جوڈیشل کمیشن: توقعات

جوڈیشل کمیشن: توقعات
جوڈیشل کمیشن: توقعات

  



2013ء کے انتخابات کے بعد تقریباً ہر سیاسی جماعت نے دھاندلی کا رونا رویا۔یہاں قومی سیاسی قیادت کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ اگر الیکشن کے نتائج اپنی توقعات کے مطابق نہ نکلیں تو ان کو ماننے سے پس و پیش کیا جاتا رہا ہے۔ صرف 1970ء کے الیکشن ہی شفافیت کی سند پا سکے۔2013ء کے الیکشن پر سب سے زیادہ تحفظات پاکستان تحریک انصاف نے ظاہر کئے۔ اس جماعت کی قیادت قبل از الیکشن اپنے ہونے والے جلسوں، جلوسوں، ریلیوں اور کارنر میٹنگز کو معیار بنا کر اس بات کی امید لگا چکی تھی کہ ملک کی قیادت کا ’’ہما‘‘ اس کے سر پر بیٹھنے والا ہے اور عمران خان اپنے آپ کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لئے تیار کر چکے تھے۔ نتائج کے بعد وہ اپنی محرومی کو چھپا نہ سکے اور دھاندلی کے نام پر عوامی احتجاج کاآغاز کر دیا۔126 روز تک وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دیا گیا۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس احتجاج پر انہیں کس نے اُکسایا، کیونکہ اس پر کئی قسم کے سازشی نظریات پر بہت بحث ہو چکی ہے۔ بہرحال دھرنے میں جو مطالبات پیش کئے جاتے رہے، ان پر بھی قومی میڈیا میں سیر حاصل بحث ہو چکی ہے۔ دسمبر 2015ء میں پشاور آرمی سکول کے بچوں کا سانحہ دھرنے کے اچانک اختتام کی وجہ ٹھہرا۔ احتجاجی مہم کے خاتمے پر تحریک انصاف کی قیادت کے پاس عوام کو بیچنے کے لئے کچھ نہ بچا، اس لئے اس نے دھاندلی کی وجوہات جاننے کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کومرکزی مطالبہ بنایا۔ اس مطالبے کی تکرار پر اصرار کیا جانے لگا ،مگر ٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗحکومت نے اس مطالبے کی پذیرائی کے لئے کوئی سرگرمی نہ دکھائی تاآنکہ عمران خان نے تازہ دھمکی دی کہ اگر ان کی مانگ پر کان نہ دھرے گئے تو وہ دوبارہ سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ اس پر حکومت نے چار و ناچار بات چیت کا ڈول ڈالا اور اس کو حکمت عملی کے تحت طویل کیا جاتا رہا۔ جب جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے قومی آواز بلند ہوئی تو حکومت نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا شروع کیا جو اس کمیشن کے قیام پر منتج ہوا۔ اس ضمن میں ایک آرڈیننس کے ذریعے اس کمیشن کے خدوخال کا اجراء ہوا۔ اس اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے لئے خود قواعد وضوابط مرتب کرکے 45روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔ اسے یہ مینڈیٹ بھی دیا گیا کہ وہ اس بات کی عمیق تحقیق کرے کہ 2013ء کے انتخابات میں کسی ایک جماعت نے منظم دھاندلی کرکے کسی مخالف سیاسی دھڑے کو اس کامیابی سے محروم کیا، جس کی وہ حقدار تھی اور یہ کہ آیا عوامی تائید یافتہ کسی جماعت کے اس دھاندلی کے ذریعے اس کا مینڈیٹ چھینا تو نہیں گیا۔

اس آرڈیننس کے اجراء کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک تین رکنی بنچ نے فوری طور پر کام شروع کر دیا اور اس میں فوری پیش رفت کرتے ہوئے فریقین سے دھاندلی سے متعلق ثبوت مانگ لئے گئے۔ اب تک کمیشن کے کئی اجلاس ہو چکے ہیں۔ اس نشست میں ہمیں اس بات کا تجزیہ کرنا ہے کہ کمیشن کے قیام کے بعد دھاندلی کی منظم مہم کے بارے میں جاننے کے لئے کس حد تک عوامی توقعات پوری ہو سکتی ہیں؟ تحریک انصاف کا استدلال ہے کہ اگر دھاندلی کے ذرائع کے بارے میں باریک بینی سے تحقیق کی جائے اور اس میں ذمہ داروں کا تعین کر لینے کے بعد اس کے مرتکب عناصر کو سزا دی گئی تو آئندہ کے انتخابات کے صاف و شفاف انعقاد کی ضمانت مہیا ہو سکتی ہے۔ گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ نقطہء نظر بظاہر بہت پُرکشش دکھائی دیتا ہے، لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ کمیشن کے دائرہ اختیار کا احاطہ کرتے ہوئے یہ بات صاف نظر آ رہی ہے کہ اس کے لئے صرف عمومی دھاندلی کے وجود کو ثابت کرنا مقصود نہیں ، بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہونے والی منظم دھاندلی کے بارے میں رپورت پیش کرے۔

بیس سے زائد سیاسی جماعتوں نے انفرادی طور پر الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے بارے میں ثبوت پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن کسی جماعت نے منظم انداز سے کئے گئے قومی فراڈ کے بارے میں اپنی رائے نہیں دی۔ ان تمام سیاسی پارٹیوں کا دھاندلی کے بارے میں نقطہ ء نظر صرف چند حلقوں کے بارے میں ہے، جبکہ تحریک انصاف کا نقطہء نظر ان سب سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ اس بحث سے یہ بات عیاں ہے کہ تحقیق ہونے کے ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں اور تحریک انصاف کے مطالبات میں بعدالمشرقین پایا جاتا ہے، کیونکہ تحریک کا الزام ہے کہ اس کی عوامی پذیرائی کی لہر کو دیکھتے ہوئے اس کے سامنے بند باندھتے ہوئے اسے اقتدار میں آنے سے ایک سکیم کے تحت روکا گیا اور اس ضمن میں چند عناصر نے گٹھ جوڑ کرکے اس کے عوامی مینڈیٹ کو چرایا۔ اس لئے یہ کہنا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے الیکشن 2013ء کے بارے میں خدشات میں مماثلث پائی جاتی ہے، بالکل غلط ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں میں سے کس نقطہ ء نظر کے بارے میں کامیابی سے انکوائری ممکن ہوگی؟ ہمیں نظر آتا ہے کہ تحریک انصاف کے لئے اس بات کا ثبوت پیش کرنا کہ انتخابات میں اس کی کامیابی کو منظم طریقے سے سبوتاژ کیا گیا، مشکل کے علاوہ ناممکن نظر آتا ہے۔

اس ضمن میں جن عناصر کا ذکر تحریک کرتی ہے، ان کا حقیقی گٹھ جوڑ ثابت کرنا اس کے لئے کارے دارد ہوگا۔ چند حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت پیش ہونے سے کمیشن کے وجود کی نفی ہوگی، کیونکہ ان انواع کی شکایات کے ازالے کے لئے پہلے سے انتخابی عدالتیں اور ٹربیونل موجود ہیں، جن کے قیام کی ضمانت آئینی اور قانونی طورپر موجود ہے۔ اسی لئے چند حلقوں کی جانب سے کمیشن کے قیام کو آئین اور قانون سے ماوراء اقدام گردانا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں معاملات کو طے کرنے کے لئے پہلے سے ہی اعلیٰ عدالتوں میں یہمسئلہ زیر سماعت ہے، اس لئے اس پر رائے زنی کرنا ہمارے لئے نامناسب ہوگا، لیکن اس حقیقت سے بھی مُفر ممکن نہیں کہ کمیشن کے قیام کو خاموش عوامی پذیرائی بھی حاصل ہے۔ قوم چاہتی ہے کہ باقاعدہ اور سازش کے تحت دھاندلی کو طشت ازبام ہونا چاہیے،لیکن سیاسی طورپر پھر بھی تحریک انصاف کا مطالبہ اور اس پر زور دینا ایک جوا ہے، جو اس کی قیادت کھیل رہی ہے، کیونکہ اگر وہ اپنا الزام ثابت کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو اس کے سیاسی وقار کو دھچکا لگے گا اور اس کا سیاسی قد کاٹھ کم ہو کر رہ جائے گا۔ 

برسر اقتدار طبقے نے بڑی سوچ بچار کے بعد اس کمیشن کے قیام کے مطالبے کو پذیرائی بخشی ہے اور اسے امیدِ واثق ہے کہ اس کے مخالفین اپنے الزامات کو ثابت کرنے میں ہر صورت میں ناکام رہیں گے۔ مسلم لیگ کی قیادت نے تاش کایہ پتہ اس لئے کھیلا ہے کہ اپنے الزام کو ثابت کرنا فریق مخالف کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔۔۔ لیکن اگر کمیشن اس بات کو تسلیم کرے اور یہ رپورٹ کرے کہ واقعی منظم انداز سے تحریک انصاف کو ہرانے کا بندوبست کیا گیا تو اس کی اس رپورت اور رائے کو تسلیم کرنا حکومت کے لئے ضروری نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس سے پیشتر ایسی کئی رپورٹوں کو اس وقت کی حکومتیں نظر انداز کرتی رہی ہیں۔

کمیشن کے قیام کے بارے میں اگرچہ فریقین کے مابین معاہدہ ہو چکا ہے کہ اپوزیشن کے الزام درست ثابت ہونے کی صورت میں وزیراعظم اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ قومی اسمبلی توڑ دیں، لیکن کیا یہ معاہدہ جملہ صوبائی حکومتوں کے لئے قابل قبول ہے، کیونکہ اس میں ان کو فریق نہیں ٹھہرایا گیا، اس ضمن میں معاہدہ خاموش ہے۔ صوبائی اسمبلیوں کو توڑنا وہاں کے وزرائے اعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات میں شامل ہے تو سوال یہ پیدا ہوگاکہ کمیشن کی ایسی رپورٹ کی صورت میں صوبائی حکومتیں اس معاہدے پر عملدرآمد کرنے کی پابند ٹھہریں گی، کیونکہ وہ اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ لگتا ہے کہ ایک ایسا کھیل کھیلا جائے گا،جس کا انجام بخیر نہ ہو، اس لئے ہماری ناقص رائے میں کمیشن کے قیام کی حکمت عملی حکومت کی کامیاب سیاسی چال ہے اور تحریک کے لئے اس سے فیس سیونگ کرنا بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ اس کی کامیابی اور ناکامی کا اثر آئندہ بلدیاتی انتخابات پر واضح طور پر نظر آئے گا، اسی لئے حکومت نے موقع کی نزاکت پر ہی ایسا فیصلہ کیا ہے، اس لئے لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کی سیاسی حکمت عملی تحریک انصاف کی چال سے بہتر ہے، کیونکہ اس سے سیاسی فوائد حاصل کرنا تحریک انصاف کے لئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

مزید : کالم