وردی بدل گئی، دل نہیں بدلا

وردی بدل گئی، دل نہیں بدلا
وردی بدل گئی، دل نہیں بدلا

  

پاکستان کے مختلف صوبوں کی پولیس اپنی مثال آپ ہے اور اس کا اظہار تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سابق آئی جیز کھلے عام کرچکے ہیں ۔ پنجاب میں جہاں پولیس میں سیاسی اثر ورسوخ یا امیر طبقے کے زیرسایہ ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، وہیں تمام ترحکومتی کاوشوں کے باوجود آپ کلی طورپر رشوت سے پاک ہونے کا یقین تو کیا دعویٰ تک نہیں کرسکتے البتہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی وجہ سے پولیس کی ”زیتونی بھیڑوں“ ( وردی اب زیتون مائل سبز ہوچکی ہے) نے بھی ”طریقہ واردات“ بدل لیا۔

کسی بھی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سرمایہ کاری، حکمت عملی اور پھر عمل درآمد تین بنیادی اصول ہیں، پنجاب پولیس اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے سرمایہ کاری کردی گئی اور شاید کسی حدتک حکمت عملی بھی کہیں کاغذی طورپر کام کررہی ہے لیکن عمل درآمد سے مکمل طورپر عاری دکھائی دیتی ہے اور اپنے ’فرائض‘ کی ادائیگی کرتے اہلکاراپنے محکمے کا منہ چڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔

چند سال قبل ایک عزیز کیساتھ شناختی کارڈ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے کی کوشش میں تھانہ وحدت کالونی جاگھسے، وہاں براجمان صاحب نے جوتے سے پاﺅں باہر نکالتے ہوئے ایسے ایسے سوالات کی بوچھاڑ کردی کہ رپورٹ درج نہ کرانے میں ہی عافیت جانی لیکن ساتھ ہی کاغذوں سے بھری ایک فائل دی گئی اور ہدایت ہوئی کہ یہ فوٹوکاپی کرا لائیں، یعنی رپورٹ درج کرانے کیلئے 200روپے کی فوٹوکاپیاں پیش کرنا پڑیں گی ۔ وقت گزرتا گیا، بعض اوقات اہلکاروں کو کسی ناکے پر موٹرسائیکل سواروں کو روک کر کسی کونے نکڑے لے جاتادیکھا تو وہی حسب روایت ایک ہی نقشہ ذہن میں آیا کہ پکڑا گیا ’مرغا‘ منت سماجت کرے گا اور پھر جیب میں ہاتھ ڈالے گا اور ہاتھ نکال کر اہلکارسے ملاکر چلتا بنے گا جبکہ پولیس اہلکاراپنا ’ گندہ ‘ کیا گیا ہاتھ صاف کرنے کیلئے جیب میں ڈالے گا اور واپس اپنی ڈیوٹی کے پوائنٹ پر پہنچ کر نئے شکار کی تلاش شروع کردے گا لیکن پولیس کی وردی کی تبدیلی کیساتھ ہی یہ طریقہ بھی بدل گیا ، شاید وردی کیساتھ ہی طریقہ بھی مجبوراً بدلنا پڑا۔

تھانہ فیکٹری ایریاسے چند قدم کی دوری پروالٹن روڈ پر لگے ناکہ کے قریب درخت کی چھاﺅں میں رکنا پڑا ، حسب معمول پولیس اہلکار پرانی پھٹیچر موٹرسائیکلوں کو روکنے اور اس پر سوار نوجوانوں کی تلاشیاں لینے اور ہڈیاں نکالنے میں جتے تھے، ایک موٹرسائیکل کے دو سوار مونچھوں کو تاﺅدیتے اہلکارکے ترلے لیتے درخت کی چھاﺅں میں آٹپکے اور پھر ایک اچانک  عقب میں موجود درختوں سے ہوتاہوا مارکیٹ کی طرف غائب ہوگیا، چند ہی لمحوں بعد  ہنستے ہوئے وہ دوبارہ پولیس اہلکار کی طرف بڑھنے لگا، ہاتھ ملایا اور چلتابنا، آپ بتاسکتے ہیں کہ اس نے پولیس اہلکار کو کیا پکڑایا ؟ جی ہاں ، یہ کوئی نقدی نہیں تھی بلکہ ایک درمیانے درجے کی سگریٹ کی ڈبیہ تھی ۔

اتوار کو چھٹی کی وجہ سے سڑکوں پر رش قدرے کم تھا، ایسی جگہوں پر بھی پولیس اہلکاروں نے ناکے لگاکر’ شکار‘شروع کردیا جن کا شمارعمومی ’شکارگاہوں ‘میں نہیں ہوتا، نئی نئی تعمیر ہونیوالی شاہراہ خیابان اقبال پر بھی ناکہ جمایا اور چند اہلکاروں نے اپنے فرائض کی ادائیگی شروع کردی، موٹرسائیکل سوار کو روکا، پولیس اہلکارآگے بڑھا اور روایتی طریقے سے جسم کے ہرحصے کو ٹٹولنا شروع کردیا، قمیض کا پلو اٹھایا اور شلوار کی جیب کا بغور جائزہ لیا ، کچھ استفسار میں ابھی مصروف ہی تھا کہ قریبی موجود پٹرول پمپ کی ٹک شاپ سے واپس آنیوالے موٹرسائیکل نے ہاتھ میں پکڑا لفافہ آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ لیں، زیتونی وردی میں ملبوس یہ قوم کا ملازم سیخ پا ہوگیا اور ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمان جاری کیا کہ وہاں موجود موٹرسائیکل کیساتھ لٹکادیں، اس لفافے میں ایک پانی کی بوتل ، دو جوس کے کین اور کچھ ٹافیاں یا چاکلیٹ وغیرہ تھی۔ اسی اثناءمیں روکے گئے بعد میں موٹرسائیکل سوار کی جان چھوٹ گئی اور اہلکار ان موٹرسائیکلوں کی طرف بڑھ گئے جہاں یہ شاپر لٹکانے کی ہدایت کی گئی تھی ۔یہ چیز یں بھی دراصل رشوت کی مد میں ہی وصول کی گئی تھیں، اسے آپ ’حق حرام‘ کہہ سکتے ہیں۔

یہ چیزیں عوام روز دیکھتے ہیں لیکن کیا پنجاب کے آئی جی اور دیگر اعلیٰ حکمران و ذمہ داران تک ایسی باتیں نہیں پہنچتیں ؟ یقیناً پہنچتی ہیں لیکن شاید ان کے نزدیک پانی بوتل کرنا یا سگریٹ لے لینے میں کوئی مضائحقہ نہیں کیونکہ یہ تو عوام کا فرض ہے کہ جس کو ناکے پر روکا جائے وہ کم ازکم صابن سے لے کر واش روم کے لوٹے تک پر ٹیکس ادا کرکے تنخواہ میں حصہ بٹانے کے ساتھ ساتھ  کھانے پینے کی ایسی ہلکی پھلکی چیزوں کا خیال رکھیں۔شاید  رشوت ستانی کے لیے سرگرم اس بازار میں بھی  عمران خان کو ہی میدان میں آنا پڑے گا لیکن اس سے پہلے قوم کو یہ عہد کرنا ہوگا  کہ رشوت لیں گے اور نہ ہی دیں گے ، ایسے اہلکاروں کے سامنے ڈٹ جائیں جو اپنے محکمے کو پانی کی ایک بوتل یا سگریٹ کی ڈبی کے عوض بیچنے سے گریز نہیں کرتے ۔صرف یہی نہیں، قوم سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ پاک فوج کی طرح پولیس کو بھی عزت دیں،ایسے اہلکار معاشرے میں دہشت تو پھیلاسکتے ہیں لیکن دلوں میں جگہ نہیں بناسکتے اور نہ ہی ایسے اہلکاروں کی موجودگی میں کوئی اور یہ وردی پہننے والا۔ ۔۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ