اگر فلسطین کو آزادی نہ ملی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔اسرائیلی نسل عصبیت والا ملک بن سکتا ہے

اگر فلسطین کو آزادی نہ ملی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔اسرائیلی نسل عصبیت والا ملک بن سکتا ہے ...

  



                        واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے فریم ورک کی ڈیڈ لائن 29اپریل خاموشی سے گذر گئی جس کے بارے میں دونوں فریق اور سہولت کار امریکہ نے معنی خیز چپ سادھ لی۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ وہ نئی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کے لئے دونوں فریقوں سے رابطہ میں ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے ایمبیسیڈر مارٹن انڈک مایوس ہو کر واپس امریکہ آ گئے ہیں۔ لیکن اس دوران امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک نجی مجلس میں یہ کہا کہ اگر اس خطے کے مسئلے کے حل کے لئے دو ریاستیں قائم نہ ہوئیں یعنی فلسطین کو آزادی نہ ملی تو پھر خطرہ ہے کہ اسرائیل نسلی مصیبت والا ملک بن جائے گا۔ ان کے بیان کے منظر عام پر آنے کی دیر تھی کہ اسرائیل میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اسرائیلی وزیر ااعظم نے جان کیری کا نام لئے بغیر ان گروپوں کی مذمت کی جو اسرائیل کی فلسطین کے بارے میں پالیسی پر اس کے بائیکاٹ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔اسرائیل کے سٹرٹیجک امور کے وزیر یوول سٹینز نے جان کیری کے بیان پر براہ راست تبصرہ کرتے ہوئے اسے ”تکلیف دہ، غیر مناسب اور ناقابل برداشت“ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی اسرائیل کے سر پر بندوق رکھ کر اسے مذاکرات کیلئے مجبور نہیں کر سکتا۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی کو اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران اس سلسلے میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس بیان پر گول مول تبصرہ کیا اور پھر وزیر خارجہ کی طرف سے باقاعدہ ایک بیان جاری ہوا جس میں اسرائیل سے محبت کا بہت اظہار کیا گیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ”نسلی عصبیت“ کا لفظ انہیں استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اصل میں انہوں نے یہ نہیں کہا اس وقت اسرائیل میں نسلی عصبیت ہے بلکہ خبردار کیا تھا کہ اگر مسئلے کا دو ریاستی حل تلاش نہ ہوا تو پھر نسلی عصبیت کا امکان ہے۔

مزید : علاقائی


loading...