی کا باعث بنا ہوا ہے۔ میڈیا کے کسی ادارے کی بندش ہمارے دشمنوں کے ہاتھ میں پراپیگنڈے کا ایک اور ہتھیار دینے کے مترادف ہوگا اور اس ہتھیار کے ذریعے نشانہ ہماری حکومت اور ہماری جمہوریت ہی نہیں ہوگی، اس سلسلے میں فوج اور آئی ایس آئی کا نام بھی آئے گا اور فوج سے آج جو لوگ محبت جتانے کے لئے سڑکوں پر اُچھل رہے ہیں، وہ شائد یہی چاہتے ہیں۔ٹانگے کی سواریوں کی پھبتی کسنے والے آج کل خود ہی ٹانگہ خود ہی گھوڑا اور خود ہی کوچوان بنے ہوئے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی پیش گوئیاں لکھ کر دینے والے اور کذاب کے حواری آج غداری اور حب وطن کے سرٹیفکیٹس تقسیم کر رہے ہیں۔

اگر خدانخواستہ جمہوریت کا جھٹکا کرنے کی کوشش کی گئی تو خاکم بدین پاکستان کے اردگرد اس کا جھٹکا کرنے کے خواہش مند تاک لگائے بیٹھے ہیں۔پھر نہ فوج کی عزت و احترام باقی رہیں گے نہ سیاست دانوں کے -حامد میر کی حب الوطنی پر انگلی اٹھانے والوں کی انگلی بھی شائد ہی سلامت رہ پائے، وطن سے دور رہ کر وطن کی محبت کا دم بھرنے والے میرے جیسے قلم کے مزدور بھی بے ننگ و نام ہو کر رہ جائیں گے۔اس لئے اس معاملے کو بات کا بتنگڑ بنانے سے گریز ہی بہترین حکمت عملی ہوگی۔ ٭

مزید : کالم


loading...