اعلٰی ترین نا دہندہ اداروں کی بجلی کٹتے ہی بحال

اعلٰی ترین نا دہندہ اداروں کی بجلی کٹتے ہی بحال

  



                                                  اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک+اے این این) مدتوں سے نادہندہ چلے آرہے ہیں اعلیٰ ترین سرکاری اداروں کی بجلی کاٹ دی گئی تاہم وہ برسوں سے رکے ہوئے بقایا جات چند ہی گھنٹوں میں جمع کراکے بجلی بحال کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ جن اداروں کی بجلی منقطع کیے جانے کا حکم دیا گیا ان میں ایوان صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ، وفاقی (پاک) سیکرٹریٹ، پارلیمنٹ ہاﺅس، پارلیمنٹ لاجز، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن ، نادرا ہیڈ آفس اور کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) بھی شامل ہیں۔تفصیل کے مطابق وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کی ہدایت پر واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث پارلیمنٹ ہاو¿س اور سپریم کورٹ کے دونوں بلاکس کی بجلی کاٹ دی گئی جبکہ چیف جسٹس کے گھر، ایوان صدراوروزیراعظم سیکرٹریٹ سمیت67نادہندہ اداروںکونوٹس جاری کیے گئے، سندھ حکومت56ارب،پنجاب4ارب،آزاد کشمیر حکومت33ارب،خیبر پختون خوا 2ارب اور بلوچستان حکومت2ارب روپے کی نادہندہ ہےں،سپریم کورٹ کے ذمے35لاکھ30ہزار واجب الادا تھے جو پی ڈبلیو ڈی کو ادا کرنے تھے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عابد شیر علی نے کہا کہ سڑکوں پر وہی لوگ ہیں جو بجلی چوری میں ملوث ہیں،بجلی صرف اسے ملے گی جو بل دے گا،احتجاج کے دوران جس گرڈ سٹیشن کو نقصان پہنچا اس کی مرمت نہیں کی جائے گی،توڑ پھوڑ کی ذمہ دار متعلقہ صوبائی حکومت ہو گی اسی کو مرمت بھی کروانا ہو گی،ہماری مہم کسی صوبے یا جماعت کے خلاف نہیں بجلی چوروں کے خلاف ہے،عوام کا حق کسی کو کھانے نہیں دیں گے،وزیر اعظم نے نادہندگان سے ایک ماہ میں وصولی کا وقت دیا ہے،اب یہ نہیں ہو گا کہ 70لوگ بل دیں اور 875لوگ بجلی چوری کریں۔ بجلی چوروں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کر رہے ہیں یہ کارروائی کسی گروہ یا پارٹی کے خلاف نہیں، پورے ملک میں کی جا رہی ہے، کارروائی ان لوگوں کے خلاف ہو گی جو بجلی چوری کرتے ہیں اور 18کروڑ عوام کا حق مارتے ہیں، بجلی چوروں کے خلاف مہم جاری ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے سے ہو، اس مہم کو کچھ لوگ غلط تشبیہہ اور سیاسی رنگ دیتے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے، پچھلے بارہ برسوں میں پاور سیکٹر کے ساتھ جو ظلم ہوا اور کرپشن ہوئی ،اسے بہتر کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے، ہماری کوشش ہے کہ فیڈر وائز لوڈشیڈنگ کی جائے، جن کے 90فیصد لاسز ہیں وہاں 22گھنٹے لوڈشیڈنگ اور جہاں 80فیصد لاسز ہیں وہاں 18گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوگی، جہاں جلوس اور احتجاج ہوں گے یہ سمجھا جائے کہ وہاں بجلی چوری ہو رہی ہے، پاکستان کے حقوق پر ڈاکہ مارا جا رہا ہے۔ عابد شیر علی نے کہاکہ وزیراعظم کی ہدایت پر بجلی چوری کے خلاف مہم شروع کی ہے، سیپکو، ہیپکو، پیسکو، لیسکو، میپکو، فیسکو کو چیک کیا گیا ہے، کیسکو کے اندر صرف ٹیوب ویلوں میں 70ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے، پارلیمنٹ لاجز 2کروڑ، سی ڈی اے 36کروڑ،ایوان صدر 28بلین کا نادہندہ اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کے 62لاکھ روپے کے بقایاجات ہیں، سب کی بجلی کاٹنے کا حکم جاری کر دیا ہے، ہماری کارروائی کا پیمانہ برابری کی بنیاد پر ہوگا، جتنے بھی بجلی چور ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے، سیبکو میں نظر فیڈر کے 91فیصد لاسز ہیں، 445ملین کے بقایاجات ہیں، گزشتہ روز احتجاج کر کے املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے، یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں 70آدمی بل دیں اور پونے 900لوگ بجلی چوری کریں کیا وہ بجلی کے حقدار ہیں اگر وہ احتجاج اور توڑ پھوڑ کریں تو ہم کسی گرڈ سٹیشن کی مرمت نہیں کریں گے اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہو گی، 56ارب روپے سندھ حکومت سے بقایاجات کی صورت میں لینے ہیں، پانچ ہزار کنکشن سے سندھ حکومت نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ہم نے انہیں کاٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر حکومت کے ذمہ 33ارب روپے کے بقایاجات ہیں اس کے لئے وزیراعظم نے ہدایت کر دی ہے آزاد کشمیر کے لئے خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں پرویزرشید، عرفان صدیقی اور میں خود شامل ہوں ،ہم وزیراعظم آزادکشمیرسے ملیں گے اور ان سے بات چیت کریں گے ورنہ پاکستان میں بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف مہم جاری ہے آزاد کشمیر میں بھی وہی طریقہ استعمال کیا جائے گا۔ ہم بقایاجات کی وصولی کریں گے کیونکہ ہمیںکمپنیوں کو پیسوں کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے، اسمبلیوں میں سوال اٹھتے ہیں کہ سرکلر ڈیٹ بڑھ گیا ہے جو لوگ بجلی کے بل لئے پھرتے ہیں کہ ہم پر اضافی بل بھیج دیئے گئے تو یہ مسائل بقایاجات کی وصولی اور بجلی چوری کے خاتمے سے ختم ہو جائیں گے، ہماری حکومت بجلی چوری روکے گی، پنجاب حکومت بھی 3یا 4ارب کی نادہندہ ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا بھی ڈیڑھ دو ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔عابد شیر علی نے کہاکہ ٹی وی پر آ کر بیان دینا کہ کسی صوبے کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے یہ سراسر ناانصافی ہے، برائی کی طرف قوم کو لے کر نہ جایا جائے ہماری مہم بجلی چوروں کے خلاف ہے ہم بجلی چوری کسی کو بھی نہیں کرنے دیں گے چاہے اس میں میں خود ہی کیوں نہ شامل ہوں۔ سندھ میں بجلی چوری کی بات کروں تو کہا جاتا ہے کہ سندھیوں کو چور کہا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا میں بجلی چوری کی بات کروں تو کہا جاتا ہے کہ پختونوں کو چور کہاجاتا ہے، میں ان سے زیادہ سندھی اور زیادہ پختون ہوں، چوری کی اجازت پنجابی، سندھی، پختون، بلوچی کسی کو بھی نہیں دی جائے گی یہ ان کے حقوق کی جنگ لڑی جا رہی ہے جو لوگ آج سراپا احتجاج ہیں، وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ لوڈشیڈنگ چھ سے آٹھ گھنٹے تک کی جائے دورانیہ بڑھنے نہ دیا جائے وزیراعظم نے ہمیں ایک مہینے کا ٹارگٹ دیا ہے ، وزیراعظم نے بجلی چوری روکنے کی بھی ہدایت کی ہے جو بھی اس میں رکاوٹ ڈالے گا مجرم ہو گا۔ بجلی چوروں کو معاف نہ کیا جائے، لوڈشیڈنگ ملک میں فیڈروائزہورہی ہے جہاں پراحتجاج ہو رہا ہے وہیں چوری ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم سیکٹریٹریٹ سے 62 لاکھ روپے، پنجاب حکومت سے 4 ارب روپے، سی ڈی اے 2 ارب 36 کروڑ اور پارلیمنٹ لاجز سے 2 کروڑ روپے لینے ہیں، اگر واجبات ادا نہیں کئے گئے تو وزیر اعظم سیکرٹریٹ سمیت تمام اداروں کی بجلی منقطع کردی جائےگی۔ یہ ممکن نہیںکہ بجلی چوروں کو پاکستان کا حق مارنے دیا جائے گا۔ دریں اثنا عابد شیر علی کی ہدایت پر سپریم کورٹ کے دونوں بلاکس کی بجلی کاٹ دی گئی ہے۔آئیسکو حکام کے مطابق سپریم کورٹ کے ذمے35 لاکھ30ہزار کی رقم واجب الادا تھی اور یہ بل ادا کرنے کا ذمہ دار ادارہ پی ڈبلیو ڈی ہے جس نے رقم ادا نہیں کی۔بلوں کی عدم ادائیگی پر چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی بجلی منقطع کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔چیف جسٹس کی رہائش گاہ کی جانب سے 6ماہ کے بل ادا نہیں کئے گئے یہ رقم بھی پی ڈبلیو ڈی کو ادا کرنی تھی۔اسی طرح پارلیمنٹ ہاو¿س کی بجلی بھی کاٹ دی گئی ،پارلیمنٹ ہاو¿س کے ذمے12کروڑ روپے واجب الادا تھے اور یہ رقم سی ڈی اے کو ادا کرنی تھی جبکہ بلوں کی ادائیگی کے لئے ایوان صدر، وزیراعظم ہاﺅس، سپریم کورٹ، پارلیمنٹ لاجز، کابینہ ڈویژن، پاک سیکرٹریٹ، پی ڈبلیو ڈی، وزارت خارجہ، وزارت دیہی ترقی، وزارت ہاﺅسنگ اینڈ ورکس، وزارت صحت، وزارت تعلیم، وزارت لوکل گو رنمنٹ، وزارت ریلوے، وزارت ترقی و منصوبہ بندی، وزارت کھیل و ثقافت، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، موٹروے پولیس، انکم ٹیکس، پٹرولیم کمیشن، اکاﺅنٹنٹ جنرل آف پاکستان، شماریات ڈویژن، ڈی جی نادرا آفس، ایف آئی اے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، چیف کمشنر اسلام آباد، اسلام آباد پولیس، آئی بی، ڈائریکٹر ایگریکلچر، سی ڈی اے، ایف ڈبلیو او، جی ایم ہائیڈل، منشیات کنٹرول بورڈ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، کینٹ بورڈ راولپنڈی، کینٹ بورڈ چکلالہ،شہری ماحولیات،پنجاب جیل خانہ جات ،ٹی ایم او مری، ٹی ایم او راولپنڈی اور ٹی ایم او سرائے عالمگیر سمیت67نادہندہ اداروں کو نوٹس جا ری کیے گئے جن میں کہا گیا ہے عدم ادائیگی پر بجلی منقطع کر دی جائے گی۔

بجلی منقطع

اعلٰی ترین نا دہندہ اداروں کی بجلی کٹتے ہی بحال                                                     اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک+اے این این) مدتوں سے نادہندہ چلے آرہے ہیں اعلیٰ ترین سرکاری اداروں کی بجلی کاٹ دی گئی تاہم وہ برسوں سے رکے ہوئے بقایا جات چند ہی گھنٹوں میں جمع کراکے بجلی بحال کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ جن اداروں کی بجلی منقطع کیے جانے کا حکم دیا گیا ان میں ایوان صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ، وفاقی (پاک) سیکرٹریٹ، پارلیمنٹ ہاﺅس، پارلیمنٹ لاجز، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن ، نادرا ہیڈ آفس اور کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) بھی شامل ہیں۔تفصیل کے مطابق وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کی ہدایت پر واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث پارلیمنٹ ہاو¿س اور سپریم کورٹ کے دونوں بلاکس کی بجلی کاٹ دی گئی جبکہ چیف جسٹس کے گھر، ایوان صدراوروزیراعظم سیکرٹریٹ سمیت67نادہندہ اداروںکونوٹس جاری کیے گئے، سندھ حکومت56ارب،پنجاب4ارب،آزاد کشمیر حکومت33ارب،خیبر پختون خوا 2ارب اور بلوچستان حکومت2ارب روپے کی نادہندہ ہےں،سپریم کورٹ کے ذمے35لاکھ30ہزار واجب الادا تھے جو پی ڈبلیو ڈی کو ادا کرنے تھے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عابد شیر علی نے کہا کہ سڑکوں پر وہی لوگ ہیں جو بجلی چوری میں ملوث ہیں،بجلی صرف اسے ملے گی جو بل دے گا،احتجاج کے دوران جس گرڈ سٹیشن کو نقصان پہنچا اس کی مرمت نہیں کی جائے گی،توڑ پھوڑ کی ذمہ دار متعلقہ صوبائی حکومت ہو گی اسی کو مرمت بھی کروانا ہو گی،ہماری مہم کسی صوبے یا جماعت کے خلاف نہیں بجلی چوروں کے خلاف ہے،عوام کا حق کسی کو کھانے نہیں دیں گے،وزیر اعظم نے نادہندگان سے ایک ماہ میں وصولی کا وقت دیا ہے،اب یہ نہیں ہو گا کہ 70لوگ بل دیں اور 875لوگ بجلی چوری کریں۔ بجلی چوروں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کر رہے ہیں یہ کارروائی کسی گروہ یا پارٹی کے خلاف نہیں، پورے ملک میں کی جا رہی ہے، کارروائی ان لوگوں کے خلاف ہو گی جو بجلی چوری کرتے ہیں اور 18کروڑ عوام کا حق مارتے ہیں، بجلی چوروں کے خلاف مہم جاری ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے سے ہو، اس مہم کو کچھ لوگ غلط تشبیہہ اور سیاسی رنگ دیتے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے، پچھلے بارہ برسوں میں پاور سیکٹر کے ساتھ جو ظلم ہوا اور کرپشن ہوئی ،اسے بہتر کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے، ہماری کوشش ہے کہ فیڈر وائز لوڈشیڈنگ کی جائے، جن کے 90فیصد لاسز ہیں وہاں 22گھنٹے لوڈشیڈنگ اور جہاں 80فیصد لاسز ہیں وہاں 18گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوگی، جہاں جلوس اور احتجاج ہوں گے یہ سمجھا جائے کہ وہاں بجلی چوری ہو رہی ہے، پاکستان کے حقوق پر ڈاکہ مارا جا رہا ہے۔ عابد شیر علی نے کہاکہ وزیراعظم کی ہدایت پر بجلی چوری کے خلاف مہم شروع کی ہے، سیپکو، ہیپکو، پیسکو، لیسکو، میپکو، فیسکو کو چیک کیا گیا ہے، کیسکو کے اندر صرف ٹیوب ویلوں میں 70ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے، پارلیمنٹ لاجز 2کروڑ، سی ڈی اے 36کروڑ،ایوان صدر 28بلین کا نادہندہ اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کے 62لاکھ روپے کے بقایاجات ہیں، سب کی بجلی کاٹنے کا حکم جاری کر دیا ہے، ہماری کارروائی کا پیمانہ برابری کی بنیاد پر ہوگا، جتنے بھی بجلی چور ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے، سیبکو میں نظر فیڈر کے 91فیصد لاسز ہیں، 445ملین کے بقایاجات ہیں، گزشتہ روز احتجاج کر کے املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے، یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں 70آدمی بل دیں اور پونے 900لوگ بجلی چوری کریں کیا وہ بجلی کے حقدار ہیں اگر وہ احتجاج اور توڑ پھوڑ کریں تو ہم کسی گرڈ سٹیشن کی مرمت نہیں کریں گے اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہو گی، 56ارب روپے سندھ حکومت سے بقایاجات کی صورت میں لینے ہیں، پانچ ہزار کنکشن سے سندھ حکومت نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ہم نے انہیں کاٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر حکومت کے ذمہ 33ارب روپے کے بقایاجات ہیں اس کے لئے وزیراعظم نے ہدایت کر دی ہے آزاد کشمیر کے لئے خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں پرویزرشید، عرفان صدیقی اور میں خود شامل ہوں ،ہم وزیراعظم آزادکشمیرسے ملیں گے اور ان سے بات چیت کریں گے ورنہ پاکستان میں بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف مہم جاری ہے آزاد کشمیر میں بھی وہی طریقہ استعمال کیا جائے گا۔ ہم بقایاجات کی وصولی کریں گے کیونکہ ہمیںکمپنیوں کو پیسوں کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے، اسمبلیوں میں سوال اٹھتے ہیں کہ سرکلر ڈیٹ بڑھ گیا ہے جو لوگ بجلی کے بل لئے پھرتے ہیں کہ ہم پر اضافی بل بھیج دیئے گئے تو یہ مسائل بقایاجات کی وصولی اور بجلی چوری کے خاتمے سے ختم ہو جائیں گے، ہماری حکومت بجلی چوری روکے گی، پنجاب حکومت بھی 3یا 4ارب کی نادہندہ ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا بھی ڈیڑھ دو ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔عابد شیر علی نے کہاکہ ٹی وی پر آ کر بیان دینا کہ کسی صوبے کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے یہ سراسر ناانصافی ہے، برائی کی طرف قوم کو لے کر نہ جایا جائے ہماری مہم بجلی چوروں کے خلاف ہے ہم بجلی چوری کسی کو بھی نہیں کرنے دیں گے چاہے اس میں میں خود ہی کیوں نہ شامل ہوں۔ سندھ میں بجلی چوری کی بات کروں تو کہا جاتا ہے کہ سندھیوں کو چور کہا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا میں بجلی چوری کی بات کروں تو کہا جاتا ہے کہ پختونوں کو چور کہاجاتا ہے، میں ان سے زیادہ سندھی اور زیادہ پختون ہوں، چوری کی اجازت پنجابی، سندھی، پختون، بلوچی کسی کو بھی نہیں دی جائے گی یہ ان کے حقوق کی جنگ لڑی جا رہی ہے جو لوگ آج سراپا احتجاج ہیں، وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ لوڈشیڈنگ چھ سے آٹھ گھنٹے تک کی جائے دورانیہ بڑھنے نہ دیا جائے وزیراعظم نے ہمیں ایک مہینے کا ٹارگٹ دیا ہے ، وزیراعظم نے بجلی چوری روکنے کی بھی ہدایت کی ہے جو بھی اس میں رکاوٹ ڈالے گا مجرم ہو گا۔ بجلی چوروں کو معاف نہ کیا جائے، لوڈشیڈنگ ملک میں فیڈروائزہورہی ہے جہاں پراحتجاج ہو رہا ہے وہیں چوری ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم سیکٹریٹریٹ سے 62 لاکھ روپے، پنجاب حکومت سے 4 ارب روپے، سی ڈی اے 2 ارب 36 کروڑ اور پارلیمنٹ لاجز سے 2 کروڑ روپے لینے ہیں، اگر واجبات ادا نہیں کئے گئے تو وزیر اعظم سیکرٹریٹ سمیت تمام اداروں کی بجلی منقطع کردی جائےگی۔ یہ ممکن نہیںکہ بجلی چوروں کو پاکستان کا حق مارنے دیا جائے گا۔ دریں اثنا عابد شیر علی کی ہدایت پر سپریم کورٹ کے دونوں بلاکس کی بجلی کاٹ دی گئی ہے۔آئیسکو حکام کے مطابق سپریم کورٹ کے ذمے35 لاکھ30ہزار کی رقم واجب الادا تھی اور یہ بل ادا کرنے کا ذمہ دار ادارہ پی ڈبلیو ڈی ہے جس نے رقم ادا نہیں کی۔بلوں کی عدم ادائیگی پر چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی بجلی منقطع کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔چیف جسٹس کی رہائش گاہ کی جانب سے 6ماہ کے بل ادا نہیں کئے گئے یہ رقم بھی پی ڈبلیو ڈی کو ادا کرنی تھی۔اسی طرح پارلیمنٹ ہاو¿س کی بجلی بھی کاٹ دی گئی ،پارلیمنٹ ہاو¿س کے ذمے12کروڑ روپے واجب الادا تھے اور یہ رقم سی ڈی اے کو ادا کرنی تھی جبکہ بلوں کی ادائیگی کے لئے ایوان صدر، وزیراعظم ہاﺅس، سپریم کورٹ، پارلیمنٹ لاجز، کابینہ ڈویژن، پاک سیکرٹریٹ، پی ڈبلیو ڈی، وزارت خارجہ، وزارت دیہی ترقی، وزارت ہاﺅسنگ اینڈ ورکس، وزارت صحت، وزارت تعلیم، وزارت لوکل گو رنمنٹ، وزارت ریلوے، وزارت ترقی و منصوبہ بندی، وزارت کھیل و ثقافت، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، موٹروے پولیس، انکم ٹیکس، پٹرولیم کمیشن، اکاﺅنٹنٹ جنرل آف پاکستان، شماریات ڈویژن، ڈی جی نادرا آفس، ایف آئی اے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، چیف کمشنر اسلام آباد، اسلام آباد پولیس، آئی بی، ڈائریکٹر ایگریکلچر، سی ڈی اے، ایف ڈبلیو او، جی ایم ہائیڈل، منشیات کنٹرول بورڈ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، کینٹ بورڈ راولپنڈی، کینٹ بورڈ چکلالہ،شہری ماحولیات،پنجاب جیل خانہ جات ،ٹی ایم او مری، ٹی ایم او راولپنڈی اور ٹی ایم او سرائے عالمگیر سمیت67نادہندہ اداروں کو نوٹس جا ری کیے گئے جن میں کہا گیا ہے عدم ادائیگی پر بجلی منقطع کر دی جائے گی۔

مزید : صفحہ اول