حکومت آلو کے کاشت کاروں کو فوری ریلیف فراہم کرے‘ چوہدری محمد اسلم

حکومت آلو کے کاشت کاروں کو فوری ریلیف فراہم کرے‘ چوہدری محمد اسلم
حکومت آلو کے کاشت کاروں کو فوری ریلیف فراہم کرے‘ چوہدری محمد اسلم

  



لندن (بیورورپورٹ) حکومت آلو کے کاشت کاروں کو فوری طور پر ریلیف فراہم کرے گزشتہ تین برسوں سے آلو کے کاشت کار پس رہے ہیں مناسب دام نہ ملنے کے باعث آلو کی فصل اور کاشت میں 50فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے ان خیالات کا اظہار برطانیہ میں مقیم ساہیوال سے تعلق رکھنے والے معروف زمیندار اور غضنفر کولڈ سٹور کے مالک معروف کاروباری شخصیت چوہدری محمد اسلم نے ایک ملاقات میں کیا انہوں نے کہا کہ اب آلو کے زمیندار کو مناسب قیمت مارکیٹ میں مل رہی ہے تو حکومت آلو کی قیمت فکس کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے جو کہ سراسر کسان دشمنی کے مترادف ہے موجود ہ حکومت زمینداروں کے مسائل سے آگاہ ہونے کی بجائے انہیں نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچنا بند کر دے اگر حکومت نے آلوﺅں کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو پھر کسان اتحاد حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کا سلسلہ شروع کر دے گا چوہدری محمد اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت انرجی کے بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ایک ایسی پالیسی ہے کہ آلو کی ایکسپورٹ پر بھاری ڈیوٹی ہے اور امپورٹ پر ڈیوٹی فری ہے حکومت اپنے زمینداروں کو سہولت فراہم کرتی ہے لیکن موجودہ حکومت نے کاشتکاروں کے لیے مسائل کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے ملک کی 70فیصد آمدنی ذراعت کے شعبہ سے حاصل ہوتی ہے گزشتہ تین سالوں سے زمیندار پٹ کر رہ گیا ہے ان برسوں میں زمیندار کو آلو کی صیح قیمت نہ ملنے کے باعث انہوں نے دلبرداشتہ ہو کر آلو کی کاشت میں کمی کر دی کیونکہ فصل پر ہونے والی لاگت زیادہ اور منافع نہ ہونے کے برابر تھا جو زمیندار ٹھیکے پر فصل کاشت کرتے تھے انہوں نے کاشت کرنا چھوڑ دی ہے کیونکہ قیمت کم ہونے کی وجہ سے وہ بیج اور کولڈ سٹوریج کی قیمت ادا نہ کر پائے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ زمینداروں نے سٹوروں سے آلو ہی نہ اٹھائے اور با لا آخر سٹور مالکان نے اپنے کرایہ پر ٹریکٹروں کے ذریعے آلو باہر پھینک دیے سال 2012میں بھی ابتدا میں آلو کی قیمت ٹھیک رہی مگر پھر اس میں بتدریج کمی آ گئی او ر اس برس بھی گزشتہ برسوں کے مسلسل نقصان میں رہنے کے باعث زمینداروں نے آلو کی فصل کم کاشت کی اور کچھ فصل کورا پڑنے کے باعث اس کی پیدوار میں کمی رہی ‘ اس طرح آلو کی فصل پچاس فیصد کم پیدا ہوئی۔

 اب تیس روپے کلو کے حساب سے آلو فروخت کرنے کا حکم دراصل ناانصافی ہے انہوں نے کہا کہ کسان اتحاد کے صد اور فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان کے صدور کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں حکومت کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینا ہوگا اور کاشتکاروں کو ایک مناسب قیمت پر آلو فروخت کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ گزشتہ تین برسوں کے نقصانات کا ازالہ ہو سکے ۔

مزید : عالمی منظر


loading...