سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہاں کی نوجوان نسل کو نشہ آور ادویات کا عادی بنایا جارہا ہے، میر واعظ

سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہاں کی نوجوان نسل کو نشہ آور ادویات کا عادی بنایا ...

  



سرینگر (کے پی آئی)متحدہ مجلس علماکے امیر اورحریت کانفرنس (ع)کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے کشمیر میں نشہ آور اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کیلئے اس پیشہ سے وابستہ افراد اور ایجنسیوں سے تعاون طلب کرتے ہوئے ان پر زور دیاکہ وہ غیر معیاری ادویات کی وادی میں درآمد روکنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹری نسخے کے بغیر کوئی دوائی فروخت کرنے سے گریز کریں ۔ اطلاعات کے مطابق اصلاح معاشرہ کے سلسلے میںسماجی بدعات ،بے راہ روی، منشیات اور دیگر برائیوں کیخلاف جاری مہم کے سلسلے میں میرواعظ منزل سرینگر پر منعقدہ اپنی نوعیت کے ایک غیر معمولی اجلاس میں وادی کے سرکردہ دوا فروش مالکان کی ایسو سی ایشن کے ذمہ داروں اور حیات بخش ادویات کے پیشے سے وابستہ درجنوں سرکردہ افراد اور ذمہ داروں نے شرکت کی۔

اس موقعہ پرمیرواعظ عمر فاروق نے اپنے خطاب میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہاں کی نوجوان نسل کو نشہ آور ادویات کا عادی بنایا جارہا ہے اور ریاستی حکومت اس ضمن میں کوئی ٹھوس ڈرگ پالیسی ترتیب دینے میں مکمل طور ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں میں بھی غیر معیاری ادویات فراہم کی جارہی ہےں اور صحت عامہ کے حوالے سے نقلی ادویات کی کھلے عام فروخت نے سرکاری ڈرگ پالیسیDrug Policy کو بے نقاب کردیا ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ کئی برسوں کے نامساعد حالات جہاں اس قوم کو سیاسی ، معاشرتی اور سماجی سطح پر پشت بہ دیوار کرنے کی مذموم کوششیں کی گئیں اور مذہبی رواداری ، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی روایات سے معمور کشمیری سماج کو ہر طرح سے زہر آلود بنانے کی کوشش کی گئی وہیں من حیث القوم ہم نے ناگفتہ بہہ حالات سے سبق سیکھنے کے بجائے اپنے سماج کو روبہ زوال دیکھنے پر ہی اکتفا کیا ۔انہوں نے کہا ہماری نوجوان نسل نت نئی برائیوں کی خوگر بنتی جارہی ہے، منشیات کے استعمال ، قمار بازی اور دیگر اخلاق سوز اور انسانیت کش برائیاں ہمارے سماج کا حصہ بنتی جارہی ہےں اور اصلاح احوال کے لئے صرف علمائے کرام، ائمہ مساجد ، دینی اور فلاحی اداروں کے ساتھ ساتھ حیات بخش ادویات اور علاج و معالجہ سے وابستہ ذہ حس افراد کا خاصا اہم رول بنتا ہے ۔ کے ا یم ا ین نمائندے کے مطابق انہوں نے کہاکہ آج بغیر کسی رکاوٹ کے بہ سہولت ڈاکٹری نسخہ کے بغیرنشہ آور اور نقلی ادویات کی سپلائی، انسانی ادویات میں نشہ آور کیمکلز کی آمیزش، ڈاکٹر صاحبان کی طرف سے طبی جانچ کے نام پر بیماروں سے غیر ضروری ٹیسٹ کرانے کی شکایات عام ہے ، نشہ آ ور ادویات سے متاثرہ افراد کے علاج کیلئے صرف دو ہی مرکز جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد ہزاروں ہے اور مسائل کے خاتمے کے لئے آپ صاحبان کا عملی تعاون اصلاح معاشرہ کی مہم کی کامیابی کیلئے ناگزیر ہے ۔ میرواعظ نے کہا ہم نے معاشرتی اصلاح اور سماجی تطہیر کی جو ہمہ گیر مہم شروع کی ہے یہ اجلاس اسی کا تسلسل ہے اور ہماری کوشش رہے گی کہ ہم اپنے سماج کے ہر ایک پہلو سے وابستہ لوگوں سے مشاورت کرکے انکی قیمتی آراکو نظر میں رکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرےں اور اس قومی نوعیت کی مہم کو عوام کے تعاون کے بغیر حل نہیں کیا جاسکتا۔اس موقعہ پر حیات بخش ادویات سے وابستہ پیشہ سے وابستہ کئی اہم شخصیات جن میں ڈاکٹر منظور الحق، فیاض احمد آزاد، روف احمد رنگریز، مشتاق احمد پختہ،اعجاز احمد کاچرو، سجاد احمد، ڈاکٹر ساجد، ڈاکٹر عمر، الطاف احمد خان، شیخ عبدالرشید اور جاوید احمد متو شامل ہیں ،نے ٹھوس اور جامع تجاویز پیش کیں اور میرواعظ کو اس اہم قومی نوعیت کے مہم میں اپنے بھر پور اشتراک اور تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقعہ پر انہوں نے کشمیر میں نقلی اور نشہ آور ادویات کو وادی میں درآمد کئے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس کاروبار میں کئی سرکاری اور غیر سرکاری ایجنسیاں باضابطہ ملوث ہیں جو بیرون ریاست گاڑیوں میں بھر بھر کر یہ ادویات کشمیر میں لاکر سستے داموں نوجوانوں کو فروخت کرکے انہیں ان ادویات کا عادی بنا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر نشے کی لت میں مبتلا افراد کو گرفتار تو کیا جاتا ہے لیکن جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان پر کوئی روک ٹوک نہیں۔انہوںنے کہا کہ وادی میں ایسے متعدد دوا فروش ہیں جن کے پاس باضابطہ دوائی فروخت کرنے کی کوئی لائسنس نہیں ہوتی ۔ اس کے باوجود وہ کھلے عام اس پیشہ سے وابستہ ہیں جس کے تدارک کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی سطح پر کئی بار حکومت کو اس بارے میں کئی تجاویز پیش کیں لیکن اس کے باوجود نہ صرف کشمیر میں نقلی اور نشہ آور ادویات کا کاروبار جاری ہے بلکہ اسکی باضابطہ سرکاری سطح پر پشت پناہی کی جارہی ہے ۔بعد میں منشیات کے پھیلاو کے سبب رونما ہو رہے مضر اثرات اور منفی نتائج پر ایک پاور پرزینٹیشن کے ذریعہ اعدادو شمار کی روشنی میں تازہ ترین حقائق و واقعات بھی پیش کئے گئے۔

مزید : عالمی منظر