سال گزر گئے ڈاکٹروں کا سرجیکل آڈٹ نہ ہو سکا

سال گزر گئے ڈاکٹروں کا سرجیکل آڈٹ نہ ہو سکا

  



15                             لاہور(جاوید اقبال) ٹیچنگ ہسپتالوں کے بورڈ آف مینجمنٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا سرجیکل اور کلینیکل آڈٹ کرانے میں مکمل ناکام ہو گئے ہیں یہ آڈٹ ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے جو گزشتہ 15سال سے نہیں ہو سکا، بورڈ آف مینجمنٹ نے ٹیچنگ ہسپتالوں کے پرنسپلز کی ملی بھگت سے پروفیسرز اور ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ”لڑانے“ کے لئے ہسپتالوں کے سربراہان کہلانے والے پرنسپلز کی بجائے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس پر یہ ذمہ داری ڈالی مگر اس کے لئے بورڈ آف مینجمنٹ سے میکنزم طے کیا نہ کوئی نوٹیفیکیشن یا ضابطہ جاری کیا،آڈٹ کے ذریعے ایسے ڈاکٹرز کا پتہ چلانا تھاجن سے دوران علاج کوتاہی ہوئی ہو،یاکوئی مریض دوران آپریشن یا داخلہ وفات پا گیا ہو، اسی طرح ایسے ڈاکٹرز جن سے مریض ”پریشان“ ہوئے ہوں یا ان کا قوانین کے مطابق علاج معالجہ نہ ہوا ہو ایسے ڈاکٹروں کا ماہانہ بنیادوں پر کلینیکل، میڈیکل آڈٹ بھی کیا جاتا ہے اور اس میں باقاعدہ، ہر وارڈ کا بورڈ بیٹھ کر ڈاکٹرز سے مریضوں کا حساب کتاب لیتاہے بتایا گیا ہے کہ ہسپتالوں کی خودمختاری کے ساتھ ہی سرجیکل اور کلینیکل آڈٹ کا سلسلہ بند کر دیا گیا اس کے لئے ہر ہسپتال کے بورڈ آف مینجمنٹ کو ڈاکٹروں کے آڈٹ کا طریقہ کار طے کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کا نوٹیفیکیشن کرنا تھا جو آج تک نہیں ہو سکا جس سے متاثرہ مریض کویہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ ان کے کیس خراب ہونے کی وجوہات کیا تھیں اس حوالے سے سیکرٹری صحت ڈاکٹر اعجاز منیر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں سرجیکل اینڈ کلینیکل آڈٹ کا سلسلہ شروع کرائیں گے اس سلسلے میں ہسپتالوں کی انتظامیہ کو پابند بنائیں گے کہ وہ سرجیکل کلینیکل آڈٹ کا سلسلہ شروع کرائیں اس سے ایسے مریض جن کے کیس خراب ہوتے ہیں اس کا پتہ چلتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا مریضوںکی اموات کیوں ہوئی ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...