جلسہ مینار پاکستان ، پرانا پاور شو

30 اپریل 2018 (16:05)

عائشہ نور

 عام انتخابات کی تیاریاں  سیاسی جماعتیں بھرپور انداز میں کر رہی ہیں ۔ ہمارے ملک میں قبل از عام انتخابات سیاسی جوڑ توڑ کوئی نئی  بات نہیں ہے , تمام روایتی سیاسی جماعتیں ہرمرتبہ اس دوڑ میں شامل ہوتی ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ روایتی اندازِ سیاست میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے بھی اس کا حصہ بنتے جارہے ہیں , یہ روایتی طرزِ سیاست انہیں غیر محسوس طریقے سے اپنے اندر جذب کر رہا ہے ۔ جن نظریات کی بنیاد پر عمران خان نے اپنی سیاست کی بنیاد رکھی اور عوام میں مقبولیت حاصل کی , انہیں نظرانداز کیا جانے لگا ہے ۔ جس بدعنوان سیاسی مافیا کے خلاف عمران خان نے اعلان جنگ کیا , وہ انہی لوگوں کو اپنی جماعت میں اکٹھا کر رہے ہیں ۔ تو پوچھنا یہ تھا کہ کیا یہ نظریاتی سیاست سےانحراف  نہیں ؟؟؟ آنے والے عام انتخابات میں عمران خان کی جماعت کن لوگوں کو انتخابی میدان میں اتارے گی ؟؟؟ نظریاتی ساتھیوں کو یا پھر انہی برساتی مینڈکوں کو , جو ہر مرتبہ عام انتخابات سے قبل اپنی سیاسی وفاداریاں بدل لیتے ہیں ؟؟؟ اگر نظریاتی سیاست سے انحراف کرکے تحریک انصاف انہی پرانے چہروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کرتی ہے جو پچھلے عام  انتخابات میں ن لیگ یا پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ کر پارلیمان میں پہنچے تھے تو وہ لوگ پھر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر دوبارہ اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے ۔ کیا یہ ہی وہ تبدیلی ہے جس کےلیے تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن ایک طویل عرصے سے جدوجہد کر رہے ہیں ؟؟؟  کھیل کا مزہ تو تب تھا جب کپتان نئے کھلاڑیوں  کے ساتھ میدان میں اترتے ۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے عمران خان نے جن چلے ہوئے کارتوسوں کو پھر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے , وہ تحریک انصاف کی نظریاتی سیاست اور نظریاتی کارکنوں کو قصۂ پارینہ بنا دیں گے ۔ اگر نظریاتی سیاست کی بات کی جائے تو اگرچہ سیاسی وفاداری تبدیل کرنا کوئی جرم نہیں مگر اخلاقی طور پر غلط اور مضحکہ خیز ہے کہ ایک فرد کل تک جس جماعت سے نظریاتی وابستگی کا دم بھرتا رہا ہو , وہ اگلے دن سیاسی جماعت بدل کر انہی نظریات کی نفی کردے - یہ اصولاً غلط بات ہے کہ ہوا کا رخ دیکھ کر ذاتی مفادات کی خاطر انسان بدل جائے ۔ ایسی موقع پرست بیساکھیوں کے سہارے نظام نہیں بدل سکتا ۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

نظریاتی سیاست کرنے کا دعویٰ کرنا آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے ۔ تحریک انصاف کو موقع پرستوں کی یلغار کا سامنا ہے جو کہ روایتی طرز سیاست کے عادی ہیں ۔ ایسے لگتا ہے کہ عمران خان کو برسراقتدار آنے کی عجلت ہے ۔ تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قائد اپنی جماعت کی منشاء کے برخلاف کوئی اقدام نہیں کرسکتا ورنہ سیاسی جماعت انتشار کا شکار ہو جاتی ہے ۔ تمام فیصلے کثرتِ رائے سے کرنا ضروری ہوتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے  کہ کیا پرانے سیاست دان تحریک انصاف پر غلبہ پانے کے بعد کیا جماعت  کی نظریاتی بنیادوں پر اثرانداز نہیں ہوں گے ؟؟؟ ضرور ہوں گے ۔ عمران خان کو چاہیے تھا کہ نوجوان قیادت کو ابھرنے کا موقع دیتے مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ جماعتی عہدوں سے لے کر ٹکٹوں کی تقسیم تک ہر مرحلے پر منجھے ہوئے سیاست دان بازی لے جائیں گے ۔ ایسی صورتحال کیا  تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوں  کےلیے قابلِ قبول ہوگی ؟؟؟ میں  نہیں سمجھتی کہ تحریک انصاف ملکی سیاست میں کوئی انقلابی تبدیلی لا سکے گی ۔ عمران خان نوجوانوں کےذریعے تبدیلی لانے والے تھے تو اچانک ایسا کیا ہوا کہ سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں کی ضرورت آن پڑی ؟؟؟ کیا  یہ عمران خان اور ان کی نظریاتی سیاست کی شکست نہیں ؟؟؟ کیا یہ تبدیلی کے لیے طویل عرصہ جدوجہد کرنے والے نظریاتی کارکنوں کی شکست نہیں ؟؟؟ سچ تو یہ ہے کہ تحریک انصاف پاکستان کی روایتی انتخابی سیاست کے رنگ میں خود کو رنگ چکی ہے ۔  جوڑ توڑ کا روایتی انتخابی طرزِ سیاست ایک غیر روایتی اور تبدیلی کی علمبردار جماعت اپنا چکی ہے ۔ اگر پارٹی ٹکٹ عمران خان کے بقول الیکٹ ایبلزکو دینے ہیں جوانتخاب لڑنے کی سائنس جانتےہیں تو پوچھنا یہ تھا کہ  تبدیلی کہاں ہے ؟؟؟  تحریک انصاف

کا جلسہ مینار پاکستان بھی میدانِ سیاست کے پرانے کھلاڑیوں کا ہی پاورشوہے۔

مزیدخبریں