مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد بھارتی انتخابات کے خلاف آج مکمل ہڑ تال ہو گی

مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد بھارتی انتخابات کے خلاف آج مکمل ہڑ تال ہو گی

  



                                                           سرینگر / بارہمولہ (کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد بھارتی انتخابات کے خلاف آج ( بدھ کو ) مکمل ہڑتال ہو گی ۔ اس دوران وادی میں پارلیمانی چناو¾ کے دوسرے مرحلے سے قبلحریت خیمے اور مشتبہ نوجوانوں کیخلاف سخت کریک ڈاو¾ن کے تحت پولیس نے وسطی اورشمالی کشمیر میں 600سے زیادہ نوجوانوں اورحریت لیڈروںو کارکنان کوگرفتار کیا جن میں شبیر احمد شاہ،نعیم احمد خان، ایازاکبر ،ظفراکبربٹ ،مختاراحمدوازہ ،جمیل احمد وار اوربلال صدیقی سمیت کئی حریت لیڈران وکارکن شامل ہیں ۔پولیس نے تازہ گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ وسطی اورشمالی کشمیر میں پرامن پولنگ کویقینی بنانے کیلئے 460 مبینہ سنگبازوں کواحتیاطی طورحراست میں لیاگیاجبکہ24اپریل کوجنوبی کشمیر میں انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کی پاداش میں 70مشتبہ پتھراﺅ کرنے والوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اورآنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔اس دوران شمالی قصبہ بارہمولہ اورحاجن میں تازہ چھاپوں اورنوجوانوں کی پکڑدھکڑ کیخلاف احتجاج کیا گیا۔ وادی میں 30اپریل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور اس مرحلے کے پیش نظر پولیس اور فورسز نے الیکشن مخالف حریت جماعتوں اور لیڈران و کارکنان کے خلاف اپنی کارروائیوں میں مزید شدت لائی ہے ۔پولیس اور فورسز نے سرینگر شہراور وسطی و شمالی کشمیر کے مختلف علاقوں میں تازہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 250سے زیادہ حریت کارکنان ، مشتبہ سنگ اندازوں اور گزشتہ برسوں میں ہونے والی گرمائی ایجی ٹیشن کے دوران پولیس ایف آئی آر کی زد میں آنے والے نوجوانوں کی گرفتاری عمل میںلائی ۔سرینگرشہر میںگذشتہ روز پولیس اور فورسز نے مولانا آزاد ورڑ کے متصل پرتاب پارک کے نزدیک اچانک چیکنگ کے دوران2نوجوانوں کو گرفتار کیا جبکہ گزشتہ روز نشاط علاقہ کے شیخ محلہ برین میں ایک درجن سے زیادہ نوجوانوں کو حراست میں لینے کی اطلاع ملی ۔ادھر شہر کے ایک حساس علاقہ مائسمہ میں پولیس نے دوران شب چھاپے ڈال کر حریت کارکن جمیل احمد وار سمیت کئی افراد کو گرفتار کر لیا ۔

جبکہ پولیس کی گرفتاری سے بچنے کیلئے حریت(ع) کے لیڈر اور پیپلز پولیٹیکل پارٹی کے چیرمین ہلال احمد وار روپوش ہو گئے ہیں ۔ تحریک مزاحمت کے چیرمین بلال صدیقی کو ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیاگیا۔ حریت کا نفرنس جموں کشمیر کے سینئر رہنما وںشبیر احمد شاہ اور نعیم احمدخان کو مسلسل خانہ نظربندی کے بعد پو لیس نے گر فتار کر کے نا معلوم جگہ پرمنتقل کردیا۔ تحریک حریت کے راہنماوں جن میں محمد اشرف صحرائی، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین، عبدلغنی بٹ صدرِ ضلع بارہ مولہ، محمد یوسف لون، امیر حمزہ، ڈاکٹر غلام محمد گنائی، امتیاز حیدر، عاشق حسین صوفی، بشیر احمد شیخ، بلال احمد میر، لطیف احمد گنائی، بلال احمد، عمر عادل ڈار، حمید احمد پرے اور اس کا بیٹا، ارشد احمد حیدرپورہ، فاروق غوطہ پوری کے بھائی نظیر احمد کو مختلف تھانوں میں بند کیاگیا۔ پولیس نے کل رات دیر گئے ایک شبانہ چھاپے میں لبریشن فرنٹ قائد امتیاز احمد( بٹہ گورو)،اشرف بن سلام، جن کے برادر پہلے ہی گرفتار تھے اور فرنٹ کے زونل اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری شیخ عبد الغفار، جن کے دو بیٹے پہلے ہی گرفتار کئے گئے تھے سمیت مائسمہ سے کئی جوانوں کے علاوہ درگاہ حضرت بل سے فرنٹ کے عنایت احمد بٹ سمیت کئی جوانوں جن میں شبیر احمد صوفی،اعجاز احمد بقال،ندیم احمد بانڈے،وسیم احمد ڈار اور محمد شفیع کو حراست میں لے لیا ہے۔اس کے علاوہ قائدین شوکت احمد بخشی اور غلام رسول ہزاری جنہیں کئی روز پہلے گرفتار کیا گیا تھا، کو سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔حریت (ع)لیڈر حکیم عبدالرشید، صوفی مشتاق احمد، مولوی خضر محمد اورہوش بالہامی کو پولیس نے گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں مقید کردیا ہے۔سالویشن مومنٹ کے چیرمین ظفراکبر بٹ کو پولیس نے اپنی رہایش گاہ واقع باغ مہتاب سرینگر سے گرفتار کر کے انہیں پولیس اسٹیشن صدر چھانہ پورہ میں بند کیاجبکہ اس سے قبل سالویشن مومنٹ کے درجنوں کارکنوں کی بھی پولیس نے گرفتار کرلیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ پولیس نے الیکشن مخالف مہم کے پیش نظر پہلے ہی سید علی گیلانی اور دیگر کئی مزاحمتی لیڈران کو خانہ نظر بند رکھا ہے جبکہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک سمیت کئی حریت کارکن گزشتہ کئی دنوں سے پولیس حراست میں ہیں ۔پولیس نے شہر خاص میں بھی چھاپوں کے دوران گزشتہ کچھ دنوں میں ہی 50سے زیادہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے پولیس تھانوں میں بند کر دیا گیا ہے جبکہ سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں بھی کئی افراد کو حراست میں لینے کی اطلاع ملی ۔ادھر وسطی قصبہ بڈگام ، گاندربل اوردیگر کئی علاقوں میں بھی پولیس اور فورسز نے الگ الگ چھاپوں کے دوران مزید50سے زیادہ مزاحمتی کارکنان اور مشتبہ نوجوانوں کو حراست میں لیا ۔اس دوران پولیس نے بارہمولہ قصبہ اور حاجن میں شبانہ چھاپوں کے دوران نصف درجن سے زیادہ نوجوانوں کو حراست میں لیا جن میں 2کمسن بھائی بھی شامل ہیں ۔ اولڈ ٹاو¾ن بارہمولہ میں پولیس اور فورسز نے چھاپے ڈال کر 2کمسن سگے بھائیوں عبید فاروق و اوئیس فاروق پسران فاروق احمد وازہ ساکن محلہ جامع بارہمولہ ، امیث احمد زرگر ولد غلام رسول ساکن توحید گنج اور اعجاز احمد گوجری ساکن پٹن حال محلہ گنائی حمام بارہمولہ کو گرفتار کیا جبکہ اس دوران اعجاز گوجری کے ایک رشتہ دار نوجوان شفاعت گوجری کو مبینہ طور زد و کوب کیا گیا ۔ادھر معراج الدین گاشروولد بشیر احمد ساکن آزاد گنج بارہمولہ کو مین بازار بارہمولہ کے نزدیک گرفتار کر لیاجبکہ کریری سے بھی تین نوجوانوں کو گرفتار کیاگیا ہے ۔ادھر دریں اثنا پولیس نے حریت (گ) کی اکائی ماس مومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن کو دیگر 6کارکنان سمیت 3مئی تک پولیس ریمانڈ میں دیا گیا ۔ اس دوران سرینگر میں پولیس نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاکہ جنوبی کشمیر میں مورخہ 24 اپریل پولنگ کے دن سنگ بازی اور تشدد کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے امن و امان میں رکھنا ڈالنے والے اورپتھراﺅ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی ہے پولیس نے اب تک جنوبی کشمیر میں 70 پتھراﺅ کرنے والے جن میں پلوامہ سے 25، شوپیان سے 09 ، اونتی پورہ سے 12 ، کولگام سے 13، اور اننت ناگ سے گیارہ پتھراﺅں کرنے والوں کی گرفتاری عمل میں لائی ۔ آنے والے دنوں میں مذید گرفتاریاں متوقع ہے جن کی پہچان ہوچکی ہے۔ اسی طرح شمالی کشمیر میں 60 سنگ بازوں کی احتیاطی طور گرفتار ی عمل میں لائی گئی تاکہ پولنگ کے دن ووٹنگ میں رکھنا نہ پڑھ سکے۔ پولیس کے مطابق الیکشن میں کسی بھی افراد کو ووٹنگ میں رخنا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائی گی، ان گر فتاریوں کا مقصد صرف لوگوں میںاعتماد باہم کیا جانا ہے تاکہ وہ ووٹ کابغیر کسی خوف استعمال کر سکے۔

مزید : عالمی منظر


loading...