لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم سازشوں کی نذر ڈائریکٹر سے اختیارات واپس لے لئے گئے

لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم سازشوں کی نذر ڈائریکٹر سے اختیارات واپس لے لئے ...

  



لاہور(اپنے نمائندے سے )پنجاب بھر میں جاری لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم پی ایم یو کے مخصوص افسران کی اندرونی سازشوں کی بھینٹ چڑھ گیا ،بے پناہ طاقت کی خواہش، اختیارت کا وسیع استعمال، اور من پسند افراد کی اجارہ داری والانظام بھی قائم کر دیا گیا جس کی واضح مثال پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیے جانے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈریکارڈ ہیں جو کہ پہلے ہی دن سے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے کنٹریکٹ افسران کے زیر عتاب ہیں جبکہ تحصیل کلکٹر کی سطح کے تمام افسران کو ایمرجنسی یا بیماری میں چھٹی حاصل کرنے کے لیے مخصوص افسران کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے عوام الناس کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے ورلڈ بنک کے تعاون سے لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم شروع کیا گیا اور پٹوار کلچر کے خاتمے کا نعرہ لگاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بورڈ آف ریونیو کے تمام سینئر افسران پنجاب بھر کے ڈی سی او صاحبان،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر اور سیٹلمنٹ افسران کی جانب سے انتھک محنت کے بعد سینکڑوں کی تعدا میں موضع جات کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرتے ہوئے آن لائن بھی کروا دیا اور اس آن لائن سسٹم کو چلانے کے لیے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات سے پاس ہونے والے 100سے زائد اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کو بھی بھرتی کیا گیا جن کو تحصیل کلکٹر کی سطح کے اختیارات دینے کے حوالے سے ایک چٹھیجاری کی گئی جس کے بعد بدقسمتی، لاقانونیت،اختیارات کا ناجائز استعمال اور اندرونی سازشوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروعہو گیا جس کاسرفہرست شکار خودڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ ہو گئے جن کو کئی سال بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کی پوسٹنگ کے اختیارات سونپے گئے تھے، لینڈ ریونیو ایکٹ کے سب سے مضبوط شعبہ لینڈ ریکارڈ جو کئی سالوں سے غیر فعال بنا کر رکھ دیا تھا جب ابتدائی طور پر کام کرنے ہی لگا تھا کہ پی ایم یو کی مخصوص لابی کو یہ بات ہضم نہ ہوئی اور ایک مخصوص پراپیگنڈے اور سازش کے تحت ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ پنجاب سے تمام تر اختیارات دوبارہ واپس لے لیے گئے جس کے بعد اس مخصوص لابی کا اگلا ٹارگٹ اسسٹنٹڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ بنے جو کہ پہلے ہی روز سے پی ایم یو کے کنٹریکٹ افسران کی آنکھوں میں چپ رہے تھے لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم میں پی ایم یو افسران کی اجارہ داری کے حوالے سے کئی مثالیں قائم کی جا چکی ہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کے سروس سٹرکچر مکمل کیے جانے میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ پی ایم یو کے افسران ہیں اے ڈی ایل آر کو فرنیچرز کی عدم دستیابی سے لیکر انچارج آفیسرز کے ناروا سلوک تک کی جانے والی حرکات بھی اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں جبکہ چند ماہ قبل ایک اور چٹھی جاری کی گئی ہے جس میں پنجاب بھر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کرنے والے آفیسرز کے ماتحت کرتے ہوئے ایمرجنسی اور بیماری کی صورت میں چھٹی دینے کی مجاز اتھارٹی بنا دیا گیا ہے جس کے باعث پنجاب بھر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ میں مایوسی اور بے چینی کی فضا قائم ہو چکی ہے چوں کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈکی مجاز اتھارٹی بھی اب پی ایم یو کے افسران ہیں تو نوکری جانے کے خوف سے اپنے ساتھ درپیش مسائل کی آگاہی کے لیے کسی بھی اعلیٰ آفیسر کو آگاہ نہیں کر پا رہے انہوں نے سینئر ممبر بورڈ آف ریو نیو پنجاب ندیم اشرف سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے دوسری جانب پی ایم یو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ الزامات بے بنیاد ہیں جو بورڈ آف ریونیو کی پالیسی ہے اسی کے مطابق کام کر رہے ہیں کسی قسم کی نہ تو کوئی اجارہ داری ہے نہ ہی کوئی اختیارات کی لالچ ہے میرٹ پر کام کیا جا رہا ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1