برطانوی کمیٹی کی پاکستانی امداد شدت پسندی سے مشروط کرنے کی تجویز

برطانوی کمیٹی کی پاکستانی امداد شدت پسندی سے مشروط کرنے کی تجویز
برطانوی کمیٹی کی پاکستانی امداد شدت پسندی سے مشروط کرنے کی تجویز

  



 لندن (مانیٹرنگ ڈیسک )برطانیہ کی پارلیمان کی انٹرنیشنل ڈویلیپمنٹ کمیٹی نے پاکستان کو دی جانے والی امداد شدت پسندی کے خاتمے سے مشروط کرنے کی تجویز پیش کر دی۔وزیر اعظم میاں نواز شریف منتخب ہونے کے بعد برطانیہ کے پہلے سرکاری دورے پر ہیںاور اس موقع پر برطانوی پارلیمان کی کمیٹی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ جب تک پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی نہیں کرتی اس وقت تک پاکستان کو دی جانے والی امداد کم کر کے غریب ممالک کو دے دی جائے۔پاکستان کو برطانیہ کی جانب سے 2011 ءسے 2015 ءتک ایک ارب 17 کروڑ پاﺅنڈ کی امداد دی جانی تھی۔اس امداد کی سالانہ رقم 2010-11 ءکے 21 کروڑ 50 لاکھ پاﺅنڈ کے مقابلے میں 2014-15ءکیلئے بڑھا کر 40 کروڑ 50لاکھ پاﺅنڈ سالانہ کئے جانے کی توقع ہے۔انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کا کہنا ہے اگر پاکستان دہشتگردی روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرتا تو یہ امداد بہت زیادہ ہے۔برطانیہ کے محکمہ بین الاقوامی ترقی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مستقبل تبدیل کرنے کے لیے تعلیم انتہائی ضروری ہے۔پاکستان کو دی جانے والی امداد کا بڑا حصہ تعلیم کے لیے مختص ہے جو برطانیہ کے مفاد میں ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں