اسلام آباد میں مظاہرین پر لاٹھی چارج

اسلام آباد میں مظاہرین پر لاٹھی چارج

  



اسلام آباد پولیس نے پولیس گردی اور پولیس تشدد کی روایت کو برقرار رکھا اور اسلام آباد ڈی چوک میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے احتجاج کرنے والے مظاہرین پرآنسو گیس اور لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا اور کچھ ہوائی فائرنگ بھی کی۔ پولیس کی کارروائی دیکھنے والے عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے غالباً پارلیمنٹ ہاﺅس کی جانب جانے کا ارادہ کیا کہ پولیس نے ان کو روکنے کے لئے پُرتشدد اقدام کیا۔ اس سے احتجاج کرنے والے زخمی بھی ہوئے اور ان کو گرفتار بھی کیا گیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ان کی رہائی عمل میں آئی۔ پولیس نے جس بے دردی کا مظاہرہ کیا، اسے خبطی پن کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا کہ جو بھی فرد ان کے سامنے آیا اس کی دھنائی کر دی اور اس کارِ خیر میںزنانہ پولیس نے بھی حصہ لیا، حتیٰ کہ کمیٹی کی سربراہ بیگم آمنہ مسعودجنجوعہ کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا۔ وہ بے ہوش ہوئیں تو ان کو بُری طرح گھسیٹ کر پولیس کی گاڑی میں سوار کرایا گیا۔تشدد اور گرفتاریوں کی خبر نشر ہونے کے بعد وزیراعظم نے نوٹس لیا اور وزیر داخلہ کو ہدایات دیں اور قرار دیا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، ان کی ہدایت پر گرفتار افراد کو رہا کیا گیا تو وہ پھر ڈی چوک میں جمع ہوئے اور موم بتیاں جلا کر مرحومین کو یاد کیا۔

پولیس نے جو کیا وہ روائتی تھا اور اس سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اور حکومتیں پولیس کلچر کا خاتمہ چاہتی ہیں، لیکن برسر اقتدار آ جانے کے بعد ہر کوئی اپنی مرضی اور پسند کے مطابق عوام کو ڈھلا ہوا دیکھنا پسند کرتا ہے اور اسی پولیس کے سہارے عوام کو کنٹرول کرتا ہے، اس لئے پولیس بے لگام ہو جاتی ہے۔ یہ مختصر سی جمعیت تھی جس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہو سکتاتھا۔ ٭

مزید : اداریہ


loading...