تدبیر اور تقدیر

تدبیر اور تقدیر

  



جو بھی اقتدار میں آتا ہے نہ جانے وہ کیوں سمجھنے لگتا ہے کہ سارا مُلک اُس کے خلاف ہے جنھیں ناکام بنائے بغیر اقتدار میں نہیں رہا جا سکتا ۔اس لئے وہ صلاحیتیں جو مسائل حل کرنے اور ملک کی مضبوطی پر صرف ہو سکتی ہیں انھیں اپوزیشن کو ناکام بنانے اور حکومت کی مضبوطی کے لئے مُہرے تلاش کرنے پر ضائع کر دیا جاتا ہے، لیکن یہ نہیں جانتے کہ تدبیریں بھی تقدیر کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں تو پھر کیوں نہ حاصل وقت کو خلقِ خدا کی بہتری پر صرف کیا جائے اور اُن کی دعائیں لی جائیں،مگر کسے سمجھائیں کہ یہاں سب لکیر کے فقیر ہیں اپنے پیش روؤں کے عبرتناک انجام سے چشم پوشی کرتے ہیں اور اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے کوشاں رہتے ہیں،لیکن ہمیشہ اقتدار کسی بندے کے پاس تو نہیں رہتا۔

ایوب خاں کو ڈیڈی کہا گیا چاپلوسی میں تمام حدیں پار کی گئیں جس کی بدولت وزارتِ خارجہ ملی جس سے مدح سرائی کی صلاحیتوں میں مزید نکھار آیا ،اور ہاں قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح پر طرح طرح کے الزامات عائد کرکے دستر خوانی قبیلہ نے ایوب خان کو مُلک کی بقا کے لئے اشد لازم کہا۔ جونہی اقتدار پر گرفت کمزور ہوئی تو حمایتی نظریں چُرانے لگے قصیدہ خواں جائے قیام بدلنے لگے۔چاہتیں ،عقیدتیں دکھانے والوں نے بے مروتی کے پیراہن پہن لئے،جو ایوب خاں کے اقتدار میں رہنے میں ہی ملکی بقا دیکھتے تھے انہیں بھی ایوب خاں سے جان چھڑانے میں مُلک کی بقا نظر آنے لگی ایسی طوطا چشمی کی روایت رکھنے والی سیاست پھر بھی سب کو مرغوب ہے ،حیرت ہے ۔

یحییٰ خاں میں لوگوں کو ہزار ہا خوبیاں نظر آئیں ادھورے اقتدار پر صاد کرنے یا اپوزیشن میں بیٹھنے کی بجائے مُلک کو دولخت کرنا گوارہ کر لیا، لیکن کامل اقتدار پر سمجھوتا نہ کیا اور پھر ایسا آرمی چیف تلاش کیا گیا جو کور کمانڈر ہوتے ہوئے بھی رکھوالی کے لئے خود موجود رہے۔اِسی لئے تو جونیئر ہونے کے باوجود نظروں کو بھا گیا تبھی تو اُسے سب پر ترجیح ملی،لیکن اُس نے مُلک سے عجیب کیا،جس نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی ۔اُسے ہی تختہ دار پر چڑھا دیا تاکہ اقتدار کے لئے کوئی خطرہ نہ رہے ۔تاحیات اقتدار میں رہنے کے لئے امریکہ کو بھی رام کر لیا۔افغان جنگ میں کودنے کا فیصلہ کیا مبادا کوئی جمہوریت کی بحالی کی تان اُٹھائے ۔تمام تدبیریں اُلٹ ہو گئیں اور تقدیر نے چشم زدن میں کامل اقتدار کے مالک کو رزقِ خاک بنا دیا ۔کیا اِس میں سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں نہیں ؟

میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اقتدار کے لئے کیا کیا جتن کئے۔ جونہی عنانِ اقتدار ملی تو اُسے طویل سے طویل تر بنانے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلے کسی نے فاروق لغاری کو صدر بنا کر تصور کر لیا کہ اب2b-۔58 سے نجات مل گئی ہے پھر نجات والے نے حکومت برخواست کرکے آزار کا سامان کر دیا کسی نے رفیق تارڑ کو ایوانِ صدر میں لا کر تبدیلی کے راستے بند کیے لیکن تبدیلی آئی تو وہ خود تبدیلی کے سیلاب میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے اور کچھ بھی نہ کر سکے۔ جیسے صرف تماشائی ہوں ۔بھلا تدبیر اور تقدیر کا بھی کوئی مقابلہ ہے ۔ہر گز نہیں ۔تو بند گانِِ خدا کی بھلائی میں عافیت کیوں نہیں جانتے۔یاد رکھیں جو بھلائی پر حرص و ہوس کو ترجیح دیتا ہے وہی خطا کار ہے اور آخر کار نقصان کا سوداگر بھی۔

پرویز مشرف میں بھی لوگوں کو بڑی بھلائیاں نظر آئیں ۔اُن کے بادہ و جام کے اوقات میں ملک کی ترقی دیکھی جاتی۔انہیں مُلک کا حقیقی مہربان حکمران کہا گیا۔ وہ بھی سب سے پہلے پاکستان لکھتا اور کہتا تو سر دُھننے والے مست ہو جاتے اور بڑھ چڑھ کر تائید و حمایت کی یقین دہانی کرانے لگتے۔ بے نظیر بھٹو کی دنیا سے روانگی ہی پرویز مشرف کی اقتدار سے روانگی کا سامان کر گئی۔ عقلِ تدبیر بھلا نوشتہ تقدیر کوٹال سکتی ہے ۔

مال ومتاع نے کس سے اور کب وفا کی ہے؟ قارون سے لے کر آج تک جو بھی اِس بارِ دنیا میں لگا رہا ۔ دنیا سے جاتے ہوئے جس نے سب سے پہلے ساتھ چھوڑا یہی مال و دولت ہے اولاد بھی چند دن یاد کرتی ہے پھر روز و شب کے ہنگاموں میں مگن ہو جاتی ہے ۔جانے والا کسی کویاد تک نہیں رہتا ۔جیسے انسان دنیا سے نہ گیا ہو بلکہ حرفِ غلط مٹایا گیا ہو۔

جب اقتدارکا ہُما ہمیشہ ایک پر ہی مہربان نہیں رہنا۔ اولا د نے بھی جلد ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔ سرے محل کا عیش و نشاط بھی چند روزہ ہے ۔آف شور کمپنیاں بھی بدنامی کا اشتہار بن جانی ہیں تو کیوں نہ دستیاب موقع کو عام آدمی کی بھلائی پر صرف کر کے نیک نامی سمیٹی جائے۔دکھیاری قوم کے دُکھ کم کرکے دعائیں لی جائیں ۔ووٹ دینے والوں کی بہتری کا بھی سوچا جائے۔محض اپنے عیش و آرام کا سامان کر کے احسان فراموشی نہ کی جائے۔ تبدیلی قدرت کے نظام کا حصہ ہے اور جمہوریت کا حُسن بھی۔پھر مصنوعی بند بنانے کا کیا فائدہ۔ہو اگر وقت تو سوچنا چاہئے۔وقت تو گزر جاتا ہے نیک نامی کے ساتھ بھی اور بدنامیوں کے بار اُٹھا کر بھی۔تو اچھے انداز اپنا نے چاہیں۔آپ کا کیا خیال ہے اے صاحبانِ اقتدار ؟ درباری تو دربار کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں افراد کے ساتھ نہیں ۔کیا وقت بدلتے ہی اُن کے اِدھر اُدھر جانے سے آپ کو اِس باریک نکتے کی سمجھ نہیں آئی ؟

مزید : کالم