سروسز ہسپتال ، تعمیر و مرمت کے کاموں کےلئے فنڈز جاری کرنے میں تاخیر مہنگی پڑ گئی

سروسز ہسپتال ، تعمیر و مرمت کے کاموں کےلئے فنڈز جاری کرنے میں تاخیر مہنگی پڑ ...

  



لاہور(جنرل رپورٹر) سروسز ہسپتال کے پرنسپل اور ڈائریکٹر فنانس کی تعمیر و مرمت کے کاموں کے لئے فنڈز جاری کرنے میں لیت و لعل مہنگی پڑ گئی سالانہ مرمت اور سروس کے بغیر ائیرکنڈیشنڈ چالو کرنے پر تاروں کو دھماکوں سے آگ لگ گئی جس سے پورے ہسپتال کی بجلی بند ہو گئی اور اس صورتحال کے باعث ڈاکٹروں نے لسٹ پر رکھے گئے مریضوں کی اکثریت کے آپریشن ملتوی کر دیئے ، بتایا گیا ہے کہ ہسپتال کی انتظامیہ پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے دباﺅ ڈالا کہ ہسپتال کے ائیرکنڈیشنڈ نہ چلائے گئے تو آپریشن نہیں کریں گے جس پر انہیں بتایا گیا کہ ہسپتال کے لئے بجلی کا منظور شدہ لوڈ2.7کلو واٹ ہے اگر تمام ائیرکنڈیشنڈ چلائے گئے تو یہ لوڈ 4.9کلو واٹ ہو جائے گا ۔

 اس کے لئے پرنسپل اور ڈائریکٹر فنانس کو پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا تھا کہ بجلی کی تاروں کی تبدیلی سمیت اے سی کی سروس وغیرہ کے لئے فنڈز درکار ہیں اور اس کے لئے ہسپتال کے پاس ایل پی ای کی مد میں 35کروڑ روپے موجود ہیں مگر دونوں افسروں نے لیت و لعل سے کام لیا اور فنڈز دینے میں خاموشی اختیار کئے رکھی گزشتہ روز ڈاکٹروں کے دباﺅ کے بعد انتظامیہ نے پورے ہسپتال میں ائیرکنڈیشنڈ چلا دیئے اور تاریں ان کا لوڈ برداشت نہ کر سکیں آڈٹ ڈور بلاک میں تاروں کو آگ لگ گئی جبکہ بعض جگہوں پر تاریں میلی ہو گئی جس پر پورے ہسپتال کی بجلی بند ہو گئی

بجلی کی دن بھر بندش جاری رہی

جس سے مریضوں کا برا حال رہا، اگرچہ انتظامیہ نے جنریٹرز کی مدد سے ایمرجنسی، آئی سی یو، سی سی یو میں سپلائی جاری کرا دی مگر پورے ہسپتال کا نظام درھم برہم ہو گیا بتایا گیا ہے کہ اگر پرنسپل اور ڈائریکٹر فنانس بروقت فنڈز جاری کرا دیتے تو یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...