ٹیکنالوجی نے بچوں کو اصل اور نقل کا فرق بھلا دیا

ٹیکنالوجی نے بچوں کو اصل اور نقل کا فرق بھلا دیا
ٹیکنالوجی نے بچوں کو اصل اور نقل کا فرق بھلا دیا

  



لندن (بیورو رپورٹ) اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو شاہد ہی کوئی ایسا ٹین ایجر نظر آئے جو فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب یا دیگر ایسی چیزوں کا حد سے زیادہ شوقین نظر نہ آئے اور ہو بھی کیوں نہ۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوعمر لوگوں میں انٹرنیٹ کی ہمہ وقت استعمال سے ایک عجیب و غریب مسئلہ پیدا ہوتا جارہا ہے۔ یہ لوگ انٹرنیٹ پر اپنی مصنوعی زندگی سے اپنی حقیقی زندگی کی نسبت زیادہ خوش ہیں اور رفتہ رفتہ انٹرنیٹ کی مصنوعی زندگی اور حقیقی زندگی میں فرق کو پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ گوگل اور ووڈافون کی اس تحقیق میں پتا چلا ہے کہ یہ مسئلہ سب سے زیادہ ان بچوں میں پایا جاتا ہے جو اپنے سیکنڈری سکول کے سفر کا آغاز کررہے ہوتے ہیں۔ یہ بچے انٹرنیٹ پر اپنی دوستی، لڑائی جھگڑوں، رشتوں ناطوں، خوشیوں اور خطروں کو ہی حقیقت سمجھنے لگتے ہیں اور حقیقی زندگی سے کٹ جاتے ہیں۔ اس تحقیق نے یہ اہم سوال پھر سے اٹھادیا ہے کہ کیا والدین اور سکول بچوں کی مناسب اور درست رہنمائی کررہے ہیں؟

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی