پنجا ب میں بجلی چوری اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسلہ زیادہ گھمبیر ہو رہا ہے ،ایس ایم تنویر

پنجا ب میں بجلی چوری اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسلہ زیادہ گھمبیر ہو رہا ہے ،ایس ...

  



                                   لاہور(کامرس رپورٹر)آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے پنجاب میں توانائی کے مسلے کو حل کرنے کے لئے جب سے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے اس کا آج تک کوئی اجلاس نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے پنجاب میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کا مسلہ زیادہ گھمبیر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز آپٹما پنجاب آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کمیٹی کی جانب سے توانائی کے مسلے کو سنجیدہ نہ لینے پر مداخلت کریں تاکہ توانائی کا مسلہ حل ہو سکے۔ ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی صرف پنجاب میں16گھنٹے گیس اور 10گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور اس طرح دوسرے صوبوں کی نسبت صرف پنجاب کوسالانہ 80ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ جب کمیٹی نے کوئی اجلاس ہی نہیں کرنا جس سے سٹیک ہولڈرز کو کوئی فائدہ ہو اور ان کی بات سنی جائے تو اس کے بنانے کا کیا فائدہ۔ آپٹما پنجاب کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کی وزارت بنا دی گئی ہے لیکن یہ وزارت خود مختار نہیں جس سے وزیر ٹیکسٹائل کو فیصلے کرنے کا اختیار ہی نہیں۔ا نہوں نے کہا ہے اگر ایک وزارت بنائی ہے تو اس کو با اختیار کریں تاکہ وہ اپنے فیصلے خود کر کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو ریلیف دلا سکیں۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ مل گیا لیکن اس کا فائدہ اسی صورت میں ہو گا جب برآمدی صنعت کو ترجیحی بنیادوں پر توانائی مہیا کی جائے گی ورنہ جی ایس پی پلس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور ملک ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔ ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کی پرائم صنعت بھی مشکلات سے دو چار ہے اور اس میں سے 52ملیں بند ہو چکی ہیں اور باقی بند ہونے کے قریب ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ ایسی ملیں ہیں جن کے خود مختار فیڈرز ہیں لیکن ان کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ دو روز قبل ایک مل بند ہونے کی وجہ سے اس کے ہزاروں مزدور سٹرک پر نکل آئے اور احتجاج کیا۔ ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ اگر معاملہ ایسا رہا تو باقی مزدور بھی سڑکوں پر ہونگے جس کی ذمہ داری ارباب اختیار پر ہو گی۔وائس چیئرمین سیٹھ اکبر نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد حکومت نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو 24گھنٹے بجلی اور گیس سپلائی کی تو اس کی پیداوار بڑھ گئی اور تین ماہ میں اس کی برآمدات میں ڈیڑہ ارب ڈالرکا اضافہ ہو گیا لیکن لگتا ہے کہ یہ کسی کو نہیں بھایا جس کی وجہ سے اب نہ گیس مل رہی ہے اورنہ ہی پوری بجلی۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو ٹیکسٹائل سمیت برآمدی مصنوعات کی پیداوار میں کمی واقع ہو جائے گی۔

ایس ایم تنویر

مزید : صفحہ آخر


loading...