نجی تعلیمی ادارے اور اُن کے مسائل!

نجی تعلیمی ادارے اور اُن کے مسائل!

  

تعلیم اور تعلیمی نظام دونوں ہمیشہ سے میرے محبوب ترین موضو عِ رہے ہیں۔شاید اس کی وجہ میرا بحیثیت استاد ایک طویل ترین سفر ہے جو مجھے آج بھی لندن کی ایک اہم ترین یو نیورسٹی سے بحیثیت استاد منسلک کیے ہوئے ہے۔ جب کبھی تعلیمی ا نحطاط یا پھر اس کی بہتری کی بات ہوتی ہے تو میرے دل میں عجیب سی بے چینی اور قلم میں ْجنبش ہونے لگتی ہے اور ہاتھ خود بخود لکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ دلِ مضطرب خود بخود تجربات کی ز نبیل سے کچھ نہ کچھ نکال کر قوم کی خدمت میں پیش کرنے کو مچل اْٹھتا ہے…… گزشتہ دنوں نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے مسائل کی ایک لمبی چوڑی فہرست میری نظر سے گزری، جس میں نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے بڑی درد مندی سے حکومت کی نظر ان مسائل اور مشکلات کی طرف مبذول کروائی گئی تھی۔ اس فہرست میں بہت سے مسائل زیر بحث تھے، مگر ان میں سے چند نکات انتہائی اہم ہیں، جن سے پاکستانی قوم کا مستقبل جڑا ہے۔میری رائے میں حکومت کا ان مسائل کو جاننا، سمجھنا، ان مسائل کو ٹھنڈے دل سے ْسننا اور ان کو حل کرنا جدید دور کی اہم ترین ضرورت ہے……ان نکات میں سب سے پہلی بات جس کا ذکر ضروری ہے، وہ کچھ یوں تھا کہ حکومت نجی تعلیمی اداروں، یعنی نجی سکولوں، نجی کالجوں، بالخصوص نجی یو نیورسٹیوں کو تعلیمی پالیسی بنانے جیسے اہم مر حلے میں سرے سے ہی شریک نہیں کرتی اور نہ ہی ان کو کسی بھی مشاورت میں شریک کیا جاتا ہے جو میرے نزدیک انتہاء درجے کی لا پرواہی اور حما قت ہے۔ اس کی بے شمار وجوہات ہیں، جس کا ذکر مَیں آگے چل کر ضرور کروں گا، مگر اس سے پہلے اتنا جان لیجئے کہ پا کستان کے سوادنیا بھر میں حکومت کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں کو مشاورت اور تعلیمی پالیسی بنانے جیسے اہم معا ملات میں پوری طرح شامل کیا جاتا ہے جس کا مقصد نجی تعلیمی اداروں کے اسا تذ ہ اور تعلیمی ماہرین کے تجربات اور ان کی گراں قدرعلمی خدمات سے فائدہ اٹھانا اور ملک و قوم کے لئے ایک جامع پا لیسی ترتیب دینا ہوتا ہے،پھر اسی مرتب شدہ پالیسی کے ذریعے ملک و ملت کے بہترین مستقبل کے لئے اہداف طے اور حا صل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، یعنی آپ جس طرح کی قوم آج سے پانچ سال بعد دیکھنا چاہتے ہیں، آپ اسی طرح کا نظام تعلیم نافذ کریں گئے اور اسی طرح کے اہداف مقرر کریں گئے۔

حکومت برطانیہ کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کو بھی اہم سٹیک ہو لڈرز کی حیثیت سے مدعو کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پالیسی بنانے سے ایک یا دو سال قبل ہی ان تمام تعلیمی اداروں کے نمائندوں کو ایک چھت تلے اکٹھا کیا جا تا ہے اورایک یا دو سال کے طویل مدِتی ایجنڈے کے بعد جو پالیسی منظور کرنا مقصود ہو، اس کے کئی مفروضے بنائے جاتے ہیں اور ان کو ان تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی رائے اور راہنمائی کے بعد قا نون کی روشنی میں منظور کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا،بلکہ آنے والے نئے تعلیمی نظام کے بارے میں مکمل راہنمائی کا کتابچہ بھی جاری کیا جاتا ہے، پھر ان تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے سٹاف کو تر بیت کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ پورے ملک میں نہ صرف یکساں نظامِ تعلیم قائم کیا جا سکے، بلکہ تمام تعلیمی اداروں کو سالانہ رپور ٹنگ اور آڈٹ کے ذریعے قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ اب اگر نجی تعلیمی ادارے ایک بڑی سرمایہ کاری کے بعد ملک و ملت کی خدمت سر انجام دینا چاہتے ہیں تو اس میں حکومت کو ان کے ساتھ تعاون کرکے ملک و ملت کا مستقبل بچانا ہوگا۔ مَیں درحقیقت سرکاری سطح پر تعلیمی اداروں، طالب علموں اور تعلیم کی سر پرستی کا قائل ہوں،مگر موجودہ حالات میں نجی تعلیمی اداروں کو پاکستان کے لئے کسی حد تک نا گزیر بھی سمجھتا ہوں، جس کی چند اہم و جو ہات ہیں، جن کا ذکر مَیں نے اسی تناظر میں کالم کے شروع میں کیا تھا۔ ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ نجی تعلیمی ادارے پاکستان میں روزگار کے بہترین مواقع، معاشی بہتری میں تعاون، سرمایہ کاری میں اضافہ، پاکستان کے شعبہ جات میں ماہرین کا اضافہ، صنعت اور کاروبار کو بہترین اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی کھیپ فراہم کرنا…… سب کچھ سرکاری اداروں کے بعد انہی نجی اداروں کے تعاون کا نتیجہ ہے۔

مَیں اس بات پر ہمیشہ زور دیتا ہوں کہ سرکاری سطح پر مدد اور راہنمائی کے ذریعے سرکاری تعلیمی اداروں کو اوپر اٹھنا اور ان کی اصل حالت میں بہتری لانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ملک میں جہاں طالب علم، تعلیمی ادارے، اساتذہ اس سارے تعلیمی نظام کے حصہ دار ہیں، وہاں صنعتکار اور کاروباری طبقے کو بھی اس نظام کا اہم ترین جزو اور برطانیہ کی طرح تعلیمی اداروں کے ایڈوائزری پینل میں ہونا چائیے،نیز ان کی سفارشات کو نئے کورسز مرتب کرتے وقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ مجھے اْمید ہے کہ شفقت محمود صاحب اپنی روائتی سسْت روی اور لاپرواہی کو کچھ دن کی چھٹی عنایت فرما کر اور میدان عمل میں اْتر کر نجی تعلیمی اداروں کے مسائل اور ان اہم معا ملات کا بغور جائزہ لے کر ان کو جلد سے جلد حل کریں گے اور ملک و قوم کی ترقی میں ہر شخص اور ادارے کو حصہ ڈالنے کا موقع فراہم کریں گئے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -