ایمانداری کس اڑتی چڑیا کا نام ہے!

ایمانداری کس اڑتی چڑیا کا نام ہے!
ایمانداری کس اڑتی چڑیا کا نام ہے!

  



مَیں ابھی ابھی محلے کے ایک جنرل سٹور سے اٹھ کر گھر پہنچا ہوں۔ مَیں نے کل اس سٹور سے 50کلو چاولوں کا جو توڑا خریدا تھا، اس کے بارے میں شکایت کرنے گیا تھا کہ مَیں نے تو ثابت چاول کا آرڈر دیا تھا لیکن اس میں تو دڑا ملا ہوا ہے، یعنی سارے چاول ثابت نہیں، کوئی دانہ آدھا اور کوئی پونا بھی شامل ہے۔سٹور کے مالک نے جواب دیا، جناب! یہ ہمیں بھی ثابت چاول ہی کے طور پر سپلائی کیا جاتا ہے۔لیکن ہوتا یہ ہے کہ شیلروں میں جب چاولوں کی چھڑائی ہوتی ہے تو مالکان ثابت چاولوں کی بوریوں میں کچھ دڑا ملا دیتے ہیں۔آپ ہی اندازہ لگائیں اگر چھ سات کلو بھی فی بوری دڑا ملا دیں تو مجموعی طور پر کتنا منافع ان کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔بہرحال آپ پکا کر تسلی کر لیں، ٹھیک ہی رہے گا۔اتنی بے ایمانی تو آج کی کاروباری زندگی میں اتنی عام ہو گئی ہے کہ اس کا علاج ناممکن ہو گیا ہے۔

سٹور کے مالک کے ”ارشادات“ پر غور کرتے ہوئے مَیں گھر لوٹ رہا تھا تو مجھے کئی سال پہلے ایک بہت امیر کبیر رائس ڈیلر کے یہ الفاظ یاد آنے لگے جو اس نے میری موجودگی میں اپنے ایک دوسرے ڈیلر دوست کے سامنے فخریہ کہے تھے، وہ تھے : ”اتنے ہزار من چاول حکومت کو سپلائی کرنے تھے، مَیں نے ان میں اتنا دڑا ملا دیا، خاک کسی کو خبر ہوتی سارا چاول آناً فاناً بِک گیا“۔مَیں نے اپنے کانوں سے یہ الفاظ سنے اور سن ہو کر رہ گیا کہ ہمارے مسلمان بھائی خدا کے خوف سے اس حد تک عاری ہو گئے ہیں ۔وہ جس کتاب کی تلاوت کرتے یا سنتے ہیں اس میں تو ہر دوسری تیسری آیت اسی مضمون کی ہوتی ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ تمہیں بغیر پوچھ گچھ کے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا، حالانکہ اس روز نہ ذرہ برابر برائی چھپی رہے گی اور نہ ذرہ برابر نیکی مخفی رہے گی۔

کوئی دوچار سال ہوئے ہیں مَیں نے اپنے ایک پبلشر دوست سے شکایت کی کہ یار تم نے مجھے جو فلاں کتاب دی تھی، اس کی بائنڈنگ اتنی ناقص تھی کہ کتاب کھولی تو آدھا حصہ اکھڑ کر ایک طرف اور دوسرا آدھا حصہ دوسری طرف ہو گیا۔کہنے لگا، دراصل اب کتابوں کی سلائی وغیرہ کا رواج کم رہ گیا ہے۔اس میں ایک تو فی کتاب لاگت بھی زیادہ آتی ہے،دوسرے وقت بھی زیادہ لگتاہے۔گم بائنڈنگ کرواتے ہیں تو بعض اوقات کتاب جلد اکھڑ جاتی ہے۔

اگلے روز مَیں کتاب بدلوانے کے لئے گیا تو میرے اس پبلشر دوست نے اسی کتاب کی ایک اور کاپی دی، مَیں نے اسے کھولا تو وہیں کھڑے کھڑے وہ بھی دو تین حصوں میں بٹ گئی۔اس نے ملازم کو غصے سے آواز دی، ذرا دیکھ بھال کے لاﺅ،جو کاپی وہ لایا اتنی مضبوط تھی کہ اس لمحے تو کچھ نہ ہوا لیکن گھر آکر اس کی ورق گردانی کی تو وہ بھی بالآخر اسی انجام سے دوچار ہو گئی۔چند دن بعد مجھے وہ دوست ملا تو مَیں نے کہا، یار یہ تم کس طرح کا کاروبار کررہے ہو۔ اس کتاب سے تو بمشکل کوئی ایک طالب علم ہی استفادہ کر سکتا ہوگا، وہ ہنس کر کہنے لگا، سچ پوچھو تو ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ کتاب جلد جلد اس حال کو جا پہنچے کہ کوئی دوسرا طالب علم اس سے استفادہ نہ کر سکے۔ہنسی ہنسی میں اس نے حقیقت بیان کردی۔

ہمیں جو گلوبلائزیشن کی راہ دکھائی جا رہی ہے، وہ بھی کاروباری مفادات سے خالی نہیں ہے۔او لیول اور اے لیول کی تمام کتابیں آکسفورڈ اور کیمبرج(برطانیہ) کی چھپی ہوتی ہیں اور کوئی کتاب ہزار بارہ سو روپے سے کم کی نہیں ہوتی۔پاکستان میں جہاں جہاں او لیول کا امتحانی نظام رائج ہے وہاں اساتذہ طلبہ سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ ہر کتاب کا تازہ ترین (Latest) ایڈیشن خریدیں، کیونکہ اس میں کچھ نہ کچھ ترمیم و اضافہ کیا گیا ہوتا ہے۔مطلب یہ ہوا کہ کوئی طالب علم پچھلے سال کی چھپی ہوئی کتاب نہ خریدے۔نتیجہ یہ ہے کہ باہر والے کتابوں اور امتحانی فیسوں کی آڑ میں ہمارے زرمبادلہ کا کثیر حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں، لیکن ہمارے لوگ ان معاملات سے پوری پوری مفاہمت کئے ہوئے ہیں، نہ ان کا مذہبی شعور جاگتا ہے نہ ان کی حب الوطنی پر آنچ آتی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے چند اساتذہ نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ہم نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی بی اے کا طالب علم امتحان میں انگریزی کے سوا دیگر مضامین میں پاس ہو جاتا ہے اور ایک خاص پرسنٹیج کے نمبر لے لیتا ہے تو اسے پاس کر دیا جائے۔جب اس فیصلے کی یونیورسٹی سنڈی یکٹ نے بھی منظوری دے دی تو برطانوی اور امریکی سفارتکاروں کی کالز کا تانتا بندھ گیا کہ یہ کیا غضب کرنے لگے ہو، چنانچہ وہ فیصلہ فائلوں میں دب کر رہ گیا۔شاید قارئین کو یاد ہو کہ چند سال پہلے امریکی سینٹ کی ایک کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ اگر کسی ملک کا بچہ بچہ بھی امریکہ کے خلاف ہو جائے تو پروا نہیں، وہاں انگریزی زبان کو تحفظ ملا رہتا ہے تو یوں سمجھو ہمارے مفادات محفوظ ہیں، انہیں کوئی گزند نہیں پہنچ سکتا۔اب آپ غور کریں اس افسر طبقے کے حال پر جو اپنی قومی زبان اردو کی جگہ انگریزی کو غالب رکھوانے کے لئے ادھار کھائے بیٹھا ہے، اپنے ملک سے وفاداری کہاں گئی؟

اجتماعی زندگی کی یہ چند جھلکیاں ایک ہمہ گیر بگاڑ کی نشاندہی کرتی ہیں۔معلوم نہیں ہمارے اہلِ سیاست اور اہلِ دین کیوں نہیں سمجھتے کہ اس بگاڑ کا علاج زیادہ سے زیادہ دینی مدارس کھول دینے اور بڑی بڑی میلاد کانفرنسیں منعقد کرا دینے سے قطعاً ممکن نہیں جب تک ہمارے علماءمعاشرتی حقائق کا ادراک نہ حاصل کریں اور سیاستدان اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہ ہوں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ مذکورہ دونوں طبقے اپنی اپنی روش پر ڈٹے ہوئے ہیں۔وہ تبدیلی کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے نتیجہ معلوم کہ ہم ایک بحران سے پوری طرح نکل نہیں پاتے کہ دوسرا بحران کھڑا ہو جاتا ہے: بقول غالب:

حیراں ہوں، دل کو روﺅں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

مزید : کالم