زہریلے انجکشن نے موت کو ‘مشکوک‘ بنا دیا

زہریلے انجکشن نے موت کو ‘مشکوک‘ بنا دیا
زہریلے انجکشن نے موت کو ‘مشکوک‘ بنا دیا

  



نیویارک (بیورو رپورٹ) دنیا میں سزائے موت کے مجرموں کی زندگی ختم کرنے کیلئے طرح طرح کے طریقے زیراستعمال رہے ہیں، کبھی پھندے سے لٹکانے، کبھی تیز دھار تلواروں سے سر قلم کرنے اور کبھی گولیوں کی بوچھاڑ کرکے مارنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ مغربی ممالک میں حالیہ تاریخ میں زہریلے انجکشن سے سزائے موت کا طریقہ بھی کافی مقبول رہا ہے۔ لیکن آج کل یہ طریقہ ضرور سے زیادہ تکلیف دہ اور بے رحم ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن گیا ہے۔ امریکہ کی ایک جی میں کلیٹن راکٹ نامی مجرم کو زہریلا انجکشن لگایا گیا لیکن مجرم مرنے کی بجائے کافی دیر تک درد سے تڑپتا رہا اور بالآخر ہارٹ اٹیک ہونے سے ہلاک ہوگیا۔ سزائے موت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انجکشن میں استعمال ہونے والے کیمیکل مجرموں کو بے پناہ اذیت کا شکار کررہے ہیں اور یہ عمل روایتی سزائے موت کے طریقوں سے بھی بدتر ثابت ہورہا ہے۔ جیل خانہ جات کے ایک نمائندہ نے کہا کہ مجرم کو انجکشن لگانے کے بعد یہ دیکھنے میں آیا کہ دیا گیا زہر ٹھیک طور پر کام نہیں کررہا تھا جس کی وجہ سے مجرم کافی دیر تڑپتے رہنے کے بعد بالآخر ہارٹ اٹیک سے ہلاک ہوگیا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...