سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی اور متحدہ کا طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج

سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی اور متحدہ کا طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف ...

  



کراچی (سٹاف رپورٹر ،اے این این ) وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں لوڈشیڈنگ کا اضافہ کرکے اور بعض علاقوں کی بجلی کاٹ کر سندھ کے لوگوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ۔ میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے اپیل کرتا ہوں کہ سندھ کی بجلی فوراً بحال کی جائے ۔ میں نے اس حوالے سے وزیر اعظم کو ایک خط لکھا ہے ۔ دوسرا خط بھی لکھوں اور ان سے بات بھی کروں گا ۔ وفاقی حکومت کے اقدامات انتہائی تکلیف دہ ہیں ۔ غیر قانونی طور پر بجلی کاٹنے والوں کو گرفتار بھی کر سکتے ہیں ،وہ منگل کو سندھ اسمبلی میں صوبے کو بجلی کی فراہمی میں امتیازی سلوک کے خلاف پیش کردہ قرار داد پر خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ واجبات کی ادائیگی کا تنازع وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان ہے ، اس کی سزا عوام کو کیوں دی جا رہی ہے ۔ ہم واجبات ادا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ہمارے ساتھ بیٹھ کر حساب کیا جائے ۔ ہم کسی کے حکم پر حساب کے بغیر رقم ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ سندھ حکومت بھی جائز واجبات ادا کرے گی اور ہم سندھ کے غریب عوام کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں ۔ اگر انہوں نے بجلی کے پیسے نہ دیئے تو سندھ حکومت دے گی لیکن ہم سب سے جائزپیسے وصول کیے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے واجبات اور بجلی کی تقسیم کے مسئلے پر مشترکہ مفادات کونسل ( سی سی آئی ) کا اجلاس جلد بلایا جائے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ بجلی کی قلت ہے لیکن یہ قلت ہم نے پیدا نہیں کی ۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کیٹی بندر میں 5 ہزار میگاواٹ منصوبہ شروع کیا تھا لیکن وہ کون سی حکومت تھی ، جس نے یہ منصوبہ ختم کیا ۔ کہا گیا کہ بجلی کی قلت نہیں ، لہذا اس منصوبے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ پیپلز پارٹی کے ساتھ عداوت تھی ۔ کچھ لوگ یہ نہیں چاہتے تھے کہ کریڈٹ پیپلز پارٹی کو جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا یہ وژن تھا کہ ملک میں بجلی کی طلب بڑھ رہی ہے لہذا اس کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی بنیادی ضرورت ہے اور اسے پورا کرنا حکومت کا فرض ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور سندھ کے عوام کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ۔ سندھ حکومت اور وفاق کے مابین واجبات کا جو تنازع ہے ، اسے حل کرنے کے لیے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ ہم نے اس کمیٹی سے بارہا کہا کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر حساب کرے لیکن یہ کمیٹی کبھی ہمارے ساتھ نہیں بیٹھی ۔ انہوں نے کہا کہ واجبات کا تنازع حل کرنے کے لیے موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ میں نے کشمور میں وزیر اعظم سے کہا کہ کمیٹی کے ارکان آجائیں اور ہمارے ساتھ حساب کریں ۔ ہم رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ انہوں نے یہ بات تسلیم کی لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی اس کے بعد بجلی منقطع کرنے کی مہم پر چلے گئے ۔ انہوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ کس نے بل دیا ہے اور کس نے نہیں دیا ہے ۔ انہوں نے بجلی کاٹ دینے کا حکم دیا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم حساب سے پیسے دیں گے ۔ کسی کے حکم والی بات نہیں چلے گی ۔ ایک اسکول کا بل 2 کروڑ روپے بھیج دیا جاتا ہے ۔ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کو اسی اسی کروڑ روپے کے بل بھیج دیئے جاتے ہیں جبکہ کسی دوسرے صوبے میں کئی اضلاع کے مجموعی بل بھی اتنے نہیں ہوتے ۔ ہمارے ساتھ انصاف ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مشترکہ مفادات کی کونسل میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا کہ ہم حساب کے بغیر واجبات ادا نہیں کریں گے ۔ ہمارے ساتھ بیٹھ کر حساب کیا جائے ۔ یہ معاملہ ابھی زیر التواء ہے لیکن اس کی سزا سندھ کے غریب اور مسکین لوگوں کو دی جا رہی ہے ۔ لوڈشیڈنگ کرکے ان کی زندگی چھینی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے کشمور میں اعلان کیا کہ سندھ کے لیے 746 میگاواٹ بجلی کا اضافہ کیا جائے گا ۔ میں اس بات پر خوش ہو گیا لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ یہ مرحلہ وار ہو گا ۔ اب پتہ نہیں کہ یہ مرحلے کب ختم ہو ں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں عابد شیر علی سے پہلی بار کشمور میں ملا تھا ۔ اس سے پہلے میں انہیں جانتا بھی نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اور قانونی طور پر بجلی منقطع کرنا جرم ہے اور بجلی بند کرنے والے اہلکاروں کو ہم گرفتار کر سکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...