مادرِ وطن اور اسلام

مادرِ وطن اور اسلام

  

میرا ملک پہلے ہی تاریخی بحرانوں نسلی لحجوں کی تقسیم در تقسیم فِیڈریشن کی کمزوری اور رَٹ آف سٹیٹ کی ضعف جیسی بیماریوں میں مبتلا ہے۔ میری دھرتی ماں کی کروڑوں بیٹیاں ہاتھ پیلے ہونے کی منتظر ہیں۔ معاشرہ خانہ جنگی کی طرف دوڑ رہا ہے۔ غربت کے جزیرے مزید گہرے او ر سرمایہ داروں کی فصلیں مزیداونچی ہو رہی ہے۔ معاشرہ سوشل میڈیا کے ہاتھوں نت نئی اور جھوٹی کردار کشیوں سے اپنے تاثرات بدل رہا ہے۔ گوشت پوست اور مٹی سے بنے انسان نما جانداروں کو اپنا خیر خواہ اور مستقبل کی معاشرتی دوا سمجھے ہوئے ہے۔

اس پاک سر زمین میں دو ہی چیزیں سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔ ایک میرا مادرِ وطن اور دوسرا اسلام۔ کیونکہ اس وطن کے نام پر 71 سالوں سے لوگ اپنا الّو سیدھا کرتے آ رہے ہیں۔ اور نہ جانے ہمارا معاشرہ کب تلک اِن میٹھی گولیوں سے اپنے جسم اور روح کو تسکین دیتے رہے گے؟ ہر دور میں نئے عہد لئے مدینے کی ریاست بنانے کے خواب دکھاتے ہوئے ایسے چہرے آ جاتے ہیں جن کا اپنا ماضی کبھی ایسی چیزوں کی تکمیل کرتا نظر نہیں آتا۔

آپ سب نے دیکھا کہ کچھ عرصہ پہلے صرف چند وعدوں کو دیکھتے ہوئے قوم نے ایسے چہروں کا انتخاب کیا کہ جو کہ آ کر اُن کا اور بچوں کا مستقبل بنا سکے اور اُن کے بچوں کے خوابوں کو پورا کرسکے جو بھی انہوں نے دھرتی ماں سے لگائے ہوئے ہیں۔ سب نے دیکھا کیسے لوگ ڈھول کی تھاپ کی پر آپے سے باہر نظر آئے خوشی سے منہ میٹھا کرواتے نظر آئے۔ خدا کرے اب ان میٹھی گولیوں میں شفا ہوں تاکہ ہر کوئی اس سے صحت یاب ہوسکے ورنہ پھر کوئی دوا کام نہ آسکے گی۔ اس کے لئے صرف مدینہ کی ریاست کا سوچناہی کافی نہیں ہوگا بلکہ Non issues سے ہٹ کر عوام کے Real issues پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام مہنگائی بے روزگاری سے تنگ آئی ہوئی ہے۔ بچوں کی فیس دینے کیلئے قرض اُٹھانا پر رہا ہے۔ ان سب چیزوں پر کام کیا جائے گا تو کچھ 5 سالوں کے بعد تبدیلی کی لہر نظر آئے گی۔

میری دُعا ہے کہ ملک و قوم کی خدمت کے حوالے سے کپتان کے خواب پورے ہوں اور ہمیں کرپشن، لا قانونیت، لوٹ مار، غربت بے روزگاری، وی آئی پی کلچر معاشی بدحالی سے کسی حد تک نجات مل جائے۔ اس لیڈر شپ کے ساتھ ملکِ پاکستان امن والی جگہ بن جائے دوسرے ملک کے لوگ یہاں آنا پسند کرے خدا کرے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے فہرست میں سب سے اُوپر آئے تاکہ ہمارا ہمسایہ ملک کبھی ہمیں میلی نظر سے نہ دیکھ سکے اور میں اور آپ سب یہاں پر عزت سے زندگی گزار سکے۔ آمین

مزید :

رائے -کالم -