امریکی یونیورسٹی کا طالب علم کو انوکھا جواب

امریکی یونیورسٹی کا طالب علم کو انوکھا جواب
امریکی یونیورسٹی کا طالب علم کو انوکھا جواب

  



نیویارک (بیورورپورٹ) بالٹی مور کے ایک کالج نے طالب علم کو مذہبی عقائد رکھنے کی بنیاد پر داخلہ دینے سے انکار کر دیا، جس پر طالب علم نے عدالت میں دعوی دائر کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق طالب علم جینکنز نے ” ریڈی ایشن تھراپی پروگرام برائے سال 2013ئ“ میں داخلے کے لئے درخواست دی تھی۔ دوران انٹرویو جب اس سے پوچھا گیا کہ تمھارے نزدیک سب سے زیادہ اہم چیز کیا ہے تو جینکنز نے جواب دیا کہ ”میرا خدا“۔ جس پر کالج کے ڈائریکٹر نے داخلہ سے انکار کرتے ہوئے طالب علم کو کہا کہ ”مجھے معلوم ہے کہ مذہب تمھاری زندگی کا اہم حصہ ہے مگر ہمیں افسوس ہے کہ یہ جگہ مذہبی عقائد کے حامل افراد کے لئے مناسب نہیں۔ ہمارے ہاں مختلف مذاہب کے لوگ علاج معالجہ کی غرض سے آتے ہیں، جن میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو کسی عقیدے یا مذہب کو نہیں مانتے، آئندہ جب آپ کا انٹرویو کیا جائے تو بہتر ہو گا کہ آپ اپنے مذہبی عقائد کو اس عمل سے الگ ہی رکھیں“۔ امریکی سنٹر برائے قانون و انصاف نے جینکنز کے ایماءپر کالج کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ مقدمہ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جینکنز کو کالج میں داخلہ دیا جائے۔ امریکی سنٹر برائے قانون و انصاف کے سینئر کونسل ڈیوڈ فرنچ اس معاملہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسا طالب علم جو میرٹ پر پورا اترتا ہے، اسے صرف مذہبی عقائد کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، یہ سراسر غیرقانونی اور آئین کے خلاف ہے“۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...