مانگ لو جو مانگنا ہے،جس رات اللہ آسمان دنیا پر جلوہ فرما ہوں گے

30 اپریل 2018 (15:02)

پروفیسر یونس مسعود 

 پندرہویں شعبان کی رات "شبِ برات" کہلاتی ہے۔ اس مبارک رات کو اللہ تعالیٰ اپنے گنہگار بندوں کو گناہوں سے "بری" (پاک و صاف) فرماتا ہے اور بخشش و مغفرت طلب کرنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ اس رات کو رحمت اور برکت کی رات بھی کہا جاتا ہے۔
اس مبارک رات میں اللہ رب العزت سالانہ فیصلوں کی تجدید فرماتا ہے۔ سورہ دخان کی چوتھی آیت میں فرمایا” اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔“
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا”بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمانِ دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے“(قبیلہ بنو کلب کے پاس سب سے زیادہ بکریاں ہوا کرتی تھیں، اس لئے اس حدیث پاک میں ان کی مثال بیان کی گئی ہے)
اس حدیث کو ابنِ ماجہ، ترمذی، مسند احمد بن حنبل،   شعب الایمان (بیہقی) اور دیگر کتب میں روایت کیا گیا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ماہِ شعبان کی نصف شب (پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس وہ مشرک اور بغض رکھنے والے کے سوا اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے۔“
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اللہ رب العزت شعبان کی پندرہویں رات کو اپنے بندوں پر مطلع ہوتا ہے، پس وہ مومنوں کی مغفرت فرماتا ہے اور کافروں کو مہلت دیتا ہے اور وہ اہل حسد کو ان کے حسد میں چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ترک کر دیں۔“
شبِ برات کی آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے معافی مانگنے کے پیغامات کا ایک طویل سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ عام طور پر اس شخص کو یہ میسج بھیجے جاتے ہیں جس کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ ہم نے اس کے ساتھ کوئی زیادتی یا اس کا کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں کیا، حالانکہ بہتر یہی ہے کہ ہم نے جان بوجھ کر یا انجانے میں جس پر زیادتی کی ہو خود جاکر اس سے معافی مانگیں ، جس سے تعلق اچھا ہو اسے اس طرح کے پیغامات بھیج کر اپنی نیک نامی ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مبارک رات میں ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔

مزیدخبریں