دنیا بھرمیں کلینیکل ٹرائل کے بعد کورونا وائرس کیخلاف موثر دوا مل گئی،امریکی حکام نے اب تک کا سب سے بڑا دعویٰ کردیا

دنیا بھرمیں کلینیکل ٹرائل کے بعد کورونا وائرس کیخلاف موثر دوا مل گئی،امریکی ...
دنیا بھرمیں کلینیکل ٹرائل کے بعد کورونا وائرس کیخلاف موثر دوا مل گئی،امریکی حکام نے اب تک کا سب سے بڑا دعویٰ کردیا

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا کو اس وقت جس چیز کا سب سے زیادہ شدت سے انتظار ہے وہ ہے کورونا ویکسین،اور امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ریمڈیسیور نامی دو اسے کووڈ 19کے مریض صحتیاب ہوسکتے ہیں۔ امریکیوں کے مطابق اس حوالے سے ان کے پاس واضح ثبوت بھی موجود ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ دوا کے دنیا بھر کے مختلف ہسپتالوں میں کلینیکل ٹرائل سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریمیڈیسیور کورونا وائرس کی علامات کے دورانیے کو 15 سے 11 دنوں تک محدود کر دیتی ہے۔ 

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا میں اس دوا کی ہنگامی بنیادوں پر استعمال کی منظوری دی جاسکتی ہے۔

امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاؤسی (Dr. Anthony Fauci) کا کہنا ہے کہ کورونا کے لیے تجویز کردہ دوا مریضوں کی جلد صحتیابی میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

بی بی  سے کے مطابق اگرچہ اس دوا کےکلینیکل ٹرائلز سے متعلق  مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ بڑی پیشرفت ہوگی البتہ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس دوا کا جادوئی اثر نہیں ہے اور اس کے اثرات ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے۔

پھر اسے دوا کا کیا فائدہ ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر اس دوا کے اثرات کی تصدیق کردی جاتی ہے تو اس سے بہرحال جانیں بچانے، ہسپتالوں سے دباؤ کم کرنے اور لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے جیسے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ دوا دراصل ایبولا وائرس کے علاج کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ ایک اینٹی وائرل دوا ہے جو اس اینزائم پر حملہ کرتی ہے جس کے ذریعے وائرس کو خلیوں میں تیزی سے تعداد میں اضافے میں مدد ملتی ہے۔

اس حوالے سے کی جانے والی آزمائش امریکہ کے قومی ادارہ برائے الرجی اور متعدی امراض میں کی گئی جس 1063 افراد نے حصہ لیا۔ کچھ مریضوں کو یہ دوا دی گئی جبکہ کچھ پلاسیبو یعنی بے ضرر دوا دی گئی۔

ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی جو اس ادارے کے سربراہ ہیں کا کہنا تھا کہ ’اعداد و شمار کے مطابق ریمڈیسیور کا مریض کے صحتیاب ہونے کے وقت میں کمی میں واضح، اہم اور مثبت اثر ہے۔

انھوں نے کہا کہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ ’ایک دوا اس وائرس کو روک سکتی ہے‘ اور یہ مریضوں کے علاج کے لیے ہماری صلاحیت میں اضافے کے لیے راہ ہموار کرے گی۔‘

تاہم ابھی اس دوا کا اموات پر اثر واضح نہیں ہے۔ وہ افراد جنھیں ریمیڈریسور دی گئی ان میں اموات کی شرح آٹھ فیصد تھی جبکہ جن لوگوں کو ایک بے ضرر دوا دی گئی ان میں اموات کی شرح 11 اعشاریہ چھ فیصد تھی۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اگرچہ دنیا کے کچھ ممالک میں کمی دیکھنے کو ملی ہے تاہم ہلاکتوں کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔

واضھ رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 31 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہے۔

امریکہ میں چند ہی مہینوں میں کورونا وائرس کا شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد 20 سال تک جاری رہنے والی ویتنام جنگ میں مرنے سے بڑھ گئی ہے۔

دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ میں کل متاثرین کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

بیجنگ سمیت شمالی چین کے گنجان آبادی والے علاقوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے کی جانے والی سختیوں میں آج سے نرمی کر دی جائے گی۔

برطانوی حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اگلے پانچ برس کے دوران کووڈ 19 کی ویکسین پر بین الاقوامی تحقیق اور کوششوں کے لیے 1.5 ارب پاؤنڈ خرچ کریں گے۔

مزید :

بین الاقوامی -تعلیم و صحت -کورونا وائرس -