واسا گردی

واسا گردی
واسا گردی

  



میں سوچتا جا رہا اورلرزتا جا رہا ہوںکہ ماموں کے ساتھ کامران کی بارہ دری کی سیر کے لئے جانے والی پہلی جماعت کی طالبہ، سات سالہ مناہل جب واپسی پر ہنستے کھیلتے ، بھاگتے بھاگتے ایک بغیر ڈھکن کے مین ہول میں گری ہو گی تواس کے ذہن میں کیا آیا ہو گا،اس نے اپنے ماں باپ کو یاد کیا ہو گا ، غلاظت سے بھرا گندا پانی اس کے منہ، کان اور آنکھوں میں گھسا ہو گا تو وہ کتنی روئی ہو گی مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ اس گہرے گندے گٹر میں ڈوب کر مر گئی ہو گی اور اڑھائی سالہ زین جسے سیوریج سسٹم کا بھی علم نہیں ہوگا کہ وہ کیا ہوتا ہے، وہ اپنے علاقے فرخ آباد میں گندے پانی کے نکا س کے لئے بنائی گئی غرقی میں ڈوب کے مرا ہو گا تو اسے بھی مناہل کی طرح یہ ہرگز علم نہیں ہوگا کہ وہ جس ملک میں پید اہوا ہے اس میں قسمتوں کے فیصلے کرنے والے شاہدرہ کے علاقے میں سیوریج جیسی فضول چیز پر وقت ضائع کرنے کی بجائے بہت ہی اہم ایشو زپر اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ ایک طرف ریاستی اداروں کی وجہ سے آزاد منش صحافی تو دوسری طرف پوری کی پوری ریاست غدارصحافیوںکی وجہ سے خطرے میں ہے۔ جہاں ادارے خطرے میں ہوں وہاں مناہلیں اور زین مرتے بھی رہیں تو کوئی بات نہیں ۔آپ اداروں کے تحفظ کی لڑائی لڑیں، غریبوں کے گھروںمیں تو مناہلیں اور زین پیدا ہوتے رہیں گے۔

کیا یہ واسا گردی ہے اور کیا یہ صرف واساگردی ہے۔ میں اپنے رب کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ ہاں یہ واسا گردی ہے اور یہ صرف واسا گردی بھی نہیں ہے۔ میں نے ہمیشہ لاہور میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کی ہے، میٹرو بس کے لئے ایشیاءمیں بننے والے سب سے لمبے پل سے اس رنگ روڈ تک کی، جہاں سے بڑی بڑی گاڑیوں والے ڈیڑھ سو کی سپیڈ سے شہر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں زوں کر کے پہنچ سکتے ہیں، میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کی طرف سے ائیرپورٹ کے سامنے علاقے کو باغ و بہار بنانے کے ساتھ ساتھ شہر سے رائے ونڈ جانے کے لئے، شوکت خانم ہسپتال کے قریب سے گزرنے والی خیابان جناح کو سجانے کی بھی تعریفیں کرتا رہا ہوں مگر اب مجھے یوں لگ رہا ہے کہ جس شہر میں بچے سیوریج کی عدم موجودگی کے باعث گندے نالوں، بغیر ڈھکن کے گٹروں کی وجہ سے مر رہے ہوں وہاں ان منصوبوں کی تعریف نجانے کیوں مجھے جرم لگنے لگی ہے۔ اس سے پہلے بھی چائنہ سکیم میں ایک ذہنی معذور بچہ گیند نکالنے کے لئے گندے نالے میں اتراتھا اور مر گیاتھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہبا ز شریف نے ہدایات جاری کی تھیں کہ اب اگر کوئی بچہ کسی بھی علاقے کے کھلے مین ہول میں گر کر مرا تو واسا کے متعلقہ افسران پرقتل کا مقدمہ درج ہو گا۔ میں نہیں جانتا کہ اگر ان پر قتل کا مقدمہ درج بھی ہوجائے تو عدالتوں میں اس ایف آئی آر کی قانونی پوزیشن کیا ہو گی مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگر آپ اسے باقاعدہ ارادے اور منصوبے کے تحت قتل نہیں بھی مانتے تو یہ قتل بالسبب ضرور ہے، یعنی متعلقہ حکام کی نااہلی اور سستی نے ایسا سبب پید اکر دیا جس کی وجہ سے ایک ہی علاقے میں ایک ہی روز دو معصوم جان سے چلے گئے۔مجھے یہ جان کر مزید حیرت ہوئی کہ واسا کے ذمہ داروں نے گٹروں کے ڈھکن پورے رکھنے کے لئے ایک کمپنی یو ایس خان کو آوٹ سورس کر رکھاہے مگر اس کے باوجود شہر بھر میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں مین ہول ایسے ہوں گے جن پر ڈھکن موجود نہیں ہوں گے، جب ہم تفصیل میں جائیں گے تو کہاجائے گا کہ ان میں بہت سارے ننگے مین ہول واسا کے نہیں ہیں، یہ ٹیلی فون والوں کے بھی ہو سکتے ہیں مگر جب ان میں بچے گرتے اور حادثے ہوتے ہیں تو پھر یہ تفریق نہیں کی جا سکتی کہ مین ہول واسا کا تھا، واپڈا کا یاپی ٹی سی ایل کا مگر ان میں سب سے خطرناک مین ہول واسا کے ہی ہیں۔

واسا کا ادارہ مسلسل تباہی کاشکار ہے، میں نے ہمیشہ اس کے ورک چارج ملازمین کو کنفرم کرنے کی حمایت کی ہے، مسلم لیگ نون لاہور کے جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر ایک سیاسی کارکن ہیں اور میں ان سے دوستی کا دعویٰ کر سکتا ہوں، انہوں نے اس کے لئے عملی طور پر بہت کوششیں بھی کیں مگر دوسری طرف کیا یہ حقیقت نہیں کہ واسا کے تمام بڑے افسران نے ایک یا ایک سے زائد جعلی ورک چارج ملازم بھرتی کروارکھا ہے جس کی یا جن کی تنخواہیں وہ خود وصول کرتے ہیں، واسا کے بااثر افسران میں سے چالیس فیصد نے ٹھیکیداری شروع کر رکھی ہے اور اس طرح شہریوں کو پانی فراہم کرنے والے ادارے کے نام پر مافیا دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کر رہا ہے۔ واسا گردی کا یہ حال ہو گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پانی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری ہر مرتبہ مسترد کرتے ہوئے ہر سال واسا کے لئے اربوں روپوں کی امداد جاری کر دیتے ہیںمگر واسا کے کاریگروںنے ایک، ڈیڑھ، دو ، اڑھائی اورپانچ مرلے تک کی ” کھرلیوں“ کے جوبل ڈیڑھ ، اڑھائی یا زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین سو آ رہے تھے، کمال چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساڑھے چھ سو روپے کر دئیے ہیں۔کیا یہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ دھوکہ اور چھوٹے چھوٹے گھروںمیں رہنے والے غریبوںکے ساتھ ایک بڑا ظلم نہیں ہے۔ حال ہی میں تازہ ترین واردات جو میں نے خود بھگتی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ بجلی، ٹیلی فون اور گیس کی طرح واسا کے بل کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادا نہیں کئے جا سکتے، واساکا بل علاقے میں ایک کمپیوٹر شاپ پر ایزی پیسہ کے ذریعے ادا کیا جاتا رہا مگر اچانک ہی واسانے چھ ماہ کی نادہندگی ظاہر کرتے ہوئے ڈس کنکشن نوٹس بھیج دیا۔ اس نوٹس پر جہاں یہ لکھا تھا کہ عدم ادائیگی پر گرفتاری بھی ہو سکتی ہے وہاں یہ بھی درج تھا کہ واسا ایزی پیسہ اور یو بی ایل اومنی کے ذریعے ادائیگی کو تسلیم نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر واسا اس ادائیگی کو تسلیم نہیں کرتا تو ان اداروں کو وصولی کامجاز کیسے قرار دیا گیا تھا اور اب وصول شدہ بھاری رقم کس کی جیب میں ہے۔

میں خدا کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ میری واسا کے ایم ڈی جاوید اقبال سے کوئی دوستی ،کوئی دشمنی نہیں مگرکیا یہ حقیقت نہیں کہ انہوںنے واسا کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، اوپر بیان کی گئی تمام تر بیماریاں اسی وجہ سے ہیں کہ واسا کے اوپر ایک ایسا مینیجنگ ڈائریکٹر بیٹھا ہوا ہے جو ادارے کو چلانے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ واسا، ایل ڈی اے کا ایک ذیلی ادارہ ہے اور اگر ایل ڈی اے اربوں روپوں کے منصوبے کم سے کم وقت میں مکمل کر سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس کا ذیلی ادارہ مفلوج ہو چکا ہے۔ دروغ بہ گردن راوی، ایک میٹنگ میں جب ایم ڈی واسا ، وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے پہنچے تو وہ حیران رہ گئے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ کو تو واسا سے نکال دیا گیا تھا ، آپ دوبارہ یہاں کیسے نظر آ رہے ہیں، جواب ملا کہ نگران دورمیں واپسی ہو گئی تھی ۔

پانی کی فراہمی اورنکاسی کا انتظام کرنے والے اس ادارے بارے اور کیا کہوں کہ یہاں نچلی سطح پر گھوسٹ اور اوپر کی سطح پر کرپٹ ترین ملازمین کا راج ہے اور ہر مون سون میں لاہور ڈوب جاتا ہے، واسا اتنا نااہل ہے کہ وہ اپنے گٹروں کے ڈھکن تک خود پورے نہیں رکھ سکتا تو اس سے مون سون میں صوبائی دارلحکومت کو ڈوبنے سے بچانے کی امید کیسے لگائی جا سکتی ہے۔ فراڈ اتنا ہے کہ جنریٹروں کے لئے دیا جانے والا ڈیزل چوری ہوجاتا ہے۔ بلوں کی ریکوری کا یہ عالم ہے کہ برس ہا برس کے ڈیفالٹرز سے وصولی نہیں ہو سکتی اور دوسری طرف وزیراعلیٰ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ماہانہ بلوں کو تمام صارفین کے لئے یکساں بنانے کے نام پر سو، دو سو اور تین سو فیصد تک بڑھا دیا جاتاہے۔ اب وزیراعلیٰ پنجاب کہتے ہیں کہ واسا کو کمپنی بنا دیا جائے گا جس کے نتیجے میں عین ممکن ہے کہ پانی اور سیوریج کے بلوں میں مزید اضافہ ہوجائے۔ پورے ملک میں عوام کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور لاہور جیسے شہر میں لاہوری واسا گردی کا شکار ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی اگر جانیں لیتی ہے تو واسا نے بھی جانیں لینے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے، ڈاکو اگر لوٹتے ہیں تو واسا بھی حکومت کی منظوری کے بغیر بلوں میں اضافہ کر کے لوٹ مار کر رہا ہے۔ یہ سب شکوے شکایتیں اپنی جگہ پرمیںاور میرے ساتھ تمام شہری برداشت کرنے کو تیار ہیں لیکن اس شہرکی مناہلوںا ور زینوں کو واسا کے گندے گٹروں میں گر کر مرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔۔۔ جناب وزیراعلیٰ یہ بدترین واسا گردی ہے جس کی روک تھام کرنا آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔

مزید : کالم