مذاکراتی عمل سے میجر عامر کی علیحدگی

مذاکراتی عمل سے میجر عامر کی علیحدگی

  



طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے حکومتی کمیٹی کے اہم رکن میجر عامر مذاکراتی عمل سے الگ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کمیٹی کے بعض عناصر مذاکرات میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، طالبان کے زیادہ تر رہنما مخلص ہیں، تاہم کچھ لوگوں نے اِس نیک کام سے سیاسی فائدے حاصل کئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذاکراتی عمل سے علیحدگی کی تفصیلی وجوہ سے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو آگاہ کریں گے، دوسری جانب طالبان کمیٹی کے رکن مولانا یوسف شاہ نے کہا ہے کہ میجر عامر کی ناراضی دور کرنے کی کوشش کی جائے گی، اُن سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

مذاکرات کا عمل جب سے شروع ہوا ہے اس کا حاصل حصول جو بظاہر نظر آیا۔ چالیس روز تک جنگ بندی تھی، (جو اب ختم ہو چکی ہے) دوسری جانب کچھ قیدی رہا ہو گئے۔ اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں کہ کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کا جو سلسلہ چلا وہ کتنا مفید تھا اور اس کے نتیجے میں مستقل امن قائم ہونے کی کتنی امید تھی، لیکن میجر عامر کا شروع ہی سے یہ موقف رہا ہے کہ مذاکرات خفیہ رکھے جائیں اور کمیٹیوں کا کوئی رکن چینلوں پر آ کر ان پر اس وقت تک کوئی اظہار خیال نہ کرے، جب تک کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے، اب معاملہ یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کی کمیٹیوں کے ارکان کِسی نہ کِسی انداز میں اس موضوع پر متواتر اظہارِ خیال کرتے رہتے ہیں۔ پس منظر میں کیا ہوتا رہا یہ تو وہی حضرات جانتے ہوں گے۔ عوام الناس کو تو وہی کچھ معلوم ہے جو مذاکرات میں شریک لوگوں کے ذریعے عوام تک پہنچتا رہا ہے۔

میجر عامر کی سرکاری کمیٹی میں شمولیت کے باعث یہ امید ہو چلی تھی کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہو جائیں گے، کیونکہ وہ ایسے مذاکرات میں ایک گو نہ مہارت رکھتے ہیں، صوبہ خیبرپختونخوا کی تقریباً تمام اہم سیاسی و غیر سیاسی شخصیات سے قریبی روابط رکھتے ہیں، حکومت اور اپوزیشن میں یکساں احترام سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان حلقوں میں اُن کی اصابت رائے کی قدر کی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ مذاکرات کی اونچ نیچ اور زیرو بم کے متعلق خصوصی فہم و ادراک رکھتے ہیں، اُن کی اس بات میں وزن تھا (اور ہے) کہ مذاکرات کو کیمروں کی چکا چوند سے الگ رکھا جائے اور پَل پَل کی گفتگو کو میڈیا میں زیرِ بحث لانے سے گریز کیا جائے، لیکن عملاً یہ ہوتا رہا کہ مذاکرات کی تو کوئی سمت ہی متعین نہ ہو سکی، جو جنگ بندی شروع ہو ئی تھی وہ بھی40روز بعد ختم ہو گئی۔ طالبان کی طرف سے تحفظات ظاہر کئے گئے تو حکومت نے بھی اپنے اعتراضات وارد کئے،لیکن میڈیا پر بحث مباحثے کا سلسلہ جاری رہا۔ یوں ایک طویل عرصہ تو گزر گیا لیکن مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، ایسے محسوس ہوتا ہے۔ میجر عامر کو اس کا احساس ہو گیا ہو گا کہ جس رفتار سے گاڑی چل رہی ہے، یہ کبھی منزل پر نہیں پہنچنے والی، تبھی تو انہوں نے مذاکرات کے پورے سلسلے ہی سے خود کو علیحدہ کر لیا۔ انہوں نے سو چا ہوگا اگر ان سے کچھ حاصل ہی نہیں ہوناتو خواہ مخواہ وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے خاموشی سے الگ ہو جایا جائے۔

میجر عامر نے علیحدگی کے لئے وجوہ تو تفصیل سے بیان نہیں کیں، لیکن اُن کا ایک فقرہ ہی چونکا دینے والا ہے کہ طالبان کمیٹی کے بعض ارکان اس نیک کام سے سیاسی فائدہ اٹھاتے رہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ حضرات کون ہیں، جنہیں مذاکرات کی کا میابی سے زیادہ اپنے سیاسی فوائد عزیز ہیں؟ طالبان کمیٹی کی کمپوزیشن پر نگاہ ڈالی جائے، تو بعض نام اس ضمن میں اُبھر کر سامنے آتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ میجر عامر کھل کر بتا دیں کہ سیاسی فائدے اٹھانے والی یہ شخصیت یا شخصیات کون تھیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو تفصیلی وجوہ سے آگاہ کر دیں گے، لیکن یہ عام لوگوں کا بھی حق ہے کہ اُنہیں مذاکرات میں شریک ایک اہم رکن کی زبان سے یہ معلوم ہو کہ مذاکرات سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے والی شخصیت کون ہے۔

سیاست دانوں کا رجحان عموماً اس جانب ہوتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کو ہر وقت پیش ِ نظر رکھتے ہیں اور کسی حد تک یہ اُن کا استحقاق بھی ہے، لیکن بعض امور ایسے ہوتے ہیں جو اس بات کے متقاضی ہوتے ہیں کہ سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو سامنے رکھا جائے۔ مذاکرات کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔ حکومت نے ساری سیاسی جماعتوں سے مشورے کے بعد طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا، فیصلہ تو ہو گیا، لیکن مذاکرات بہت ہی سُست روی سے آگے بڑھے، جس کی وجہ سے حامی بھی مایوس نظر آئے اور انہوں نے مخالفانہ بیان بازی شروع کر دی۔ اس وقت بہت سے حلقوں میں مایوسی کی کیفیت ہے، حتیٰ کہ بعض حلقے اس سلسلے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ یہ معاملہ مذاکرات سے حل نہیں ہونے والا، اب میجر عامر کی اس سارے عمل سے علیحدگی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ خود بھی مذاکرات کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں رہے۔ ظاہر ہے جب طالبان کے ساتھی اپنا سیاسی فائدہ پیش نظر رکھیں گے اور ملکی مفاد مقدم نہیں ہو گا تو اس گنجلک صورتِ حال سے کیسے نکلا جا سکے گا۔

مذاکرات اگرچہ تاحال تو بے نتیجہ رہے، لیکن اس دوران جو سرگرمیاں رہیں اُن کا کچھ احوال بھی میجر عامر کو برسر عام بیان کر دینا چاہئے، کیونکہ انہوں نے اگر ایک انتہائی فیصلہ کر لیا ہے، تو اہل ِ وطن کو یہ تو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اس نتیجے پر کیوں کر پہنچے اور کیا طالبان کی کمیٹی کے اس رکن کے بارے میں خود طالبان کو بھی معلوم ہے کہ وہ سیاسی مقاصد رکھتے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے مذاکرات کو بڑی حد تک داﺅ پر لگا دیا ہے۔ مولانا یوسف شاہ نے میجر عامر سے رابطے کا عندیہ دیا ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ وہ اس رابطے کے نتیجے میں اپنا فیصلہ بدلتے ہیں یا نہیں۔

مزید : اداریہ