انسانی اعضاء کلوننگ سے تیار ہوں گے

انسانی اعضاء کلوننگ سے تیار ہوں گے
انسانی اعضاء کلوننگ سے تیار ہوں گے

  



لاس اینجلس (بیورورپورٹ) امریکی اور کوریائی سائنسدانوں کے کلوننگ پر کامیاب تجربات سے اب یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ عنقریب قدرتی انسانی اعضاء بالکل ایسے میں بنائے جاسکیں گے جیسے کہ آج فیکٹریوں میں کھلونے اور مختلف قسم کے آلات بنائے جاتے ہیں 1996ء میں جب کلوننگ کے ذریعے ’’ڈولی‘‘ نامی بھیڑ پیدا کی گئی تو ساری دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ اب یہی طریقہ کار انسانی اعضاء اگانے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ بچوں کے خلیات کی کلوننگ کا تجربہ تو پہلے ہی کامیاب ہوچکا ہے لیکن ان تجربات کی اہم بات یہ ہے کہ ہر عمر کے افراد کے خلیات لے کر ان سے نئے اعضاء پیدا کئے جاسکیں گے۔ ان تجربات میں ایک 35 اور ایک 75 سالہ شخص کے خلیات استعمال کئے گئے۔ اس طریقہ میں مطلوبہ شخص کے جسم سے خلیات لے کر ان کے نیوکلیئس کو مادہ جنسی خلیے میں منتقل کیا جاتا ہے اور پھر اس کی افزائش سے نئے اعضاء پیدا کرلئے جاتے ہیں۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی