ہٹلر میٹھے کا شوقین تھا

ہٹلر میٹھے کا شوقین تھا
ہٹلر میٹھے کا شوقین تھا

  



مانچسٹر(بیورورپورٹ)جرمنی کے سابق حکمران”ایڈو لف ہٹلرشائد“تاریخ کی مشہور ترین شخصیات میں سے ہیں۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ دیگر مشہور رہنماؤں کی طرح ان کے طرز زندگی کے حوالے سے لوگوں کوبہت کم معلومات ہیں۔حا ل ہی میں ”الزبتھ کالہم“نامی ہٹلر کی ملازمہ نے 71 سال بعد اپنی زبان کھولی ہے اور ہٹلر کی نجی زندگی کے دلچسپ پہلوؤں سے پردہ اٹھایا ہے۔الزبتھ کے مطابق 1943 ء میں مقامی اخبار میں ایک اشتہار دیکھ کرملازمت حاصل کر نے پہنچی تو انکشاف ہوا کہ یہ اشتہار ہٹلر کے سٹاف کی جانب سے دیا گیا تھا۔الزبتھ کی ماں نے اسے یہ نوکری نہ کرنے کامشور ہ دیا لیکن اسے معلوم تھا کہ یہاں نہیں چلے گی لہذا نوکری کی آفر قبول کر لی۔الزبتھ کا کہناہے کہ ہٹلر کے قریبی لوگوں کو بھی یہی معلوم تھا کہ وہ ضابطے کا بڑا پابند اورانتہائی محتاط غذاء کاعادی تھالیکن صرف ملازمین کوعلم تھا کہ ہٹلر میٹھے کاانتہائی حد تک شوقین ہے۔ہر روز سیب اور ڈرائی فروٹ سے بنا کیک فریج میں تیار کرکے رکھا جا تاتھا تاکہ ہٹلر دن بھر کی مصروفیات سے فارغ ہونے کے بعد اس سے لطف اندوز ہوسکے۔اسی طرح جرمن چانسلر کو چاکلیٹ  بسکٹ بھی حد درجہ پسند تھے۔الزبتھ کے مطابق ہٹلر کو فلمیں دیکھنے کا بھی انتہائی حد تک شوق تھا اور اس مقصد کے لئے رہائش گاہ میں ایک سینما بھی تعمیر کیا گیا تھا۔مزید یہ کہ چائے کے لئے ایک ”پورسلین“کا کپ مخصوص تھا۔ایک مرتبہ الزبتھ سے یہ کپ ٹوٹ گیا تو سزا کے طور پر اس کی کئی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی تھیں۔الزبتھ نے قریبا ً جنگ عظیم دوئم کے آخر تک ہٹلر کی رہائش گاہ پر ملازمت کی۔جولائی 1944ء میں یہ گھرخالی کرالیا گیا تھا۔ اور بعد میں یہ اتحادی فضائیہ کی بمباری کا نشانہ بن گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس