بس!ذرا صبر!کہ اب وقت تھوڑا ہے

بس!ذرا صبر!کہ اب وقت تھوڑا ہے
بس!ذرا صبر!کہ اب وقت تھوڑا ہے

  



تجزیہ:- چودھری خادم حسین

حکومت کی بہترین کوشش اور خواہش تو مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام کی ہے لیکن جن حضرات سے اسے واسطہ پڑا وہ شاید اپنی بات یا موقف منوانے کے سوا اور کوئی بات ماننے پر تیار نہیں ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی قوت کا بھی مظاہرہ کرتے رہتے ہیں، حالات اور واقعات کا قریب سے جائزہ لینے والے حضرات نے شاید اب نتیجہ اخذ کیا کہ بالاخر وزیر اعظم اور ان کے رفقاءبھی قائل تو ہو گئے ہیں اس کے باوجود وہ ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں اور اس پر پیر کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ بھی ہو گیا جس کی بناءپر ہی تو چوہدری نثار علی خان نے بھی طالبان کی رابطہ کمیٹی کے اراکین پر واضح کر دیا ہے کہ اب چونکہ چنانچہ والی بات نہیں چلے گی اور ٹھوس ایجنڈے پر بات ہو گی بتایا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ پہلی شرط حکومتی رٹ اور پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتا اور اسی کے دائرہ کار میں بات کرنا ہے دوسری کوئی صورت نہیں ہو گی۔ اس لئے بہتر ہو گا کہ رابطہ کمیٹی بیان بازی سے ہٹ کر کالعدم تحریک طالبان کے واضح مطالبات لے کر آئے۔ ایک تجزیہ نگار دانشور نے اپنے گزشتہ روز کے کالم میں اپنی سابقہ رائے پر اصرار کیا کہ کالعدم تحریک طالبان والوں نے وقت حاصل کر کے پاکستان کے اندر اپنے نیٹ ورک کو مضبوط بنایا ہے تاکہ محاذ آرائی کی صورت میں وہ زیادہ نقصان پہنچانے کے اہل ہوں۔

دوسری طرف اتوار کو جنوبی وزیرستان میں ایک فوجی افسر کے ساتھ دو جوان شہید ہوئے تو مقامی سکیورٹی کمانڈر کی شکایت اور تعاون سے پیر کو ہی حساب برابر کر دیا گیا۔ طالبان کے خفیہ ٹھکانوں پر ہیلی کاپٹر سے حملے کئے گئے اور زمینی راستوں سے بھی جواب دیا گیا۔ شدت پسندوں کے متعدد خفیہ ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے اس سے پہلے سرکاری ذرائع ہی نے یہ بھی بتایا تھا کہ خیبر ایجنسی(باڑہ کے علاقے) میں ہوائی جہازوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سبزی منڈی اسلام آباد بم دھماکوں کے ذمہ دار ملزموں کو ٹھکانے لگا دیا گیا تھا۔

پیر کو وزیر اعظم ہاﺅس میں سلامتی کمیٹی کا جو اجلاس ہوا اس کے بارے میں جاری ہونے والا سرکاری بیان بھی معنی خیز ہے اس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی سے منسوب کیا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے سیز فائر کے دوران اور بعد میں بھی وارداتیں کرنے والوں کے بارے میں تحقیق کر کے ان کا سراغ لگا لیا ہے اور جلد ہی ان کو عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔اس رپورٹ سے پہلے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان یہ بتا چکے تھے کہ طالبان رابطہ کمیٹی سے ان کی کیا بات ہوئی اور انہوں نے واضح بھی کر دیا ہے کہ بس بہت ہو چکی اب ٹھوس بات ہونا چاہئے۔

اسی اجلاس کے حوالے سے پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے آئی ایس آئی کی تعریف کی اور اسے نہایت مفید قرار دے کر اس ملک کے لئے خدمات کو سراہا، یوں اس حوالے سے جو اعتراضات تھے وہ اس طرح دور کر دیئے گئے یہ ایک میڈیا ہاﺅس کے حوالے سے تھے اور ساتھ ہی حامد میر پر حملے کا بھی ذکر موجود ہے، اس طرح ایک بار پھر یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں بلکہ اس مسئلہ پر اتفاق رائے ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر شدت پسندوں کی کارروائی کا موثر جواب دینے کا فیصلہ بھی اتفاق رائے سے ہو چکا اور اب حتمی مذاکرات کا انتظار اور اہتمام تو ضرور کیا جائے گا لیکن شدت پسندانہ کارروائی کا فوری جواب دیا جائے گا کوئی لحاظ نہیں ہو گا۔ اس طرح بات بڑھ گئی ہے۔

ادھر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اتنے مطمئن ہیں کہ وہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق لندن پہنچ گئے ہیں، تین روزہ سرکاری دورہ ہو گا اور اس کے بعد تین روز نجی طور پر اپنی اہلیہ کے ساتھ وہاں ٹھہریں گے اور ان کے علاج کی نگرانی کریں گے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب فیصلہ کن موڑ آ گیا ہے اور ہفتہ دس دن سے زیادہ وقت نہیں گذرے گا۔ اس دوران مذاکرات کا حتمی نتیجہ حاصل کر لیا جائے گا ناکامی کی صورت میں پورے ملک میں شدت پسندوں گرفتاریاں عمل میں آئیں گی شمالی وزیرستان میں بھی آپریشن ہو گا دعا تو یہی ہے کہ جوش پر ہوش غالب آئے اور کالعدم طالبان پر امن جدوجہد پر یقین کا اظہار کر کے ہتھیاروں کی زبان استعمال کرنا چھوڑ دیں۔

مزید : تجزیہ