حکومت 70کڑوڑ ڈالرز کے زر مبادلہ کے لیے 4روپے فی کلو سبسڈی دے ۔شوگرملز ایسوسی ایشن

حکومت 70کڑوڑ ڈالرز کے زر مبادلہ کے لیے 4روپے فی کلو سبسڈی دے ۔شوگرملز ایسوسی ...

  



                                                لاہور(کامرس رپورٹر) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ فاضل چینی کی برآمدات سے 60سے 70کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کرنے کیلئے حکومت پاکستان چینی برآمد کرنے کیلئے بھارت اور دوسرے ملکوں کی طرح شوگر انڈسٹری کو تحفظ اور زرمبادلہ کیلئے 4روپے فی کلو سبسڈی کا اعلان کرے تاکہ کسانوں کو گنے کی 100فیصد ادائیگیاں ہو سکیں۔ ایسوسی ایشن کے سابق مرکزی چیئرمین جاوید کیانی اور پنجاب شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ریاض قدیر بٹ نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں اضافہ اور بھارت سمیت دوسرے ملکوں کی طرف سے اپنے ایکسپورٹرز کو سبسڈی دینے کے بعد پاکستان سے فاضل چینی کی برآمد ممکن نہیں۔ پاکستان میں ملکی ضروریات سے 11لاکھ ٹن سے زائد ، ملوں میں چینی پڑی ہوئی ہے۔ قبل ازیں گذشتہ 2سالوں کے دوران چینی کی برآمدات سے حکومت 780ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل کر چکی ہے اورڈالر کے حصول کیلئے یورو بانڈ پر ساڑھے سات سے سوا آٹھ فیصد سود کی ادائیگی کی جارہی ہے جبکہ شوگر انڈسٹری اس شرح سے کم سبسڈی کیلئے حکومت کو متوجہ کر رہی ہے۔ شوگر انڈسٹری کے راہنماﺅں نے کہا کہ روان سیزن کے دوران ملک میں چینی کی ریکارڈ پیداوار 54 لاکھ پچاس ہزار ٹن رہی ہے۔ جبکہ موجودہ سیزن میں بقایا 7ماہ کے لیے کھپت کا اندازہ27 لاکھ30 ہزار ٹن ہے۔ اس طرح ملک میں 11لاکھ 17ہزار ٹن چینی ضروریات سے فاضل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی پیداواری لاگت 55روپے فی کلو ہے جبکہ مارکیٹ میں پیداواری لاگت سے کم 46سے 48روپے فی کلو کی شرح سے فروخت ہو رہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں شوگر ملوں کو کروڑوں روپے کے خسارہ کا سامنا ہے اور گذشتہ سال خساروں کے سبب 4شوگر ملیںفروخت ہوئیں اور یہ صورتحال جاری رہی تو اس سال بھی تین سے چار ملیں فروخت ہونگی اور مستقبل میں چینی کے بحران کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں میں400 ارب روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور ملیں ہر سال 200 سے 250 ارب روپے کی گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگیاں کرتی ہیں اور رواں سیزن کے دوران کاشتکاروں کو 219 ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں اور زرعی معیشت کے حوالہ سے شوگر ملوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔شوگر ملز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے اسد عمر کے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دور حکومت میں بھی فاضل چینی کی نکاسی اور کسانوں کو بروقت ادائیگی سہل بنانے کیلئے چینی برآمد کرنے کے لیے ریبیٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کو بعد میں آنے والی حکومتوں نے سیاسی طور پر استعمال کرنے کی مذموم کوشش کی لیکن وہ اس ہرزہ سرائی میں کامیاب نہ ہو سکے۔ کیونکہ یہ فیصلہ کسانوں کی بقاءکیلئے میرٹ پر کیا گیا تھا۔ موجودہ کرشنگ سیزن میں چینی کی ریکارڈ پیداوار کے باعث ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کی توجہ مندرجہ ذیل اقدامات کی جانب مبذول کرائی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہECC سے منظور شدہ 250,000ٹن چینی کی برآمد کیلئے حکومت فوری طور پر SRO 77 کا اجراءکرے جو کہ چینی کی برآمد کی مروجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ حکومت روپے کی قدر میں حالیہ اضافے اور ڈالر کی موجودہ شرح تبادلہ کے تناظر میں ان لینڈ فریٹ سبسڈی میں 4روپے فی کلو فوری اضافہ کرے تاکہ فاضل چینی کی برآمد ممکن ہو سکے جبکہ انڈسٹری کو TDAP کی طرف سے ان لینڈ فریٹ سبسڈی کی اب تک ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے بھی مالی بحران کا سامنا ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ TCP 5 لاکھ ٹن چینی کا بفر سٹاک رکھے تاکہ چینی کی موجودہ قیمت میں استحکام آسکے اور اگلے سیزن میں ممکنہ کمی کی صورت میں چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال میں بھارت نے بھی اپنے کسانوں کو ادائیگیاں ممکن بنانے کیلئے 6600کروڑ روپے قرض بلاسود اپنی شوگر انڈسٹری کو مہیا کیے ہیں۔ لہذا حکومت سے درخواست ہے کہ شوگر انڈسٹری کو انٹرسٹ فری قرضہ بذریعہ سٹیٹ بنک جاری کیا جائے تاکہ کسانوںکو ادائیگی ہو سکے۔ شوگر ملیں اس قرضہ کو اگلے تین سال میں ادا کریں گی۔ جیسا کہ بھارت نے یہ قرضہ پانچ سالوں میں ادا کرنے کی مہلت دی ہے۔علاوہ ازیں بھارتی حکومت عالمی منڈی میں چینی برآمد کرنے کیلئے اپنی شوگر ملوں کو 54ڈالر فی ٹن کی برآمدی ریبیٹ کی ادائیگی بھی کر رہی ہے جس کا مقابلہ پاکستان کی شوگر انڈسٹری کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ کسانوں کی ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث حالات کی سنگینی اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت پاکستان بھی میرٹ پر فیصلہ کرے۔

شوگر ملز

مزید : صفحہ آخر


loading...