سی پیک اور پاک چین دوستی

سی پیک اور پاک چین دوستی
سی پیک اور پاک چین دوستی

  

پاکستان اور چین کے درمیان دوستی سی پیک جیسے عظیم منصوبوں کے بعد اور بھی گہری ہو گئی ہے۔ پاکستان پر کوئی مشکل آتی ہے تو چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اسی طرح پاکستان بھی چین کی اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے میں کوشاں ہے۔

گزشتہ دِنوں 23اور 24اپریل کو کراچی میں سی پیک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزرائے اعلیٰ،چین کے سفیر اور دیگر سرکاری و نجی شخصیات نے شرکت کی۔

اس سیمینار کا مقصد سی پیک کی تفصیلات کو عوام کے سامنے رکھنا اور اس کے خطے پر اثرات کے حوالے سے روشنی ڈالنا تھا۔ یہ سیمینار یا سمٹ اپنے مقاصد میں کامیاب رہا، کیونکہ اس کی ملکی و غیر ملکی میڈیا میں بہت زیادہ پذیرائی کی گئی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر یاو جنگ نے کہا کہ سی پیک سے پاک چین دوستی مزید مضبوط ہوئی ہے، پاکستان کو خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔

چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک منصوبہ بے مثال ہے، جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی، پاکستان کے ساتھ مضبوط ترین سیاسی تعلقات ہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ سپیشل اکنامک زونز پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے، گوادر پورٹ سمیت بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں، چین سی پیک کو دُنیا کے لئے بھی بہت اہم سمجھتاہے۔ چینی سفیر کے ان خیالات کی وجہ سے پاک چین دوستی میں مزید مضبوطی آئے گی، کیونکہ دونوں ممالک خطے کی ترقی اور استحکام کے لئے مل کر کام کر رہے ہیں۔

چینی سفیر کا یہ بیان انتہائی خوش آئند ہے کہ چین تمام ہمسایہ ممالک سے خوشگوار اور شراکت دارانہ تعلقات چاہتا ہے۔ دراصل ہمسایوں سے بہتر تعلقات کی بدولت ہی کسی بھی خطے میں توازن اور استحکام قائم رکھا جا سکتا ہے۔جن ممالک کی سرحدیں ایک دوسرے سے جڑی ہوں ان کے لئے ایک دوسرے کو سمجھنا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔

ایسے ممالک اگر معاشی اور سماجی سطح پر ایک دوسرے سے تعاون کرنا شروع کر دیں تو دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کے لئے خوش حالی کی نئی راہیں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ اچھا ہمسایہ قدرت کا انعام ہوتا ہے۔

مقام شکر ہے کہ چین جیسا مُلک ہمارا ہمسایہ ہے جو اس وقت پوری دنیا کی معیشت پر چھایا ہوا ہے۔ پاکستان کے لئے یہ خوش بختی کی علامت ہے کہ چین نے سی پیک جیسے منصوبوں کے لئے پاکستان کو منتخب کیا اور پاکستان نے بھی چین کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان اس وقت تجارتی اور معاشی درجنوں منصوبے زیرتکمیل ہیں۔ آئے روز مفاہمت کی یادداشتیں لکھی جا رہی ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی چینی صدر پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ اس سے قبل عالمی کانفرنس میں پاکستان نے چین میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی اور ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سی پیک سے دونوں ملکوں کے عوام کی تقدیریں جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان قربت بڑھتی جا رہی ہے اور فاصلے کم ہو رہے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی معیشت اور معاشرت کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان میں چینی زبان پڑھانے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ لوگ جوق در جوق چینی زبان سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک دوسرے کی زبان سیکھنے سے دونوں ممالک کے درمیان جو روابط ہیں، ان میں مزید آسانیاں پیدا ہوں گی اور دونوں ایک دوسرے کے مزید قریب آجائیں گے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک کی منصوبہ بندی بے مثال ہے اور یہ منصوبہ خطے کے لئے بہترین سنگ میل ثابت ہو گا۔ یہاں ایک اہم بات انہوں نے یہ بتائی کہ سی پیک کے تحت 43 منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ سی پیک صرف ایک منصوبہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے جو 43 منصوبے جڑے ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہیں اور جب یہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائیں گے تو ایک معاشی انقلاب آ جائے گا ،جو لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

چینی سفیر نے یہ بھی کہا کہ وہ علاقائی امن و استحکام اور ترقی میں ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40برسوں سے چین اپنی معیشت کی ترقی اور اسے بڑھانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سی پیک کے فوائد پاکستان، چین کے لئے یکساں ہیں۔چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیگر ممالک کے لئے ایک مثال بنانا چاہتا ہے۔

چینی سفیر کے ان خیالات سے اِس امر کو تقویت ملتی ہے کہ چین پاکستان کے لئے اپنے دل میں کس قدر اہمیت رکھتا ہے اور پاکستان کے ساتھ کس قدر دیر پا اور ٹھوس مراسم رکھنے کا خواہش مند ہے۔

چینی سفیر نے یہ بھی کہا کہ مجھے فخر ہے کہ پانچ سال کے عمل درآمد کے بعد سی پیک پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم سی پیک سے صرف اقتصادی ترقی ہی نہیں،بلکہ معاشرے کی ترقی چاہتے ہیں۔

یہ بات سو آنے سچ ہے کہ اقتصادی ترقی کا اصل فائدہ تب ہوتا ہے جب معاشرے اور اس کے مکینوں کو فائدہ پہنچے۔اگر معاشرے کو ہی کسی اقتصادی ترقی سے فائدہ نہیں ہو گا تو پھر ایسی ترقی کا کیا فائدہ ۔

اس لئے چینی سفیر کا یہ فوکس دکھائی دیتا ہے کہ ترقی ایسی ہونی چاہئے، جس سے عام لوگوں کی زندگی سہل بنائی جا سکے۔ انہیں ایسی تبدیلی محسوس ہو جس کی وہ تمنا کرتے ہوں ، اِس لئے سی پیک کی شکل میں اس تبدیلی کو دونوں ملکوں کے عوام ایک خوش گوار جھونکا قرار دیتے ہیں۔

سی پیک میں موٹر ویز بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ کئی ادارے پاکستان میں موٹر وے پر کام کر رہے ہیں، پاکستان میں بنائے جانے والے موٹر وے منصوبے میں پاکستان کے تمام اداروں نے بہت سہولت فراہم کی ہے۔

ان اداروں نے یہ یقین دلایا ہے کہ ان موٹر ویز پر بنائی جانے والی تمام سڑکیں عالمی معیار کی ہوں گی۔ ایک خوش خبری سیمینار میں یہ سنائی گئی کہ سکھر حیدر آباد موٹر وے کے لئے اظہارِ آمادگی کا خط جاری ہوگیا ہے۔

اس سے سکھر اور حیدرآباد کے درمیان نہ صرف فاصلے سمٹ جائیں گے، بلکہ دونوں شہروں میں ترقی کا ایک انقلاب بھی آ جائے گا۔ سی پیک سے پاکستان کی معیشت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ یہ بہت ہی خوش آئند امر ہے کہ سی پیک کے راستے میں آنے والے مسائل کا حل دوستانہ ماحول میں کیا جا رہا ہے۔ سی پیک کا مسودہ عالمی معیار کے مطابق ہے۔پاک چین کے درمیان تجارت کے فروغ پر فوکس کیا جا رہا ہے۔

سی پیک منصوبے سے صنعتوں اور زراعت کو بھی فروغ ملے گا، جبکہ سپیشل اکنامک زون کے قیام سے ترقی کے عمل کی رفتار مزید بڑھے گی۔چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ یہ منصوبہ گیم چینجر ہے، اس کے تحت پاکستان میں انفرا اسٹرکچر میں بہتری لائی جا رہی ہے۔

دونوں ممالک کے عوام کے لئے سی پیک خوش حالی کی نوید لا رہا ہے۔ یہ بھی خوش کن امر ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ دوطرفہ امور کو باہمی رضامندی اور خوش اسلوبی سے بروقت نمٹا رہی ہیں، جس کی وجہ سے سی پیک جیسا بڑا اور عظیم منصوبہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔

مزید :

رائے -کالم -