ماں کا دودھ پینے والے اور فارمولا ملک پینے والے بچوں کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے؟ تازہ تحقیق جان کر ہر ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے

ماں کا دودھ پینے والے اور فارمولا ملک پینے والے بچوں کے درمیان کیا فرق ہوتا ...
ماں کا دودھ پینے والے اور فارمولا ملک پینے والے بچوں کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے؟ تازہ تحقیق جان کر ہر ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے

  

لزبن(مانیٹرنگ ڈیسک) دور جدید میں ایک یہ بھی رواج عام ہو چکا ہے کہ اکثر مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلانے کی بجائے ڈبے کے دودھ (Formula Milk)پر پالنے لگی ہیں، تاہم اب سائنسدانوں نے ماں کے دودھ اور ڈبے کے دودھ پر پلنے والے بچوں میں ایک ایسا فرق بتا دیا ہے کہ جان کر کوئی ماں اپنے بچے کو ڈبے کا دودھ نہیں پلائے گی۔ میل آن لائن کے مطابق پرتگال کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں بتایا ہے کہ جو بچے فارمولا دودھ پر پلتے ہیں ان کے موٹاپے میں مبتلا ہونے کے امکانات ماں کے دودھ پر پلنے والے بچوں کی نسبت 25فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 6سے 9سال کی عمر کے 1لاکھ بچوں پر تجربات کیے۔ یہ بچے جس دودھ پر پلے تھے سائنسدانوں نے اس کا ان کے موٹاپے کی شرح کے ساتھ موازنہ کیا اور نتائج مرتب کیے۔ فارمولا دودھ پر پلنے والے بچوں میں موٹاپے کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے سائنسدانوں نے بتایا کہ ”فارمولا دودھ ’گائے کے دودھ‘ سے تیار کیا جاتا ہے جس میں پروٹین کا لیول بہت زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بچوں میں چکنائی کے خلیے (Fat cells)تیزی کے ساتھ نشوونما پاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچہ موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر جواﺅ بریڈا کا کہنا تھا کہ ”جو مائیں اپنے بچے کو کم از کم 6ماہ تک اپنا دودھ پلاتی ہیں اور ساتھ ڈبے کا دودھ بھی پلاتی رہتی ہیں، ان بچوں کے موٹاپے کا شکار ہونے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ اس خطرے سے سب سے زیادہ وہ بچے دوچار ہوتے ہیں جنہیں مائیں اپنا دودھ بالکل بھی نہیں پلاتیں اور صرف فارمولا دودھ پر پالتی ہیں۔ہمیں ماﺅں کو اس حوالے سے آگہی دینے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ وہ بچوں کو اپنا دودھ پلا کر انہیں اس بڑے خطرے سے بچا سکیں۔“

مزید : تعلیم و صحت