مسز چنگ چوئی پنگ....انسانی سمگلنگ کی ہیروئن

مسز چنگ چوئی پنگ....انسانی سمگلنگ کی ہیروئن
مسز چنگ چوئی پنگ....انسانی سمگلنگ کی ہیروئن

  



ہانگ کانگ، بیجنگ اور امریکہ کے اخبارات نے چینی نژاد اور نیو یارک میں ایک بڑے چائنیز ہوٹل کی مالکہ میڈم چنک چوئی پنگ کی ایک امریکی جیل میں وفات پر کافی طویل مضامین شائع کئے ہیں اور اس خاتون کو چین سے امریکہ میں ہزاروں چینیوں کو سمگل کرنے کے ضمن میں نہ صرف انسانی سمگلنگ کی ہیروئن قرار دیا ہے، بلکہ نیو یارک کے چائنہ ٹاﺅن میں رہائش پذیر چینیوں نے بڑے پیمانے پر اس خاتون کا سوگ منایا ہے اور اب اس کی آخری رسومات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس میں ایک اندازے کے مطابق20سے 50 ہزار کی تعداد کے وہ چینی شہری حصہ لیں گے، جو اس وقت امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ملازمت یا کاروبار کر رہے ہیں اور جنہیں سِسٹر پنگ نے چنگ چوئی کے عرفی نام سے 1982ءسے2000ءتک کے18برسوں میں مختلف طریقوں سے امریکہ سمگل کیا۔ ان چینیوں کے مقدمات کی پیروی کی، انہیں ملازمت لے کر دی یا کام پر لگوایا اور جن کی کمائی اپنے خاندانوں کو منتقل کرنے کے لئے نیو یارک کے چائنہ ٹاﺅن میں ایک خفیہ ترین بینک قائم کیا۔ اس خفیہ بینک کی شاخیں امریکہ کی ہر ریاست میں آج بھی موجود ہیں اور ان کے ذریعے ہر مہینے لاکھوں ایسے چینی، جو امریکہ میں مقیم ہیں۔ اپنی رقوم چین میں اپنے خاندانوں کو ارسال کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا غیر قانونی بینک ہے،جو ابھی تک زیر زمین چلا آ رہا ہے اور اپنی سر توڑ کوششوں کے باوجود امریکی ایف بی آئی یا اس کے دوسرے حکام اس کا سراغ نہیں لگا سکے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ1982ءسے2000ءتک وہ اس خاتون کا سراغ لگانے میں بھی ناکام رہے، جو ہر سال ہی نہیں بلکہ اپنے ایک سسٹم کے تحت سال کے 365 دن اور24گھنٹے انسانی سمگلنگ کے اس کام میں مصروف رہی اور وہ یہ کام خاص طور پر اپنے گاﺅں، شہر اور صوبے فیوجی کے عوام اور شہریوں کے لئے ترجیحی بنیاد پر کرتی رہی۔ اس نے امریکہ لائے جانے والے چینیوں سے35ہزار امریکی ڈالر تک فی کس معاوضہ لیا اور ایسے لوگوں کو بھی لاتی رہی، جن کے پاس اسے دینے کے لئے پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہوتی تھی، حتیٰ کہ راستے میں کھانے پینے کے اخراجات بھی نہیں ہوتے تھے۔ ایسے افراد کو وہ امریکہ میں چائنیز ہوٹلوں پر ملازم رکھواتی اور اُن کی آدھی تنخواہ سے اس قدر رقم وصول کر لیتی جتنی اس کی اس انسان کو سمگل کرنے کی فیس تھی۔ اس دوران گرفتاری یا پکڑ دھکڑ کی صورت میں وکلاءاور عدالتوں کے اخراجات بھی یہی خاتون برداشت کرتی، حتیٰ کہ اس چینی کے گھر والوں کو چین میں بھی خرچہ ارسال کرتی رہتی۔ اس کا یہ سسٹم اس قدر کامیاب، صحیح اور سو فیصد شفاف تھا کہ لالچ کے باوجود بھی کوئی چینی اس کے خلاف گواہی دینے کو راضی نہیں تھا۔ یوں یہ خاتون امریکی پولیس، امیگریشن اور خفیہ اداروں کی ناک کے عین نیچے اپنا کاروبار ،یہ تہیہ کر کے کرتی رہی کہ یہ میرا مشن ہے۔ مَیں اپنی قوم کے غریب مگر باصلاحیت افراد کو بے روزگار اور گلیوں میں رُلتا ہوا نہیں دیکھ سکتی، لہٰذا مَیں نے اپنی ساری عمر اپنے انہی لوگوں کے لئے وقف کر دی ہے۔

سمگلنگ کی اس ہیروئن کی داستان پڑھ کر مجھے پاکستان میں بھی ایسے کئی واقعات یاد آ رہے ہیں، جب ایف آئی اے کا محکمہ تازہ تازہ بنا تھا اور ہم آئے روز یہ پڑھتے تھے کہ سعودی عرب، امریکہ، کینیڈا، اور دبئی بھیجے جانے والے بعض وفود اور افراد پکڑے گئے اور انہیں بھیجنے والے ایجنٹ جنہوں نے باقاعدہ دفاتر کھول رکھے تھے، گرفتار کر لئے گئے۔1985ءمیں جب یہ خادم حکومت پنجاب کے محکمہ پروٹوکول کا سربراہ تھا تو ایک روز دفتر میں مجھے میرے اپنے نائب قاصد نے کہا کہ اس کے 11بچے ہیں اور سب کے سب جوان ہو گئے ہیں، لیکن پڑھے لکھے نہیں، لہٰذا اُنہیں کہیں بھی نوکری نہیں مل رہی، حتیٰ کہ کوئی دربان یا سیکیورٹی گارڈ کی نوکری بھی نہیں دیتا۔ اس کا ایک عزیز نیو یارک میں دودھ فروخت کرتا تھا اس کی خواہش تھی کہ ان کے نیو یارک کے ویزے لگ جائیں، تو ایک ایک کر کے یہ اُنہیں جب جب کرایہ اکٹھا ہوتا جائے گا، امریکہ دودھ فروخت کرنے کے کام پر لگانے کا خواہاں ہے۔ مجھے مدد کے لئے کہا گیا۔ ایک روز مَیں نے اس نائب قاصد کی اس خواہش کا اظہار لاہور میں تعینات امریکی قونصل جنرل سے کیا۔ انہوں نے ان نوجوانوں کی کوئی تعلیم نہ ہونے کا ذکر کیا تو مَیں نے کہا کہ امریکی لڑائی جو ہم افغانستان میں لڑ رہے ہیں (روس کے خلاف) اس کے بدلے میں ہمارے پاس بھی اس وقت 30لاکھ افغان مہاجرین یہاں موجود ہیں، جن کے کھانے پینے، رہنے سہنے، تعلیم اور صحت کا بوجھ ہم پر ہے۔ ایسے میں اگر یہ چند جوان امریکہ میں دودھ فروخت کرنے کے کام پر چلے جائیں گے، تو امریکہ پر اس کے کیا منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ وہ خاموش ہوگیا اور اگلے روز ان سب نوجوانوں کے ویزے لگا دیئے گئے۔ تاہم اس شرط کے ساتھ کہ اگر چھ ماہ کے اندر اندر یہ کام پر نہ لگے اور انہوں نے باقاعدہ ویزہ وہاں سے نہ لیا تو واپس لاہور آ جائیں گے۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ تمام لوگ آج نیو یارک کے شہری ہیں اور اپنے بال بچے پال رہے ہیں اور انہوں نے اس دوران امریکی شہریت بھی حاصل کر لی ہے۔

چین کی رہنے والی اس خاتون نے تو عالمی شہرت حاصل کر لی تھی کہ اسے پکڑنے کے لئے ہانگ کانگ حکومت اور وہاں کی پولیس کی مدد حاصل کرنا پڑی۔ دسمبر 2000ءمیں جب مسز چنگ چوئی پنگ ایک فیری میں فیوجی، یعنی چین سے سمندر کے ذریعے79چینیوں کا ایک قافلہ ہانگ کا نگ لے کر آئی تو بڑی کامیابی کے ساتھ یہ قافلہ ہانگ کانگ میں آ گیا، وہاں سے جب امریکہ کے ویزے کے لئے یہ امریکی سفارت خانہ میں ویزہ آفیسر کے سامنے گئے، تو اس نے ان کے کاغذات دیکھ کر انہیں اگلے روز آنے کا کہا اور ان کے پیچھے سفارت خانہ کی خفیہ ایجنسی کے لوگ لگا دیئے۔ یہ جب بندرگاہ پر آئے اور اپنی فیری میں چلے گئے تو اس نے ہانگ کانگ کی پولیس کے ذریعے اس فیری پر رات کے تین بجے چھاپہ ڈلوایا۔ ان تمام افراد کو میڈم چنگ چوئی کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔ ان افراد پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے غلط معلومات فراہم کر کے ویزہ لگوانے کی کوشش کی، کیونکہ سب کے ہانگ کانگ کے ایڈریس غلط تھے۔ میڈم پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اس غیر قانونی کام میں ان افراد کی مدد کی ہے۔ تاہم وہ چونکہ امریکی پاسپورٹ ہولڈر تھیں، لہٰذا انہیں امریکی سفارت خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔ امریکی حکام تو پہلے ہی اس خاتون کو پکڑنے کے لئے سرگرداں تھے، لہٰذا خاتون کو نیو یارک پولیس وہاں لے گئی اور وہاں اس پر مقدمہ چلایا گیا، چھ سال تک چلنے والے اس مقدمہ میں ایک بھی ثبوت ایسا نہیں تھا جوامریکہ سے حاصل کیا گیا ہو۔ تمام ثبوت ہانگ کانگ کے اس مقدمہ سے حاصل کئے گئے، جہاں 79 افراد پر غلط پتے فراہم کرنے پر مقدمہ چل رہا تھا۔ ہانگ کانگ کی عدالت نے تو ان79 افراد کواس مقدمہ میں سزا نہیں دی، کیونکہ وہ وہاں کے شہری نہ تھے، لیکن سکونت کی جعلی دستاویز بنوانے پر ہانگ کانگ کے ایک ایجنٹ سمیت ان پر جرمانے عائد کر دیئے، جن کی ادائیگی کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ تاہم نیو یارک کی ایک عدالت نے انسانی سمگلنگ کے جرم میں2006ءمیں میڈم چنگ چوئی کو35سال کی سزا سنا دی گئی۔ میڈم کی عمر چونکہ اس وقت60سال سے زائد تھی، لہٰذا انہیں اس سزا میں20سال کی رعایت دی گئی۔ چھ سال وہ پہلے ہی جیل میں مقدمہ لڑتے لڑتے کاٹ چکی تھیں، لہٰذا اب انہیں آنے والی2مئی کو رہا ہو جانا تھا، لیکن موت کا فرشتہ اس سے قبل ہی جیل پہنچ گیا اور یوں انسانی سمگلنگ کی اس ہیروئن کی داستان کا اختتام ہو گیا۔ نیو یارک پولیس اب چائنہ ٹاﺅن کے اس علاقے میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں چینی نژاد امریکی رہائش پذیر ہیں، قائم اس بینک کی تلاش میں بھی سرگرداں ہے، جہاں سے یہ چینی اپنے گھروں کو اربوں ڈالر سالانہ ارسال کرتے ہیں، کیونکہ اس بینک کی وجہ سے امریکی حکومت کو وہ ٹیکس یا حصہ نہیں مل پاتا جو قانونی طور پر روپیہ اپنے گھروں کو ارسال کرنے کی بدولت اور رائج امریکی سسٹم اور قانون کے مطابق بھیجے جانے پر حکومت کو ملنا چاہئے۔ ٭

مزید : کالم


loading...