نادرا کا ڈیٹا بیس نیک نیتی کے ساتھ استعمال کر کے انتخابات کو منصفانہ بنایا جا سکتا ہے

نادرا کا ڈیٹا بیس نیک نیتی کے ساتھ استعمال کر کے انتخابات کو منصفانہ بنایا جا ...

  



                                       واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) نادرا نے پاکستان کے شہریوں اور ووٹروں کا ریکارڈ مرتب کرنے کیلئے ٹھوس ڈیٹا بیس تیار کیا اور شناخت کو مزیدموثر بنانے کیلئے فنگر پرنٹس کو اس سے منسلک کیا۔ اس نظام کو اگر خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان کے اہم ترین مسائل کے حل کے لئے بنیاد فراہم کر سکتا ہے جس میں شفافیت کے ساتھ انصاف کی فراہمی، منصفانہ انتخابات دہشتگردی اور بدعنوانی کا خاتمہ اور ٹیکس نیٹ سے بچنے والوں کی گرفت شامل ہیں۔ یہ تھا وہ بنیادی تاثر جو نادرا کے سابق چیئرمین طارق ملک کی روزنامہ ”پاکستان“ کے واشنگٹن بیورو میں نمائندے کے ساتھ خصوصی ملاقات میں سامنے آیا۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے دور میں نادرا کے روبہ زوال ادارے کا چارج سنبھالنے کا جب چیلنج قبول کیا تو اس وقت نادرا کے اکاﺅنٹ میں صرف دو ماہ کی تنخواہ موجود تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے اس کے سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے حکومت سے امداد لینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے امریکہ سے کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے سارے سسٹم کو فول پروف بنانے اور اسے کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لئے انقلابی تبدیلیوں کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت نادرا کو خود کفیل بنانے کے لئے ایک ذیلی پرائیویٹ کمپنی بنائی جس کے ذریعے ورلڈ بنک، سوڈان، نائیجیریا، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے ڈیٹا سسٹم بنانے کے کنٹریکٹ حاصل کئے اور تھوڑی سی مدت میں چار ارب روپے کی آمدن حاصل کر کے نادرا کے اکاﺅنٹ میں ڈال دی۔ طارق ملک کہتے ہیں کہ انہوں نے جس وقت نادرا کا نظام سنبھالا اس وقت پچاس فیصد کے قریب ملکی آبادی کا ریکارڈ اس کے سسٹم میں موجود تھا اور اسے چھوڑتے وقت یہ ڈیٹا 97فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے پورے ملک کے ہر ضلع میں نادرا کا آفس کھول دیا جس کے بعد وہ اسے تحصیل کی سطح پر لے جانا چاہتے تھے۔ اس لحاظ سے صرف تین فیصد آبادی ایسی رہ گئی ہے جس کا ریکارڈ نادرا کے پاس موجودنہیں ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ 97فیصد وہ ریکارڈ ہے جس کی گھر گھر جا کر تصدیق کی گئی ہے اور ان تمام افراد کے فنگر پرنٹس سسٹم میں موجود ہیں جس میں تبدیلی یعنی پیدائش یا موت کی صورت میں اپ ڈیٹ کرنے کیلئے بھی ایک نظام موجود ہے۔ طارق ملک بتاتے ہیں کہ اگر نادرا کا سسٹم سوفیصد کر لیا جائے تو پھر الگ سے مردم شماری کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی کیونکہ یہ سسٹم مردم شماری بھی تو کر رہا ہے۔ طارق ملک کا کہنا ہے کہ نادرا کے نظام کے ذریعے جو شفافیت پیدا ہوتی ہے اس کے ذریعے دہشتگردوں کی آسانی سے نشان دہی ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں موجود کوئی دہشتگرد نادرا کی 97فیصد لسٹ میں موجود ہو گا ورنہ وہ ان بقایا 3فیصد میں شامل ہو گا جو ابھی نیٹ سے باہر ہیں۔ اسی طرح نادرا کا سارا ریکارڈ فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق شدہ ہے۔ نادرا کے ڈیٹا بیس کے ذریعے انتخابی فہرستوں میں سے سارے بوگس ریکارڈ کو بڑی آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔ اس طرح اگر نادرا کو الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع دیا جائے تو یہ ایسی انتخابی فہرستیں مرتب کر سکتے ہیں جن کے ذریعے بہت درست اور شفاف انتخابات ہو سکتے ہیں۔ طارق ملک نے بتایا کہ انہوں نے نادرا میں کمپیوٹر کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا کے دنیا بھر میں ایک نئے سسٹم کی بنیاد رکھی جس پر انہیں بہت فخر ہے۔ پاکستان کے اس سسٹم کو ورلڈ بنک کے بعد اقوام متحدہ بھی حاصل کرنے کی خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نادرا کے ریکارڈ میں ملک کے 98فیصد مرد شامل ہیں۔ ملک بھر کی فی الحال 86فیصد خواتین اس سسٹم میں رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سسٹم کو جتنی جلد ممکن ہو سو فیصد تک پہنچایا جائے نادرا کے سابق چیئرمین نے بتایا کہا امریکہ نے ایف آئی اے کے ذریعے پاکستانی ائیرپورٹس پر آنے جانے والے انٹرنیشنل فلائٹس کے مسافروں کی سکریننگ کا نظام شروع کیا تھا تاکہ دہشتگردی کی وارداتوں سے تحفظ مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ نادرا کا سسٹم رائج ہونے اور اس کے فول پروف ہونے کی تصدیق کے بعد امریکہ نے اپنا سکریننگ کا نظام ختم کر دیا اور اب وہ نادرا کے نظام پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ طارق ملک کہتے ہیں کہ نادرا کا ڈیٹا بیس مجرموں کو ٹریک کرنے میں پولیس کی بہت مدد کر سکتا ہے اور پولیس اس کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اس طرح اس سسٹم میں شامل تمام لوگوں کی آمدنی اور ان کے ذرائع کا اندراج ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے بڑی آسانی سے ان صاحب حیثیت افراد کا سراغ لگایا جا سکتا ہے جو ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ انہوں نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ انہیں سندھ کی کچھ جیلوں میں قیدیوں کی شناخت کرنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ وہاں بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو کسی اور کی جگہ سزا بھگت رہے تھے۔ پہلے ایسا ممکن تھا لیکن اب اگر فنگر پرنٹس کے ذریعے سکریننگ کی جائے تو اس کا تدارک ہو سکتا ہے۔ نادرا کے سابق چیئرمین بتاتے ہیں کہ اب فنگر پرنٹس کے ذریعے جو ڈیٹا تیار کیا گیا ہے اس کے ذریعے انتخابات میں دھاندلی کو روکا جا سکتا ہے۔ اس وقت نادرا کے ڈیٹا بیس تمام ووٹرز کے فنگر پرنٹس موجود ہیں، پولنگ سٹیشن پر پرچی جاری کرتے وقت ووٹر کا فنگر پرنٹ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی تھی کہ ووٹر جب پرچی حاصل کرنے کے لئے انگوٹھے کا نشان لگائے تو اس وقت اس کا نادرا کے ریکارڈ سے تقابل کر کے دیکھ لیا جائے کہ یہ نشان اس شخص کا ہے۔ الیکشن کمیشن نے معذرت کی تھی کہ اس کے پاس ایسا کرنے کا نہ ہی وقت ہے اور نہ ہی وسائل، ایسی صورت میں یہ ہو سکتا ہے کہ حتمی نتیجے کے اعلان سے پہلے پولنگ سٹیشن سے حاصل کردہ انگوٹھے کے نشانوں کی نادرا کے ڈیٹا بیس سے تصدیق کر لی جائے۔ تحریک انصاف نے اس بات کا مطالبہ کیا تھا لیکن شاید دوسری سیاسی جماعتوں کو یہ بات موافق نہیں لگتی۔طارق ملک کہتے ہیں کہ انہوں نے پولنگ میں پڑنے والے ووٹوں کے انگوٹھے کے نشانوں کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا تاکہ نادرا کے ریکارڈ سے تقابل کر کے جعلی ووٹوں کو الگ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس کام کا آغاز سندھ سے کیا اور وہاں بہت سے حلقوں میں جعلی ووٹوں کی نشان دہی کر کے الیکشن کمیشن کے حوالے کی۔ اس کے بعد پنجاب میں لاہور کے حلقوں سے کام شروع کرنے کا کیا پروگرام بنایا کہ چراغوں میں روشنی ہی نہ رہی اور پھر اچانک انہیں برخاست کرنے کا حکم آ گیا۔ وہ عدالت میں گئے جس نے انہیں اس عہدے پر بحال کر دیا۔ اس کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ بالاخر انہوں نے تنگ آ کر مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اس طرح ایک قابل، مخلص اور دیانت دار پاکستانی نوجوان افسر کا وہ خواب ادھورا رہ گیا جو وہ پاکستان کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے لے کر آیا تھا۔

مزید : صفحہ آخر