نیاز بیگ میں 2ہزار سے زائد متنازعہ انتقال ،پٹواری مشکلات کا شکار

نیاز بیگ میں 2ہزار سے زائد متنازعہ انتقال ،پٹواری مشکلات کا شکار ...

  



                                       لاہور (اپنے نمائندے سے )بورڈ آف ریونیو کے شعبہ آڈٹ اینڈ انسپکشنکی غفلت اور ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کی عدم توجہ کے باعث اشتمال میں بطور کلیکٹر لاہور تعینات نوید عالم کے نیاز بیگ قانون گوئی میں بطور سی او تعیناتی کے دوران درج کیے جانے والے 2000ءسے زائد متنازعہ انتقال عوام الناس کی اکثریت اور متعلقہ پٹواریوںکے لیے عذاب بن گئے، سابقہ ریکارڈ کے ساتھ مطابقت نہ ہونے کے باعث بیع در بیع ا نتقالات کے اندراجات میں بے پناہ غلطیوں کے ابہام پیدا ہو رہے ہیں ، وقف شدہ اراضی کھاتہ 973کھتونی کے حوالے سے درج کیے جانے والے مشکوک انتقال اور ایل ڈی اے کی ایکوائر شدہ اراضی کو جعلی رجسٹریوں کے زریعے منتقل کیے جانے کی اطلاعات کے باوجود ابھی تک کو ئی محکمانہ کارروائی شروع نہیں کی جا سکی جس کے باعث بورڈ آف ریونیو کے افسران کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان پیدا ہو رہے ہیں ریونیو کے ماہرین اور ان کے متنازعہ انتقالات سے متاثر ہونے والے شہریوں کی اکثریت اور ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب منسٹر مال اور کمشنر لاہور سے فور ی نوٹس کی اپیل کی ہے روز نامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق بورڈ آف ریونیو کے شعبہ اشتمال میں بطور کلیکٹر لاہور تعینات نوید عالم قبل ازیں اشتمال لاہور میں بطور سرکل آفیسرتعینات رہے ہیں اور اپنی تعیناتی کے دوران 2000سے زائد ایسے متنازعہ اور مشکو ک انتقالات کا اندراج کرتے ہوئے تصدیق کیے ہیں جن کو سابقہ سی او صاحبان دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتے ہیں اور کانوں کو ہاتھ لگا لیتے ہیں مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ نوید عالم کے دور میں تصدیق ہونے والے انتقالات سے وہاں کے مقامی لینڈ مافیا کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا تھا زرائع سے مزید معلوم ہوا ہے کہ پٹوار سرکل نیاز بیگ میں تصدیق ہونے والے انتقال نمبر 49551سے لیکر 51610تک تصدیق کیے جانے والے انتقالات کی اگر درست پڑتال کی جائے اور سابقہ ریکارڈ سے مطابقت کی جائے تو بڑے پیمانے پر ہونے والی بے ضابطلیاں عیاں ہو جائنگی مزید معلوم ہوا ہے کہ سابق ڈی ڈی او سی اشتمال عثمان غنی کو بھی نیاز بیگ کے مقامی شہریوں کی جانب سے ان متنازعہ انتقالات کی بابت تحریری درخواستیں دی گئی تھیںمعلوم ہوا ہے کہ تحریری ثبوت اور دستاویزات کو بھی ایک مخصوص رپٹ کے زریعے غائب کر وادیا گیا تاہم مقامی علاقے کے رہائشیوں نے آگاہی دی ہے کہ اس ضمن میں انتقالات کی کاپیاں لف کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کے آفس میں بھی آئندہ چند روز میں بھی درخواسست دے دی جائے گی تاہم محکمانہ کارروائی کرنے سے بھی تمام خدشات اور ابہام دور ہو سکتے ہیں اس حوالے سے ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ پنجاب طارق محمود کاکہنا ہے کہ روزنامہ پاکستان متنازعہ انتقالات کی نشاندہی کرے فوری طور پر آڈٹ کرتے ہوئے بستہ پڑتال کی جائے گی دوسری جانب کلیکٹر اشمال نوید عالم کے موبائیل نمبر 0321-6325971پر رابطہ کرنے کی متعددبار کوشش کی گئی اور بذریعہ مسیج بھی ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی طر ف سے کوئی جواب نہ مل سکا اگر وہ اپنا موقف دینا چاہیں تومن و عن شائع کیا جائے گا

مزید : میٹروپولیٹن 1