کیا واقعی کورونا وائرس چینی لیبارٹری میں تیارہوا؟ نوبل انعام یافتہ جاپانی سائنسدان کا موقف سامنے آگیا

کیا واقعی کورونا وائرس چینی لیبارٹری میں تیارہوا؟ نوبل انعام یافتہ جاپانی ...
کیا واقعی کورونا وائرس چینی لیبارٹری میں تیارہوا؟ نوبل انعام یافتہ جاپانی سائنسدان کا موقف سامنے آگیا

  

ٹوکیو(ڈیلی پاکستان آن لائن)جاپان کے نوبل انعام یافتہ سائنسدان تاسوکو ہونجوسے متعلق ایک بیان سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر گردش کررہا ہے جس میں کہا جا رہا کہ کورونا وائرس چین کی لیبارٹری میں انسانوں نے بنایاہے۔

ان خبروں پر تاساکو ہونجو کاردعمل سامنے آیا ے جس میں انہوں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور من گھڑت قراردیا ہے۔

اس خبر کو کئی زبانوں میں ترجمہ کر کے پھیلایا گیا ہے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اس غلط بیانی کی وجہ سے انہیں کافی  پریشانی ہوئی ہےکیونکہ جھوٹی خبر ان کا نام لے کر چلائی جارہی ہے۔

بی بی سی کے مطابق 2018 میں فزیکس یا میڈیسن میں نوبل انعام جیتنے والے تاسوکونے کہا ہے کہ ’اس موقع پر ہمیں بیمار افراد کی صحتیابی پر محنت کرنی چاہیے اور دُکھ ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں ایک نئے آغاز کی طرف دیکھنا ہے۔ بیماری کی بنیاد کے حوالے سے ایسے غلط دعوؤں کو نشر کرنے سے ہم اس وبا سے خطرناک طریقے سے دھیان ہٹا رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ سازشی نظریات کو فروغ دینے والوں نے شروع سے اس خیال کو اپنایا ہے کہ وائرس انسانوں نے بنایا۔ یہ نظریہ سوشل میڈیا پر کئی جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔تاہم  سائنسدانوں نے اس نظریے کو  مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے  کہ کورونا وائرس کا جائزہ لینے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جانوروں سے انسانوں میں داخل ہوا اسے کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا ہے۔

مزید :

کورونا وائرس -