ملتان میں میلہ

ملتان میں میلہ
ملتان میں میلہ

  

چند ماہ پہلے معروف کالم نگار اور ملتان آرٹس کونسل کے سربراہ سجاد جہانیہ نے ملتان آرٹس کونسل کے زیر اہتمام میرے ساتھ شام کا اہتمام کیا تو یہ بات میرے ذہن میں موجود تھی کہ ملتان آرٹس کونسل کی بلڈنگ تو بہت خوبصورت ہے مگر شاید یہ چمگادڑوں کیلئے بنائی گئی ہے۔ سو یہاں چمگادڑوں کے غول کے غول ایک دوسرے پر جھپٹتے نظر آتے ہیں۔

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فن کار تو بلڈنگ سے ایک میل دور کھڑے ہوکے ”پرنام“ کرکے واپس چلے جاتے ہیں، سجاد جہانیہ کے آنے سے پہلے اس بلڈنگ کے حوالے سے یہی کہا جاتا تھا…… سجاد جہانیہ بنیادی طور پر شعبہ تعلقات عامہ کے آدمی ہیں۔ ان لوگوں کا کام حکومت کا چہرہ نکھارنا اور سنوارنا ہوتا ہے۔ فن اور فنکار کے ساتھ ان کا نہ کوئی رابطہ اور نہ کوئی واسطہ ہوتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق حکومت کے دور میں انہوں نے پنجاب حکومت کے حوالے سے ایک تنقیدی کالم لکھ دیا …… بس پھر کیا تھا، اس وقت کے وزیراعلیٰ نے ان کی اس جرأ ت پر انہیں ملتان بھیج دیا اور پھر سزا کے طور پر ملتان آرٹس کونسل میں لگا دیا۔

میں اپنے ساتھ منائی جانے والی شام میں بہت سے خدشات لئے پہنچ گیا اور احتیاطاً سر پر ٹوپی پہن لی …… کہ کم از کم سر تو چمگادڑوں کے حملے سے محفوظ رہے، مگر حیرت انگیز طور پر ملتان آرٹس کونسل کی بلڈنگ اور ہال کا منظر بالکل مختلف نظر آیا۔ ہال کے اندر مرد و خواتین کی تعداد نشستوں سے دگنی تھی۔ ہال کی سیڑہیوں میں بھی مرد و خواتین اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھے نظر آئے۔ ملتان جیسے شہر میں لوگوں کا فیملی کے ساتھ ہال میں موجود ہونا اور رات گئے تک موجود ہونا، بدلے ہوئے حالات کا منظر پیش کر رہا تھا اور یوں لوگ جس انداز میں ملتان آرٹس کونسل کے پروگراموں اور تقریبات کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے اس سے اندازہ ہوا کہ سجاد جہانیہ نے یہاں کا ماحول بدل دیا ہے۔ فن اور فنکار کے ساتھ انہوں نے اپنا رشتہ جوڑ لیا ہے اور فن کار ہی نہیں ملتان کے عوام بھی ان کی خدمات کے معترف ہیں۔

اب گزشتہ روز ملتان آرٹس کونسل نے مجھے ”وائس آف ساؤتھ پنجاب“ کے فائنل کے لئے بطور جج بلایا تو میَں پورے اعتماد کے ساتھ گیا کہ میں ایک ایسی تقریب میں جارہا ہوں جو ایک کمال کی تقریب ہوگی۔ ”وائس آف ساؤتھ پنجاب“ کے حوالے سے بتانا ضروری ہے کہ حکومت پنجاب نے جب وزیر اطلاعات فیض الحسن چوہان تھے تو پورے پنجاب میں ”وائس آف پنجاب“ کے نام سے شوقیہ گلوکاروں کے درمیان مقابلے کا اعلان کیا اور کہا گیا کہ موسیقی کے ان مقابلوں کے ذریعے پنجاب میں کلچرل تبدیلی آئے گی۔ سو پنجاب کی تمام آرٹس کونسلوں نے اس حوالے سے ”ٹیلنٹ تلاش“ کر نا شروع کردیا۔ اس حوالے سے کام ہو رہا تھا کہ اچانک وزیر کی تبدیلی سے اس پروگرام کو بند کردیا گیا، مگر ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان، ساہیوال آرٹس کونسلوں نے اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے ”وائس آف ساؤتھ پنجاب“ کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایڈیشل ڈائریکٹر جنرل ثمن را ئے نے بھی ان کی مدد کی اور یہ کام آگے بڑھتا رہا …… اور یوں وائس آف ساؤتھ پنجاب کا میلہ ملتان آرٹس کونسل کے ہال میں سجایا گیا …… ایک شاندار پروگرام تھا جس میں ثمن رائے باقی تمام افراد کے ساتھ ہال میں موجود رہیں اور اس موقع پر سجاد جہانیہ اور دیگر ڈائریکٹرز کو بھرپور شاباش دی …… اور پھر ”وائس آف ساؤتھ پنجاب“ میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن لینے والوں کو نقد انعام بھی دیا …… انعام حاصل کرنے والے ان نوجوانوں کے چہروں پر جو مسرت مجھے نظر آئی، اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا …… اور ساتھ ہی میں نے محسوس کیا، حکومت اگر سنجیدگی کے ساتھ ”کلچر پالیسی“ پر عمل کرے تو وہ نوجوان جو آج اپنے ہاتھوں میں بندوق اٹھائے نظر آتے ہیں،یہ ہاتھ اور ذہن مثبت سرگرمیوں میں لائے جاسکتے ہیں اور ان کے پاس ٹیلنٹ موجود ہے جس سے معاشرے میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ مگر افسوس کہ حکومت ایسے مواقع پیدا کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آتی۔ حالانکہ اس طرف توجہ دینے سے خود حکومت کو فائدہ ہوگا اور دنیا بھر میں پاکستان کا کلچرل چہرہ نمایاں ہوگا …… مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آرٹس کونسلوں کے ذمہ داران بھی اپنے اپنے وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے کچھ کرنے کیلئے آمادہ نظر نہیں آتے۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ سارے ”نکمے“ ہیں۔ مثال کے طور پر سجاد جہانیہ نے ملتان آرٹس کونسل کو بہت فعال کر دیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر وہاں کوئی نہ کوئی ثقافتی تقریب ہوتی نظر آتی ہے۔

ملتان کے لوگ بھی روزانہ وہاں جاتے ہیں اور یوں ان کی ہر شام چند گھنٹوں کیلئے ہی سہی مسرت بھری ہو جاتی ہے، اسی طرح لاہور کے پلاک کو ہی دیکھ لیجئے۔ کوئی ایسا دن نہیں جب وہاں کوئی تقریب نہ ہو …… ڈاکٹر صغرا صدف نے جب سے پلاک کی ذمہ داریوں کو قبول کیا ہے پلاک کا ماحول بدل گیا ہے۔

وہاں لوگ بہت خوشی سے آتے ہیں اور اپنے پسندیدہ فن کاروں کے فن سے محظوظ ہوتے ہیں اسی طرح فیصل آباد آرٹس کونسل میں جب سے صوفیہ بیدار نے چارج سنبھالا ہے وہاں بھی روزانہ تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سجاد جہانیہ، ڈاکٹر صغراء صدف اور صوفیہ بیدار کی طرح دوسرے لوگوں کا کام نظر کیوں نہیں آتا۔

میرے خیال میں حکومت پنجاب کو چاہئے کہ وہ دیگر آرٹس کونسلوں کے ذمہ داران کو بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کرے اور انہیں متحرک کرے، یہ لوگ بھی اپنے ماہانہ شیڈول کو بہتر بنائیں اور اپنے پروگراموں کو عوامی دلچسپی کے مطابق ترتیب دیں اور پھر ان پروگراموں کے حوالے سے لوگوں کو آگاہ بھی کریں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ آج آرٹس کونسل میں کیا چل رہا ہے۔

موسیقی، شاعری، ڈرامہ، نمائش اور پھر یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ لاہور میں ملتان اور ملتان میں لاہور کے فن کاروں کو بلایا جائے اور ظاہر ہے کہ اس کیلئے حکومت کو بجٹ بھی دینا چاہئے، مگر ساتھ ساتھ ان اداروں کے سربراہوں کو اپنے ’وسائل‘ بھی استعمال کرنے چاہئیں۔

جیسا کہ ملتان آرٹس کونسل، فیصل آباد اور پلاک میں پروگرام ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بجٹ کی تنگی تو ان کو بھی ہوگی، مگر یہ لوگ پھر بھی اپنے اپنے اداروں کو ”چمگادڑوں“ کی رہائش گاہ بننے سے روکے ہوئے ہیں اور کسی نہ کسی طرح اپنے اپنے اداروں کو متحرک کئے ہوئے ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات کو چاہئے کہ ان اداروں کے سربراہوں کی تجاویز کے مطابق تمام ثقافتی اداروں کو فعال کریں اور ظاہر ہے اس کیلئے انہیں وافر نہ سہی ضرورت کے مطابق فنڈ بھی دینا چاہئیں اور پھر یہ بات بھی ان کے علم میں ہونی چاہئے کہ ان اداروں کے فعال ہونے سے آرٹسٹوں کو بھی فائدہ ہو گااور ہزاروں لوگوں کا کاروبار چل نکلے گا …… مزید یہ کہ ملک کی ”کلچرل پالیسی“ بھی فروغ پائے گی …… اور عوامی سطح پر ایک مثبت تبدیلی بھی دیکھنے کیلئے ملے گی۔ جیسی ملتان آرٹس کونسل میں دکھائی دیتی ہے۔ پلاک میں نظر آتی ہے۔ فیصل آباد میں ہم دیکھتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -