نامور مزاحیہ اداکار منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے 38برس بیت گئے

نامور مزاحیہ اداکار منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے 38برس بیت گئے

  



لاہور (این این آئی)منور ظریف 2 فروری 1940ءکو لاہور کے گنجان آباد علاقے قلعہ گجر سنگھ میں پیدا ہوئے تھے۔ 29 اپریل 1976ءکو دنیا سے رخصت ہوئے وہ لاہور میں بی بی پاک دامناں کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کے بڑے بھائی ظریف اپنے زمانے کے معروف مزاحیہ اداکار تھے۔ مگر وہ نہایت کم عمری (صرف 34 سال کی عمر) میں 30 اکتوبر 1960ءکو وفات پاگئے تھے۔ ظریف کے انتقال کے بعد منور ظریف نے فلمی دنیا کا رخ کیا۔ بطور مزاحیہ اداکار انہیں سب سے پہلے فلم اونچے محل میں کاسٹ کیا گیا مگر اونچے محل سے پہلے 14 جون 1961ءکو منور ظریف کی ایک اور فلم ڈنڈیاں ریلیز ہوگئی اور یوں ڈنڈیاں منور ظریف کی پہلی فلم قرار پائی۔منور ظریف ایک بہت باصلاحیت اداکار تھے۔ انہوں نے اپنی بے ساختہ اداکاری کی وجہ سے بہت جلد فلمی دنیا میں اپنا مقام بنالیا دیکھتے ہی دیکھتے وہ اردو اور پنجابی فلموں کی ضرورت بن گئے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے 15 سالہ فلمی کیریئر میں انہوں نے 321 فلموں میں کام کیا۔ یعنی اوسطاً ہر سال ان کی21 فلمیں ریلیز ہوئیں۔منور ظریف کی پہلی سپر ہٹ فلم ہتھ جوڑی تھی جو 4 دسمبر 1964ءکو ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور اپنی ہر فلم میں اپنی جگتوں اور بے ساختہ فقروں سے لبریز اداکاری کی وجہ سے پنجابی فلموں کے سب سے بڑے مزاحیہ اداکار کے طور پر تسلیم کئے جانے لگے۔ رفتہ رفتہ ان کی شخصیت کو سامنے رکھ کر فلمیں لکھی جانے لگیں ۔ بنارسی ٹھگ، جیرا بلیڈ، رنگیلا اور منور ظریف، نوکر ووہٹی دا، خوشیاں، شیدا پسٹل، چکر باز، میراناں پاٹے خاں، حکم دا غلام، نمک حرام،بندے دا پتر اور آج دامہینوال ان کی ایسی ہی لاتعداد فلموں میں سے چند کے نام ہیں۔ ان کی آخری فلم لہودے رشتے تھی جو 1980ءمیں ریلیز ہوئی تھی۔منور ظریف نے رنگیلا کے ساتھ بھی متعدد فلموں میں کام کیا۔ ان دونوں اداکاروں کے بے ساختہ فقرے اور جگتیں، فلم بینوں کے ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں۔منور ظریف نے 1971ءمیں فلم عشق دیوانہ میں پہلی مرتبہ خصوصی نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے بعد انہیں فلم بہارو پھول برساﺅ اور زینت میں بہترین مزاحیہ اداکار کے نگار ایوارڈ ملے۔

مزید : کلچر


loading...