”یوم اقبال“ کی خصوصی آن لائن تقریب

”یوم اقبال“ کی خصوصی آن لائن تقریب

  

اس وقت پوری دنیا کرونا وبا کی لپیٹ میں ہے‘ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پاکستان میں بھی گزشتہ ایک ماہ سے لاک ڈاؤن جاری ہے۔ حکومت نے ہر طرح کے اجتماعات پر پابندی لگا رکھی ہے‘ ایسے میں نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے بھی ایوان کارکنان تحریک پاکستان اور ایوان قائداعظمؒ میں ہونیوالی اپنی تمام سرگرمیاں اور تقریبات منسوخ کر رکھی ہیں۔ چنانچہ 21اپریل کو ”یوم اقبالؒ“ کی خصوصی آن لائن تقریب کا انعقاد کیا گیا اور جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے فیس بک پیج اور یو ٹیوب چینل پر اس تقریب کی کارروائی دکھائی گئی۔تقریب کے دوران ملک کی مقتدر شخصیات نے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔ ذیل میں اس کارروائی کی رپورٹ قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔

”علامہ محمد اقبالؒ مسلمانان برصغیر کے عظیم محسن ہیں، انہوں نے نامساعد حالات میں بھی مسلمان قوم کو امید، خودی اور جہد مسلسل کا درس دیا اور اسی پر چل کر مسلمانان برصغیر نے اپنے لئے علیحدہ ملک حاصل کر لیا۔ کلام اقبالؒ آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے اور موجودہ نامساعد حالات میں بھی ہمیں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کو غیر اسلامی نظریات سے مرعوب نہ ہونے اور اپنے دین‘ ثقافت اور اقدار سے گہری وابستگی کے ذریعے نشأۃ ثانیہ کی راہ دکھائی۔پاکستانی نوجوانوں کو فکرِ اقبالؒ سے روشناس کرایا جائے جس کی بنیاد قرآنی تعلیمات اور اسوہئ حسنہ پر ہے۔ نئی نسل کلام اقبالؒ کا نہ صرف مطالعہ کرے بلکہ اسے صحیح معنوں میں سمجھنے کی بھی کوشش کرے۔ موجودہ حالات سے نبردآزما ہونے کے ضمن میں افکارِ اقبالؒ ہماری موثر رہنمائی کرتے ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ نے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کی“۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے شاعر مشرق، حکیم الامت، مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے یوم وفات کے موقع پر منعقدہ ”یوم اقبالؒ“ کی خصوصی آن لائن تقریب کے دوران کیا۔ اس تقریب کی کارروائی نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے فیس بک پیج اور یو ٹیوب چینل پر دکھائی گئی۔ تقریب کاباقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک‘ نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔حافظ محمد عمر اشرف نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہِ رسالت مآبؐ میں نذرانہئ عقیدت پیش کیا۔ معروف نعت خواں حافظ مرغوب احمد ہمدانی، سرور حسین نقشبندی اور سید محمد کلیم نے خوبصورت انداز میں کلام اقبالؒ پیش کیا۔ آن لائن تقریب کی نظامت کے فرائض نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دیے۔

تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا مجھے بے حد خوشی ہے کہ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے 82 ویں یوم وفات پر منعقدہ اس آن لائن تقریب میں مقتدر شخصیات نے حکیم الامت کی حیات وخدمات پر اظہار خیال کیا اور مسلمانان ہند میں جذبہئ حریت بیدار کرنے کے حوالے سے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر میں نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتاہوں کہ انہوں نے کرونا وباء کے باعث لاک ڈاؤن کی صورتحال کے باوجود جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے یوم اقبالؒ منانے کی احسن روایت کو جاری رکھا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے ہمیں زندگی میں جہد مسلسل اور مشکلات کے مقابلے میں عزم و استقامت کا درس دیا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں فکر اقبالؒ سے رہنمائی حاصل کریں اور بارگاہ رب العزت میں توبہ و استغفار کرتے ہوئے اعمال صالحہ اختیار کریں۔ نسل نو کی نظریاتی تعلیم و تربیت نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کافرض اولین ہے۔ یہ قومی نظریاتی ادارہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے نوجوانوں میں علامہ محمد اقبالؒ کے شاہین کی صفات پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں حکیم الامت کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

سابق جج سپریم کورٹ آف پاکستان اور وائس چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس فکر اقبالؒ کی صورت میں بہت بڑی دولت موجود ہے۔ علامہ اقبالؒ ہمارے قومی شاعر ہیں اور انہوں نے قومی یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کا درس دیا۔ علامہ محمد اقبالؒکے کلام کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں، ان کے افکار و خیالات سے نسل نو کو آگاہ کرنیکی ضرورت ہے۔

وائس چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ میاں فاروق الطاف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ علامہ محمد اقبالؒ مفکر پاکستان ہیں اور یہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے قائداعظمؒ کو قائل کیا کہ وہ وطن واپس آ کر مسلمانان برصغیر کی رہنمائی فرمائیں۔ علامہ محمد اقبالؒ نے مسلمانان برصغیر کے قلوب واذہان میں حریت کا جذبہ بیدار کیا اور انہیں انکے شاندار ماضی سے آگاہ کیا۔ کلام اقبالؒ نے مسلمانوں کے اندر ایک نئی روح پھونک دی اور وہ بھرپور جوش و ولولہ کے ساتھ آزادی کی تحریک میں شامل ہو گئے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم کلام اقبال کو وہی اہمیت دیں گے جو قیام پاکستان سے قبل دے رکھی تھی۔ یہ کلام آپ بھی ہمارے اندر نیا جوش اور ولولہ پیدا کرتا ہے جو آزادی کی حفاظت اوراسے برقرار رکھنے کیلئے جذبہ،تڑپ اور امنگ پیدا کرتا ہے۔ ہم کشمیریوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، امید ہے کہ انہیں جلد آزادی کی نعمت ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح کی آفات وبلیات سے محفوظ رکھے۔ آمین

علامہ محمد اقبالؒ کی بہو جسٹس(ر) ناصرہ جاوید اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وبا کے ان دنوں میں ہمیں اپنے گھروں میں رہنا اور مطالعہ کی عادت کو اپنانا چاہئے۔ آپ کلام اقبال کا مطالعہ اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ علامہ محمد اقبالؒ قناعت پسند انسان تھے۔ انہوں نے ساری عمر کوئی گھر نہ بنایا اور جاوید منزل میں کرایہ پر رہتے تھے۔ آپ کے انتقال کے وقت آپ پر کوئی قرض نہیں تھا۔ دو بچے جاوید اور منیرہ تھے۔ کوئی جائیداد نہیں تھی۔

چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان مجیب الرحمن شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ہم یوم اقبالؒ انتہائی غیر معمولی حالات میں منا رہے ہیں، پوری دنیا کرونا وبا کی زد میں ہے اور انسان کا انسان سے رابطہ مشکل ہو گیا ہے، ایسے میں احتیاط ضروری ہے۔کرونا وائرس نے دنیا کا منظر بدل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کے کلام اور انکے افکار کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگا لیں کہ ایک بار قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ اگر مجھے ایک مملکت کی سربراہی یا کلام اقبالؒ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو میں کلام اقبالؒ کو ترجیح دوں گا۔اس سے آپ بانی پاکستان کے نزدیک کلام اقبالؒ کی اہمیت کا اندازہ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں خلوت نصیب ہے اور سرگرمیاں، مصروفیات اور مشاغل سے نجات ملی ہوئی ہے۔ کرونا وائرس نے ہمیں گھروں تک محدود کر دیا ہے تو ہمیں کلام اقبالؒ پر غور کرنے کا موقع میسر آیا ہے، ہم کلام اقبالؒ کو پڑھیں سمجھیں اور عہد کریں کہ ہم کی گئی غلطیوں کا ازالہ کریں گے۔علامہ اقبالؒ نے کہا تھا ”جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود، کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا“۔ ہمیں نئے جہان پیدا کرنے کیلئے تحقیق، تخلیق و جستجو کی عادت کو اپنانا چاہئے۔

چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ مفکر پاکستان تھے۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کا تصور دیا بلکہ اپنے کلام، اپنی تقاریر اور اپنے پیغامات میں بڑے واضح طور پر بتایا کہ پاکستان کی ریاست اور یہاں کا نظام کیسا ہونا چاہئے اور سب سے بڑھ کر ایک فرد اور ایک شہری کی کیا ذمہ داری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اقبالیات پر بہت کام ہو چکا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کام کو سامنے رکھ کر ایک گائیڈ بک مرتب کی جائے کہ مسلمان مملکت کیسی ہونی چاہئے اور اس کے عمال یعنی ورکرز اور سرکاری ملازم کو کیسا ہونا چاہئے، ایک فرد یا شہری کو کیسا ہونا چاہئے۔ علامہ محمداقبالؒ نے اپنے کلام، پیغامات اور تقاریر میں مملکت اور ایک شہری کا واضح تصور دیا اور اگر ہم اس تصور کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیں تو قیام پاکستان کا اصل مقصد پورا ہو جائیگا۔

گروپ ایڈیٹر روزنامہ نئی بات پروفیسر عطاء الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کے سب سے بڑے مسلمان شاعر، بلند مرتبہ فلسفی، اعلیٰ پایہ کے سیاستدان اور اپنے وقت کے ایسے بڑے وژنری تھے کہ دور حاضر کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا۔ان کی شخصیت کی کئی جہتیں تھیں اور ہر جہت درجہئ کمال تک پہنچی ہوئی تھی۔ان کی شاعری نے مسلمانان برصغیر میں نیا جوش و ولولہ پیدا کر دیا۔کلام اقبالؒ آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔

علامہ اقبالؒ کے پوتے سینیٹر ولید اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا اس وقت کرونا کی وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہمیں کلام اقبالؒ کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے۔ علامہ اقبالؒ ایک بار جب لندن گئے تو میرے والد یعنی ان کے بیٹے جاوید نے ان سے گراموفون لانے کی فرمائش کی تو اس کے جواب میں علامہ اقبالؒ نے ایک نظم ”جاوید کے نام“ لکھ کر بھیجی جس کے چند اشعار تھے ”دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر، نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر، خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو، سکوت لالہ وگل سے کلام پیدا کر“ ان اشعار کے پس منظر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ وباء جو تیزی سے پھیل رہی ہے ایسے میں گھروں میں رہنے کی ہدایت کی جا رہی ہے، تو اقبالؒ جے جو فطرت شناسی کا پیغام دیا تو یہی وہ وقت ہے کہ ہم اسے پہچانیں۔شاہین کا ذکر علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے کلام میں جا بجا کیا ہے، شاہین کی صفات میں بھی ایک صفت اس کا تنہائی پسند ہونا ہے۔تنہائی میں آپ تخلیق کر سکتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ تخلیق کو بہت ضروری خیال کرتے تھے۔ علامہ اقبالؒ کے جذبہئ عشق اور تصور خودی کو فروغ دیں۔

معروف ادیبہ و شاعرہ بیگم بشریٰ رحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کا کلام ایک صدی یا زمانے کیلئے نہیں بلکہ آنیوالی تمام صدیوں پر محیط ہے۔ان کا کلام آداب زندگی، آداب بندگی، آداب انسانیت، آدمیت کی معراج، فلسفہئ عشق، فلسفہئ خودی، رزق حلال کی لذت، کردار و تربیت سازی، نئی نسلوں کی تعمیر، نئے ملکوں کی تعمیر اور آداب شاہی غرضیکہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں اقبالؒ نے نہیں لکھا ہے۔ اگر ایک ماورائے خواب کی تعبیر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ایک ملک عطا کر سکتے ہیں تو ملک وملت کی تعمیر کا خواب بھی پورا ہو سکتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اُس وقت ہی کہہ دیا تھا ”مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ“۔ انہوں نے کہا کہ تعصب کو چھوڑ کر کلام اقبالؒ کے ابلاغ کی جتنی ضرورت آج تھی پہلے کبھی نہ تھی۔ کلام اقبالؒ کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے۔

خانوادہئ حضرت سلطان باہوؒ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ نے نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دی ہے، شاہین عقل اور طاقت کی نشانی ہے اور وہ بیابان میں خلوت میں رہتا ہے۔علامہ اقبالؒ نے بلبل کی نفی اور شاہین کی تائید کی ہے کیونکہ بلبل چمن میں جبکہ شاہین خلوت میں رہتا ہے۔ ہمیں خلوت کی ضرورت رہتی ہے، صوفی بھی اسی کو اختیار کرتا ہے اور ایک سالک کی تربیت خلوت میں ہی ہوتی ہے۔ خلوت میں سوچ و بچار کو اپنانا چاہئے اور وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے فائدہ مند بنایا جائے۔

ممتاز سیاسی وسماجی رہنما بیگم مہناز رفیع نے خطاب کرتے ہوئے کہا علامہ محمد اقبالؒ محسن پاکستان ہیں۔ علامہ اقبال صرف شاعر نہیں بلکہ بلند سوچ رکھنے والے انسان تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ مسلمانوں نے اس خطہ پر ایک ہزار سال تک حکمرانی کی اور اب نہیں ہے تو ایسا کیوں ہو؟ اسے دوبارہ حکمرانی حاصل کرنی چاہئے۔ انہوں نے خودی، جہد مسلسل اور اتحاد کا درس دیا۔

کنوینر مادرملتؒ سنٹر پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکیم الامت، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ گزشتہ صدی کی ایک عظیم شخصیت تھے۔آپ عظیم مفکر، بے مثال دانشور، دلوں کو چھو نے والی شاعری کے خالق، ماہر معاشیات،بہت بڑے عاشق رسولؐ، نمودونمائش سے پاک اور امت مسلمہ کے بہت بڑے خیر خواہ تھے۔

بیگم خالدہ جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کے ہاں جذبہ اور خیالات میں مثالی ہم آہنگی پائی جاتی ہے،ان کے قلب ونظر کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو ایمان ویقین کے نور سے روشن نہ ہوا ہو۔ان کا اندازِ نظر مومنانہ تھا۔

شاہد رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کے فلسفے کا نچوڑ جہدِ مسلسل ہے۔ ان کی ولولہ انگیز شاعری نے مسلمانانِ ہند کے تنِ مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی تھی اور انہیں حریت فکر سے آشنا کردیا تھا۔لہٰذا ہمیں کسی بھی طرح کے حالات میں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ ہم موجودہ صورتحال سے نہ صرف بہت جلد نکلیں گے بلکہ ایک نئی طاقت کیساتھ سامنے آئیں گے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -