سرکاری محکموں کے ذمہ گیس کے واجبات

سرکاری محکموں کے ذمہ گیس کے واجبات

  



عدم ادائیگی بل کی بناءپر محکمہ سوئی گیس نے پارلیمنٹ ہاﺅس اور وزیراعظم سیکرٹریٹ سمیت متعدد اہم ترین سرکاری عمارتوں کے گیس کنکشن کاٹ دیئے ہیں ان کے ذمہ لاکھوں روپے کے واجبات ہیں، جن عمارتوں کے گیس کنکشن منقطع کئے گئے ان میں ایوان وزیراعظم، پارلیمنٹ لاجز، کنونشن سنٹر، گورنر ہاﺅس مری اور فیڈرل شریعت کورٹ کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ اس عمل کے لئے وزیراعظم کی پیشگی اجازت بھی حاصل کی گئی۔

گیس، بجلی اور ٹیلی فون کے واجبات کی جب بھی بات ہوتی ہے تویہی کہا جاتا تھا کہ سرکاری محکموں کے ذمہ واجبات ادا نہیں کئے جاتے، حتیٰ کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں جب آڈٹ رپورٹیں زیر غور آتیں تو معلوم ہوتا کہ وزیراعظم ہاﺅس سے گورنر ہاﺅس اور دوسرے سرکاری محکمے بھی نادہندہ ہیں اور ان کو کوئی نہیں پوچھتا ان کے مقابلے میں عام شہری اگر ایک ماہ کے واجبات ادا نہ کرے تو اگلے ماہ اسے نوٹس ملتا اور اس کے مابعد کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے خبریں تواتر کے ساتھ شائع ہوتی رہی ہیں۔

اب اگر محکمہ سوئی گیس نے پہل کی اور باقاعدہ اجازت لے کر کنکشن کاٹے ہیں تو واجبات بھی ادا ہو جائیں گے۔ یوں بھی یہ واجبات سرکار کے ذمہ ہیں اور سالانہ غیر ترقیاتی بجٹ ہی میں سے ادا ہونا ہیں۔ جب بھی صوبائی یا وفاقی بجٹ بنتا ہے تو اس سے پہلے تمام سرکاری محکموں سے ان کے اخراجات کی تفصیل حاصل کر کے اس کے مطابق غیر ترقیاتی بجٹ میں رقوم مختص کی جاتی ہیں، اب اگر واجبات ادا نہیں ہوتے تو یہ غفلت ہے، جن متعلقہ ملازمین کی یہ ذمہ داری ہے ان کو پورا کرنا چاہئے اور ہر ماہ مختص رقم میں سے بل ادا کر دینا چاہئے اگر کسی صورت میں بل مختص رقم سے زیادہ بھی ہو جاتا ہے تو اس کے لئے ضمنی بجٹ کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اس سے بڑی غفلت اور کیا ہو سکتی۔اب اگر محکمہ سوئی گیس نے ہمت کر کے وزیراعظم سے اجازت طلب کی تو وزیراعظم نے اجازت بھی دے دی، اب نہ صرف واجبات وصول ہوں گے، بلکہ مستقبل میں ادائیگی بھی تسلسل کے ساتھ کی جائے گی۔ بہرحال وزیراعظم نے اچھا قدم اٹھایا اب ان کو دوسرے محکموں کوبھی اس نوعیت کی اجازت دے دینا چاہئے۔

مزید : اداریہ


loading...